اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے اتوار کو ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پارٹی کی کور کمیٹی کو فیصلہ سازی کے عمل میں غیر مؤثر کر دیا گیا ہے یا اس کے اختیارات واپس لے لیے گئے ہیں۔ پارٹی نے واضح کیا ہے کہ داخلی قیادت کے ڈھانچے میں کسی تبدیلی کی منظوری نہیں دی گئی۔
یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اپوزیشن جماعت کے اندر اختیارات کی ممکنہ ازسرِنو تقسیم، بالخصوص پارلیمانی کمیٹی کو مزید بااختیار بنانے کی تجاویز پر قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ اس بحث نے ایک بار پھر اس سوال کو اہم بنا دیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی قید کے دوران پارٹی میں سیاسی اور تنظیمی فیصلے کس طرح کیے جا رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ پارٹی کی کور کمیٹی، سیاسی کمیٹی اور پارلیمانی پارٹی الگ الگ فورمز ہیں اور ہر ایک کی ذمہ داریاں اور اختیارات واضح طور پر متعین ہیں۔
ان کے مطابق تنظیمی اور سیاسی معاملات کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، جبکہ پارلیمانی پارٹی قانون سازی، پارلیمانی امور اور منتخب نمائندوں سے متعلق معاملات کی ذمہ دار ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ پارلیمانی پارٹی کی سفارشات متعلقہ کمیٹیوں کو غور کے لیے بھجوائی جا سکتی ہیں، تاہم ان سفارشات کو ازخود حتمی فیصلے کی حیثیت حاصل نہیں ہوتی۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ تمام اہم فیصلوں کا حتمی اختیار عمران خان کے پاس ہے، جنہوں نے پارٹی کی مختلف کمیٹیوں کو مخصوص ذمہ داریاں اور اختیارات تفویض کر رکھے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما نعیم حیدر پنجوتھا نے روزنامہ ڈان کو بتایا کہ ایک داخلی اجلاس کے دوران بیرسٹر علی ظفر نے پارلیمانی کمیٹی کو مزید مضبوط بنانے کی تجویز پیش کی تھی، تاہم یہ محض ایک سفارش تھی جس کی باضابطہ منظوری نہیں دی گئی۔
پنجوتھا کے مطابق سیاسی کمیٹی کے قیام کی ایک اہم وجہ کور کمیٹی کے ارکان کی زیادہ تعداد تھی، جس کے باعث فیصلہ سازی میں مشکلات پیش آتی تھیں اور داخلی مشاورت کی تفصیلات افشا ہونے کا خدشہ بھی بڑھ جاتا تھا۔
موجودہ انتظام کے تحت سیاسی کمیٹی عمران خان کے تفویض کردہ اختیارات استعمال کرتی ہے، جبکہ اہم فیصلوں کو حتمی شکل دینے سے پہلے کور کمیٹی کو بھی اعتماد میں لیا جانا ضروری ہے۔
پارٹی میں زیرِ غور ایک اور تجویز کے مطابق مختلف تنظیمی شعبوں کے سربراہان کو بھی سیاسی کمیٹی میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
پنجوتھا نے پارٹی میں ذمہ داریوں کی موجودہ تقسیم کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کو سیاسی تحریک اور مذاکرات کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو سڑکوں پر احتجاجی تحریک کی قیادت کا اختیار دیا گیا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ عمران خان کی منظوری کے بغیر پارٹی کے بنیادی تنظیمی ڈھانچے میں کوئی تبدیلی کیسے کی جا سکتی ہے؟
کمیٹیوں کے اختیارات پر اختلاف کیوں اہم ہے؟
یہ معاملہ پی ٹی آئی کو درپیش ایک بڑے تنظیمی چیلنج کی نشاندہی کرتا ہے۔ پارٹی کے بانی کی قید کے دوران مختلف فورمز پارلیمانی امور، سیاسی حکمتِ عملی اور عوامی احتجاج کی ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں، جبکہ ان کے درمیان مؤثر رابطہ اور فیصلہ سازی کا تسلسل برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔
اگرچہ پارٹی قیادت کا مؤقف ہے کہ تمام کمیٹیوں کے اختیارات واضح ہیں، تاہم پارلیمانی کمیٹی کو مضبوط بنانے کی بحث نے منتخب نمائندوں اور تنظیمی قیادت کے درمیان اختیارات کی تقسیم سے متعلق سوالات کو جنم دیا ہے۔
یہ معاملہ سیاسی اعتبار سے اس لیے بھی اہم ہے کہ پارلیمانی حکمتِ عملی، مذاکرات اور احتجاجی تحریک سے متعلق فیصلوں کے لیے پارٹی کے مختلف فورمز کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہو سکتی ہے۔
