پشاور: خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی مبینہ جعلی رجسٹریشن اور قواعد کے برخلاف تقرریوں کے الزامات پر محکمانہ کارروائی مکمل کرنے کے بعد 30 میڈیکل افسران کو سرکاری ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔
محکمہ صحت نے 9 اکتوبر 2026 کو خیبر پختونخوا گورنمنٹ سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2011 کے تحت ہر افسر کی برطرفی کا الگ نوٹیفکیشن جاری کیا۔
نوٹیفکیشنز کے مطابق متعلقہ افسران پر مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے تقرریاں حاصل کرنے یا پی ایم ڈی سی کی جعلی رجسٹریشن استعمال کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
صوبائی چیف سیکریٹری نے مجاز اتھارٹی کی حیثیت سے انضباطی قواعد کی شق 7 کے تحت متعلقہ افسران کو ابتدائی طور پر شوکاز نوٹس جاری کیے، جن میں ملازمت سے برطرفی کی سزا تجویز کی گئی تھی۔
بعد ازاں متعلقہ افسران کو الزامات کا جواب دینے اور ذاتی سماعت کے دوران اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔
شواہد، تحریری وضاحتوں اور سماعت کرنے والے افسران کی رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد مجاز اتھارٹی نے قواعد کی شق 14(5) کے تحت ملازمت سے برطرفی کی بڑی سزا کی توثیق کر دی۔
نوٹیفکیشنز میں برطرف کیے گئے افسران سے بقایا سرکاری واجبات اور انہیں کی گئی ادائیگیوں کی وصولی کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔
اس کارروائی سے خیبر پختونخوا کے مختلف سرکاری ہسپتالوں اور طبی مراکز میں تعینات میڈیکل افسران متاثر ہوئے ہیں، جن میں پشاور، سوات، مالاکنڈ، شانگلہ، اپر دیر اور دیگر اضلاع کے طبی ادارے شامل ہیں۔
متاثرہ طبی اداروں میں تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال اور دیہی مراکز صحت بھی شامل ہیں۔
ان برطرفیوں کے بعد صوبے کے سرکاری صحت کے نظام میں ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ رجسٹریشن کی تصدیق اور بھرتیوں کے طریقہ کار سے متعلق سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
سرکاری نوٹیفکیشنز کے مطابق متعلقہ افسران کو محکمانہ کارروائی مکمل ہونے کے بعد ملازمت سے برطرف کیا گیا ہے۔ تاہم ان دستاویزات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ تمام متعلقہ افراد کو کسی فوجداری مقدمے میں عدالت کی جانب سے بھی مجرم قرار دیا گیا ہے۔





