اسلام آباد: حنا جاوید قتل کیس کی تحقیقات میں سامنے آنے والے نئے فرانزک شواہد نے ان کی موت کے حالات سے متعلق مزید سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ڈی این اے کے نمونوں کی جانچ میں ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن کا تعلق ان کے شوہر فیصل اصغر اور گھریلو ملازم ذیشان ارشد سے بتایا جا رہا ہے۔
ڈی این اے رپورٹ کے خلاصے میں دی گئی تفصیلات کے مطابق فیصل اصغر کا ڈی این اے چار مختلف مقامات سے حاصل کیے گئے نمونوں سے میچ ہوا، جبکہ ذیشان ارشد کا ڈی این اے مبینہ طور پر حنا جاوید کے ناخنوں کے نیچے سے ملنے والے حیاتیاتی مواد سے میچ ہوا ہے۔
رپورٹ میں فنگر پرنٹس سے متعلق شواہد کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن کے مطابق فیصل اصغر کی انگلیوں کے نشانات مبینہ طور پر جائے وقوعہ پر موجود مختلف اشیا اور مقامات سے ملے ہیں۔ ان میں مقتولہ کی گردن، کپڑے، کمرے کے دروازے کا ہینڈل اور واقعے کے دوران مبینہ طور پر استعمال ہونے والی ایک چادر شامل ہیں۔
تاہم فرانزک شواہد میں سامنے آنے والے ان مبینہ نتائج سے کسی بھی مشتبہ شخص کا جرم خودبخود ثابت نہیں ہوتا۔ تفتیشی حکام کو یہ تعین کرنا ہوگا کہ حیاتیاتی مواد کب اور کن حالات میں متعلقہ مقامات پر منتقل ہوا، جبکہ عدالتیں دیگر شواہد کے ساتھ ان نتائج کا بھی جائزہ لیں گی۔
تازہ پیش رفت کے بعد حنا جاوید کے اہلِ خانہ نے ایک مرتبہ پھر شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
حنا جاوید کے بھائی فہد جاوید نے پولیس کی تحقیقات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ تفتیشی حکام فیصل اصغر سے متعلق مبینہ فرانزک شواہد کے باوجود قتل کی تمام ذمہ داری گھریلو ملازم ذیشان ارشد پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اہلِ خانہ نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مقدمے کی آزادانہ تحقیقات کے لیے ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے، جو اس بات کا بھی جائزہ لے کہ ابتدائی تفتیش درست طریقے سے کی گئی تھی یا نہیں۔
اس مقدمے نے تشدد اور ممکنہ جسمانی حملے کے الزامات سے متعلق تحقیقات میں فرانزک شواہد کو جمع کرنے، محفوظ رکھنے اور ان کے استعمال کے طریقہ کار کے حوالے سے بھی نئے خدشات پیدا کیے ہیں۔
اگرچہ سامنے آنے والے فرانزک نتائج مبینہ جسمانی رابطے اور واقعے کے حالات کا تعین کرنے میں اہم ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم دستیاب معلومات سے یہ آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوتی کہ قتل کے علاوہ کوئی الگ جسمانی حملہ بھی ہوا تھا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) نے مقدمے کی ازسرِنو تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ایڈیشنل انسپکٹر جنرل سہیل ظفر چٹھہ کی سربراہی میں قائم ٹیم نے ڈی این اے رپورٹ، پوسٹ مارٹم رپورٹ، جائے وقوعہ سے جمع کیے گئے شواہد اور سابقہ تفتیش کے طریقہ کار کا جائزہ لیا ہے۔
توقع ہے کہ نئی تحقیقات کے دوران فرانزک شواہد کے ساتھ گواہوں کے بیانات اور دیگر دستیاب معلومات کا بھی جائزہ لیا جائے گا، تاکہ واقعات کی ترتیب واضح کی جا سکے اور زیرِ تفتیش افراد کے خلاف عائد الزامات کی جانچ کی جا سکے۔
حنا جاوید کے اہلِ خانہ کے تحفظات اور مبینہ فرانزک نتائج کے سامنے آنے کے بعد پولیس کی تحقیقات مزید سوالات کی زد میں آ گئی ہیں۔
خصوصاً اس حوالے سے سوالات برقرار ہیں کہ ابتدائی تحقیقات کے دوران شواہد کس طرح جمع کیے گئے، ان کی تشریح کیسے کی گئی اور انہیں تفتیش میں کس حد تک استعمال کیا گیا۔
اب تک سامنے آنے والے فرانزک نتائج کی بنیاد پر کسی بھی شخص کی مجرمانہ ذمہ داری کا حتمی عدالتی تعین نہیں ہوا ہے۔
حنا جاوید کے اہلِ خانہ بدستور آزادانہ اور شفاف تحقیقات کے ساتھ قانونی کارروائی کے ذریعے ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔





