لاہور: جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے پیر کو خبردار کیا ہے کہ اگر وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرولیم لیوی ختم نہ کی یا ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے لیے اقدامات نہ کیے تو ان کی جماعت نومبر کے وسط میں اسلام آباد کی جانب مارچ کرے گی۔
26 اکتوبر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعتِ اسلامی نے بین الاقوامی حالات کے پیشِ نظر تحمل کا مظاہرہ کیا، تاہم حکومت نے مطالبات پر عمل نہ کیا تو احتجاجی مہم میں شدت لائی جائے گی۔
انہوں نے کہا، ’’اگر وزیراعظم ریلیف نہیں دیتے، پیٹرولیم لیوی ختم نہیں کرتے یا کوئی اقدامات نہیں اٹھاتے تو ہم نومبر کے وسط میں پوری قوت کے ساتھ اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے۔‘‘
جماعتِ اسلامی گزشتہ دو ماہ سے زائد عرصے سے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ پارٹی کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے نے صارفین پر مالی بوجھ بڑھا دیا ہے۔
جماعتِ اسلامی کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت پیٹرول پر فی لیٹر 114 روپے اور ڈیزل پر فی لیٹر 100 روپے کی لیوی وصول کر رہی ہے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے لیے یہ محصولات ختم کیے جانے چاہییں۔
یہ انتباہ جماعتِ اسلامی اور وفاقی حکومت کے درمیان وزیراعظم شہباز شریف اور حافظ نعیم الرحمٰن کی مجوزہ ملاقات کے حوالے سے دوبارہ رابطے ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔
اتوار کو جماعتِ اسلامی نے بتایا تھا کہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیراعظم کے معاونِ خصوصی رانا ثناء اللہ نے جماعت کے نائب امیر لیاقت بلوچ سے رابطہ کیا ہے۔
پارٹی کے مطابق دونوں فریقوں نے اتفاق کیا کہ وزیراعظم اور جماعتِ اسلامی کے امیر کے درمیان دو روز کے اندر ملاقات ہوگی۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے تسلیم کیا کہ حکومتی نمائندوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مجوزہ ملاقات میں ممکنہ اقدامات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے کام جاری ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جماعتِ اسلامی ٹھوس نتائج کے بغیر مذاکرات قبول نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا، ’’ہم نے کبھی ملاقات سے انکار نہیں کیا، لیکن حکومت پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم محض ایک تقریب منعقد کرنے کے لیے ملاقات نہیں کرنا چاہتے۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ جماعتِ اسلامی اپنے مطالبات پہلے ہی حکومت تک پہنچا چکی ہے اور اب مزید یقین دہانیوں کے بجائے عملی اقدامات کی توقع رکھتی ہے۔
پیٹرولیم لیوی ایندھن پر عائد ایک وفاقی محصول ہے، جو درآمدی پیٹرولیم مصنوعات کی بنیادی قیمت سے الگ وصول کیا جاتا ہے۔ یہ حکومتی آمدن کا ایک ذریعہ ہے اور صارفین کی جانب سے ادا کی جانے والی حتمی قیمت میں شامل ہوتا ہے۔
پاکستان میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں، شرحِ مبادلہ اور مقامی ٹیکسوں میں تبدیلی پیٹرولیم مصنوعات کی خوردہ قیمتوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔
رواں سال کے آغاز میں مشرقِ وسطیٰ میں تنازع بڑھنے کے بعد توانائی کی عالمی منڈی میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے پیٹرولیم لیوی سے متعلق اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
جماعتِ اسلامی کا مؤقف ہے کہ لیوی میں کمی یا اس کے خاتمے سے ٹرانسپورٹ اور گھریلو اخراجات میں اضافے کا سامنا کرنے والے صارفین کو ریلیف مل سکتا ہے۔
دوسری جانب یہ معاملہ وفاقی حکومت کے مالی معاملات سے بھی جڑا ہوا ہے، کیونکہ پیٹرولیم لیوی ختم کرنے سے ایندھن کی فروخت کے ذریعے حاصل ہونے والی سرکاری آمدن کم ہو جائے گی۔ اس لیے اس حوالے سے کسی بھی فیصلے کے اثرات صارفین کی قیمتوں کے ساتھ حکومتی مالی وسائل پر بھی مرتب ہوں گے۔
جماعتِ اسلامی کی حکومتی فیول ریلیف اسکیم پر تنقید
حافظ نعیم الرحمٰن نے ستمبر میں وفاقی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ فیول ریلیف پیکیج پر بھی تنقید کی اور کہا کہ یہ گھریلو صارفین اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد پر پڑنے والے مالی دباؤ کو مناسب طور پر کم نہیں کرتا۔