پارلیمانی کمیٹی کو مزید اختیارات دینے سے منتخب نمائندوں کا پارٹی کی سیاسی سمت متعین کرنے میں کردار بڑھ سکتا ہے۔ تاہم پی ٹی آئی حکام کا اصرار ہے کہ اختیارات کی ایسی کوئی منتقلی نہیں ہوئی اور قیادت کا موجودہ انتظام بدستور برقرار ہے۔
دوسری جانب پارٹی نے اپنے عبوری چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان سے منسوب ایک بیان کی بھی تردید کی ہے۔
اس مبینہ بیان میں کہا گیا تھا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اگر مردان میں قیام کرتے تو گرفتاری سے بچ سکتے تھے، تاہم وہ ایک مبینہ پیشگی منصوبہ بندی کے تحت پشاور گئے۔
پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ بیرسٹر گوہر نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قید پر پی ٹی آئی کے تحفظات
دریں اثنا، پی ٹی آئی نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی طویل قید کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں آئینی اور بنیادی حقوق، قانونی معاونت، اہلِ خانہ سے ملاقاتوں اور مناسب طبی سہولتوں تک رسائی میں پابندیوں کا سامنا ہے۔
ایک بیان میں شیخ وقاص اکرم نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو قید میں 1,177 دن گزر چکے ہیں، جن میں سے 356 دن انہوں نے تنہائی میں گزارے، جبکہ بشریٰ بی بی 911 سے زائد دنوں سے قید ہیں۔
یہ اعداد و شمار پی ٹی آئی کی جانب سے فراہم کیے گئے ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
پارٹی نے عمران خان کی صحت سے متعلق خدشات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انہیں اہلِ خانہ، وکلا اور پارٹی قیادت سے باقاعدہ ملاقاتوں کی اجازت دی جائے۔
اس کے علاوہ پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کے ذاتی معالج کی نگرانی میں مستند طبی ماہرین سے ان کا مکمل طبی معائنہ کرایا جائے۔
پارٹی نے مزید الزام عائد کیا کہ ریاستی اداروں کو سیاسی مخالفین کو دباؤ میں لانے اور ان کی سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی نے خبردار کیا کہ احتیاطی حراست کے مسلسل استعمال اور قانونی و آئینی تحفظات پر پابندیوں سے ایسی مثالیں قائم ہو سکتی ہیں جن کے اثرات موجودہ سیاسی تنازع سے آگے بڑھ کر تمام شہریوں کی بنیادی آزادیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
زیرِ حراست رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ
شیخ وقاص اکرم نے عمران خان کی بہنوں کی مسلسل حراست پر بھی تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ نقصِ امن کے خدشے کے تحت مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) قانون کے تحت ان کی مبینہ 30 روزہ نظربندی کی مدت مکمل ہونے کے باوجود انہیں رہا نہیں کیا گیا۔
انہوں نے عمران خان کی بہنوں کے ساتھ زیرِ حراست پی ٹی آئی رہنماؤں، منتخب نمائندوں اور کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
ایم پی او قانون مخصوص قانونی شرائط کے تحت احتیاطی نظربندی کی اجازت دیتا ہے، تاہم سیاسی کارکنوں کے خلاف اس کے استعمال پر ماضی میں بھی قانونی تقاضوں کی پاسداری اور سیاسی اظہارِ رائے کی آزادی سے متعلق سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ احتیاطی نظربندی کو سیاسی اختلافِ رائے دبانے یا اپوزیشن رہنماؤں کو سزا دینے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
پارٹی کے حالیہ بیانات اس کی قیادت کو درپیش دو اہم چیلنجوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ایک جانب عمران خان کی عدم موجودگی میں داخلی اختیارات اور فیصلہ سازی کا نظام برقرار رکھنا ہے، جبکہ دوسری جانب بانی پی ٹی آئی اور دیگر زیرِ حراست رہنماؤں کے حقوق اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر حکام سے جواب طلبی کا مطالبہ جاری رکھنا ہے۔
فی الحال پی ٹی آئی کا اصرار ہے کہ پارٹی کے داخلی فیصلہ سازی کے نظام میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور اہم سیاسی و تنظیمی فیصلوں کا حتمی اختیار بدستور عمران خان کے پاس ہے۔





