پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے منگل کے روز کشمیری عوام کے لیے پاکستان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کو ترجیح دے۔
27 اکتوبر کو یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ 1947 میں بھارتی افواج کا کشمیر میں داخل ہونا خطے کی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ دن کشمیری عوام کے لیے تاریخ کے ایک ’’سیاہ باب‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے، جو کشمیر میں بھارتی فوجی موجودگی اور خطے کی سیاسی حیثیت سے متعلق دیرینہ تنازع کی یاد دلاتا ہے۔
پاکستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہر سال 27 اکتوبر کو یومِ سیاہ کشمیر منایا جاتا ہے۔ یہ دن 1947 میں بھارتی افواج کی جموں و کشمیر میں آمد کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
گورنر کنڈی نے کہا کہ یومِ سیاہ کشمیر کشمیری عوام کی جدوجہد، قربانیوں اور حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے ان کے مسلسل عزم کی یاد دلاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کئی دہائیوں سے پابندیوں، مشکلات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہے ہیں، تاہم اپنے سیاسی حقوق کے حصول کے لیے ان کا عزم آج بھی برقرار ہے۔
گورنر نے واضح کیا کہ پاکستان سیاسی، سفارتی اور بین الاقوامی سطح پر کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام، ملک کے دیگر حصوں کی طرح، کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔
گورنر کنڈی نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مختلف حکومتیں اس تنازع کو مقامی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر مسلسل اجاگر کرتی رہی ہیں۔
علاقائی امن کے لیے مذاکرات ناگزیر
مسئلہ کشمیر کے مذاکرات کے ذریعے حل پر زور دیتے ہوئے گورنر کنڈی نے کہا کہ پاکستان امن کے قیام کے لیے پُرعزم ہے اور کشمیر کے تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا مستقل اور منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام کے لیے ضروری ہے، کیونکہ یہ علاقائی تنازع کئی دہائیوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا باعث بنا ہوا ہے۔
گورنر کنڈی نے پاکستان کے وسیع تر سفارتی کردار کا بھی ذکر کیا اور وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ان کوششوں کو سراہا جنہیں انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں سہولت فراہم کرنے کی کوششیں قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے پُرامن روابط، مذاکرات اور سفارتی اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔
گورنر نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو ایک اہم بین الاقوامی تنازع تسلیم کرتے ہوئے اس کے حل کے لیے مسلسل سفارتی توجہ دے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’’مسئلہ کشمیر بھی ایک اہم بین الاقوامی مسئلہ ہے اور عالمی سطح پر اس کے حل کو ترجیح دی جانی چاہیے۔‘‘
مسئلہ کشمیر کی تاریخ 1947 میں برصغیر کی تقسیم سے جڑی ہوئی ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں پورے خطے پر دعویٰ کرتے ہیں، تاہم اس کے مختلف حصے دونوں ممالک کے زیرِ انتظام ہیں۔
اقوام متحدہ ماضی میں اس تنازع کے حل پر زور دے چکی ہے، جبکہ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرتا رہا ہے۔
دوسری جانب بھارت کا مؤقف ہے کہ جموں و کشمیر اس کی سرزمین کا اٹوٹ انگ ہے اور وہ پاکستان کے ساتھ تصفیہ طلب معاملات کو دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی حمایت کرتا ہے۔
گورنر کنڈی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان بھر میں یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر سرکاری سطح پر بیانات جاری کیے گئے اور کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔
ان سرگرمیوں کے دوران مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے عالمی برادری کی مؤثر سفارتی کوششوں اور مذاکرات کے ذریعے پُرامن تصفیے کے مطالبات کا اعادہ کیا گیا۔