اس اسکیم کے تحت موٹر سائیکلوں اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے مالکان کو ماہانہ 20 لیٹر کی حد تک فی لیٹر 100 روپے ریلیف دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔
اسی طرح 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو ماہانہ 30 لیٹر کی حد تک فی لیٹر 100 روپے ریلیف کی سہولت دی گئی تھی۔
حکومت نے یہ پروگرام عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے مخصوص اقسام کی گاڑیوں کے مالکان کے لیے متعارف کرایا تھا۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے دعویٰ کیا کہ اس اسکیم میں کئی طبقات شامل نہیں، جن میں دیگر گاڑیوں کے مالکان اور پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے افراد بھی شامل ہیں۔
انہوں نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے سامان کی نقل و حمل کے اخراجات بڑھے ہیں، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
جماعتِ اسلامی کا کہنا ہے کہ مخصوص صارفین کو دی جانے والی ایندھن کی سبسڈی ٹرانسپورٹ اور سامان کی ترسیل کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے وسیع معاشی اثرات کا مکمل حل نہیں ہے۔
احتجاج اور مذاکرات کا پس منظر
جماعتِ اسلامی کی جانب سے تازہ انتباہ وفاقی حکومت کے ساتھ کئی ماہ سے جاری احتجاجی سرگرمیوں اور مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے۔
16 اگست کو جماعتِ اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف پاکستان کے تمام صوبائی دارالحکومتوں میں دھرنوں کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں پارٹی نے 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کی کال بھی دی۔
تاہم مجوزہ ہڑتال کے موقع پر حکومت اور جماعتِ اسلامی کے درمیان کمیٹیاں تشکیل دینے پر اتفاق ہوا، جنہیں پیٹرولیم لیوی میں کمی کے لیے تجاویز تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔
20 ستمبر کو جماعتِ اسلامی نے اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ شروع کیا اور خبردار کیا کہ اگر حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو احتجاجی تحریک کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔
دو روز بعد حافظ نعیم الرحمٰن نے اعلان کیا کہ ملتان پہنچنے والے مارچ کو وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر مؤخر کیا جا رہا ہے۔
جماعتِ اسلامی کے مطابق وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی تھی کہ پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر بات چیت کے لیے ملاقات کا اہتمام کیا جائے گا۔
تاہم گزشتہ ہفتے جماعتِ اسلامی نے الزام عائد کیا کہ وعدے کے باوجود حکومت نے مجوزہ ملاقات کے حوالے سے مزید کوئی رابطہ نہیں کیا۔
بعد ازاں وفاقی وزرا اور لیاقت بلوچ کے درمیان ہونے والے رابطوں سے مذاکرات کی راہ دوبارہ ہموار ہوئی ہے۔
ان رابطوں کے باوجود جماعتِ اسلامی نے احتجاج کی کال برقرار رکھی ہے اور واضح کیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کا مطالبہ تبدیل نہیں ہوا۔
مذاکرات کا اگلا مرحلہ
حافظ نعیم الرحمٰن اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان مجوزہ ملاقات میں یہ طے ہونے کی توقع ہے کہ آیا دونوں فریق ایندھن کی قیمتوں سے متعلق کسی اقدام پر اتفاق کر سکتے ہیں یا نہیں۔
وفاقی حکومت اس سے قبل مخصوص طبقات کے لیے ریلیف کا اعلان کر چکی ہے اور پیٹرولیم لیوی میں کمی کے حوالے سے مذاکرات میں بھی شریک رہی ہے، جبکہ جماعتِ اسلامی اس کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
تاحال پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کے حوالے سے کسی معاہدے کا اعلان نہیں ہوا۔
جماعتِ اسلامی کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات میں اس کے لیے قابلِ قبول نتیجہ سامنے نہ آیا تو پارٹی نومبر کے وسط میں اسلام آباد کی جانب مجوزہ مارچ کرے گی۔
اس تنازع کے باعث ایندھن پر عائد محصولات، حکومتی آمدن کی ضروریات اور شہریوں کے سفری و گھریلو اخراجات وفاقی حکومت اور جماعتِ اسلامی کے درمیان مذاکرات کے اگلے مرحلے کے مرکزی موضوعات بن گئے ہیں۔





