کراچی: کراچی کی ایک عدالت نے منشیات اور مبینہ معاونت سے متعلق دو مقدمات میں پنکی کے نام سے معروف انمول کو بری کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ استغاثہ کی جانب سے ملزمہ کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکامی کے بعد سنایا۔
جمعے کے روز کراچی جنوبی کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے ناکافی شواہد کی بنیاد پر ملزمہ کی بریت کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے فیصلہ سنایا۔
عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اگر انمول کسی دوسرے زیرِ التوا مقدمے میں مطلوب نہیں ہیں تو انہیں فوری طور پر رہا کر دیا جائے۔
انمول، جنہیں بعض میڈیا رپورٹس میں ’’کوکین کوئین‘‘ بھی کہا گیا ہے، منشیات سے متعلق سرگرمیوں کے الزامات کے تحت متعدد مقدمات کا سامنا کر چکی ہیں۔
تاہم جمعے کو فیصلہ کیے جانے والے دونوں مقدمات میں استغاثہ الزامات کی تائید میں خاطر خواہ شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا۔
انمول کے بھائی ناصر کو بھی اس سے قبل منشیات کی برآمدگی سے متعلق اسی مقدمے میں بری کیا جا چکا ہے۔
تازہ عدالتی فیصلے کے بعد انمول اب مجموعی طور پر پانچ مقدمات میں بری ہو چکی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے بھی 2018 میں انمول کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا تھا۔
تاہم دستیاب معلومات سے یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس مقدمے کی موجودہ قانونی حیثیت کیا ہے اور آیا یہ مقدمہ بھی ان مقدمات میں شامل تھا جن میں انہیں بری کیا جا چکا ہے۔
تازہ عدالتی فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ استغاثہ دونوں مقدمات میں الزامات ثابت کرنے کے لیے قانون کے مطابق مطلوبہ شواہد پیش نہیں کر سکا، جس کے نتیجے میں عدالت نے انمول کو بری کر دیا۔
فوجداری قانون کے تحت کسی بھی ملزم کو مجرم قرار دینے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے خلاف عائد الزامات کی تائید میں کافی اور قانونی طور پر قابلِ قبول شواہد موجود ہوں۔
عدالت کی جانب سے انمول کی رہائی کا حکم اس شرط سے مشروط ہے کہ وہ کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہ ہوں۔





