لاہور: پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعے کو ڈیفنس میں بھٹہ چوک کے قریب ایک بینک سے سات لاکھ روپے لوٹنے والے نوجوان کو چند گھنٹوں کے اندر اس کے گھر سے گرفتار کرلیا گیا۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق سبحان نامی ملزم کا سراغ سیف سٹی اور نجی سکیورٹی کیمروں کی فوٹیج سے لگایا گیا۔
کامران نے بتایا کہ صبح تقریباً ساڑھے نو بجے ایک نقاب پوش شخص بینک میں داخل ہوا، سکیورٹی گارڈ کو یرغمال بنایا اور اسے ساتھ لے کر کیش کاؤنٹر تک پہنچا۔ وہ مبینہ طور پر رقم جمع کرکے چند منٹ میں فرار ہوگیا۔
پولیس کے مطابق پندرہ ہیلپ لائن پر اطلاع ملنے کے بعد ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ کیمروں کی مدد سے اہلکار ملزم کے گھر پہنچے، جو بینک سے چند منٹ کی مسافت پر تھا۔
ڈی آئی جی نے کہا کہ چھاپے میں لوٹی گئی رقم، پستول اور بریف کیس برآمد ہوا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملزم نے شناخت چھپانے کے لیے گاڑی کی نمبر پلیٹیں تبدیل کی تھیں اور اسلام آباد جانے کی تیاری کررہا تھا۔
کامران کے مطابق سبحان سولہ ستمبر کو برطانیہ سے پاکستان آیا تھا اور لاہور میں اکیلا رہ رہا تھا، جبکہ اس کا خاندان برطانیہ میں مقیم ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ساتھ بارہ سو پاؤنڈ لایا تھا، جو خرچ ہونے کے بعد اس نے خاندان سے مزید رقم مانگی۔ ڈی آئی جی کے مطابق خاندان کے انکار پر اس نے ڈکیتی کی منصوبہ بندی کی۔
پولیس نے آن لائن گیمنگ اور ویب سیریز کے مبینہ اثرات کا بھی ذکر کیا۔ کامران کے مطابق ملزم نے تفتیش میں پب جی کے ذریعے بینک لوٹنے کا ’’ٹاسک‘‘ ملنے اور طریقے سیکھنے کا دعویٰ کیا۔
تاہم پب جی سے تعلق پولیس اور ملزم سے منسوب بیان ہے۔ رپورٹ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ گیم نے خود ایسی ہدایات جاری کیں۔
گرفتاری اور برآمدگی کی تفصیلات پولیس نے جاری کی ہیں، جبکہ ملزم کے خلاف الزامات کا فیصلہ عدالت میں ہونا باقی ہے۔





