بٹگرام: خیبر پختونخوا کے ضلع بٹگرام کی تحصیل آلائی میں جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والے پانچ سالہ بچے کے اہلِ خانہ پر مبینہ تشدد کے الزام میں پولیس نے ایک سب انسپکٹر سمیت سات افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق رواں ہفتے کے آغاز میں پانچ سالہ بچے کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا۔
بعد ازاں بچے کے اہلِ خانہ نے واقعے کی شکایت درج کرائی اور معاملے کو میڈیا کے سامنے بھی اٹھایا۔
پولیس کے مطابق ملزم کے رشتہ داروں نے شکایت درج کرانے اور واقعے کی میڈیا کوریج پر مبینہ طور پر بچے کے اہلِ خانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) قمر حیات خان نے روزنامہ ڈان کو بتایا کہ الزامات کی تحقیقات کے لیے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) امجد علی کو انکوائری افسر مقرر کیا گیا ہے۔
انہوں نے تصدیق کی کہ سب انسپکٹر نعیم اللہ کو معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ ان سمیت سات افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
دیگر چھ ملزمان کی شناخت عامر، وقاص، ایوب، رخ اسلام، عبداللہ اور عبدالوہاب کے ناموں سے ہوئی ہے۔
ڈی پی او کے مطابق مبینہ تشدد میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے پولیس ٹیمیں کارروائیاں کر رہی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ واقعے کے بعد متاثرہ بچے کے اہلِ خانہ کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے سکیورٹی بھی دی جائے گی۔
مبینہ تشدد کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم پولیس نے تاحال واقعے کے مزید حالات و واقعات یا ہر ملزم کے خلاف عائد الزامات کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔





