پشاور: مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ ثمر ہارون بلور نے خیبرپختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی میں 18 ارب 46 کروڑ روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے آڈٹ رپورٹ میں اٹھائے گئے اعتراضات کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری وسائل عوام کی امانت ہیں اور ان کے استعمال میں شفافیت اور جوابدہی یقینی بنانا ضروری ہے۔
بلور نے صنعتی اراضی کے واجبات کی عدم وصولی اور سرکاری زمینوں سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں پر متعلقہ حکام سے جواب طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے ذریعے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔
انہوں نے آڈٹ رپورٹ میں 14 ارب روپے کے ممکنہ واجبات کے ذکر کو بھی سنجیدہ توجہ کا متقاضی قرار دیا۔ تاہم بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ رقم مجموعی 18 ارب 46 کروڑ روپے کے اعتراضات میں شامل ہے یا اس سے الگ۔ اس لیے دونوں رقوم کو جمع کرکے مجموعی مالی نقصان قرار نہیں دیا جا سکتا۔
آڈٹ میں کسی رقم پر اعتراض، واجبات کی عدم وصولی اور ثابت شدہ بدعنوانی الگ معاملات ہیں۔ واجبات ایسی رقم ہو سکتے ہیں جو ادارے کو وصول کرنا باقی ہو، جبکہ سرکاری خزانے کو حقیقی نقصان اور کسی فرد کی ذمہ داری کا تعین متعلقہ ریکارڈ اور تحقیقات سے ہوتا ہے۔
بلور نے کہا کہ الزامات کی چھان بین شواہد اور قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔ انہوں نے سرکاری اداروں میں ناقص منصوبہ بندی اور انتظامی کمزوریوں کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کا بھی مطالبہ کیا۔
بیان میں متعلقہ آڈٹ کی مدت، انفرادی اعتراضات کی تفصیل یا کمپنی کا جواب شامل نہیں ہے۔ اس میں کسی باضابطہ انکوائری کے آغاز کا اعلان بھی نہیں کیا گیا۔





