سوات: ضلعی انتظامیہ نے تحریک انصاف کے رہنما مراد سعید کے آبائی گھر پر چھاپے اور اہل خانہ کی گرفتاری سے متعلق دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی ان کے بھائی کے زیر استعمال ایک سرکاری بنگلے کو خالی کرانے کے لیے کی گئی تھی۔
اس رپورٹ کے لیے فراہم کردہ انتظامی مؤقف کے مطابق 20 اکتوبر کو کمشنر ملاکنڈ کے حکم پر سرکاری رہائش گاہ خالی کرائی گئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ بنگلہ مراد سعید کے بھائی کلیم سعید کے زیر استعمال تھا، جو صوبائی حکومت کے ٹیکس اسسٹنٹ ہیں۔ انتظامیہ نے الزام لگایا کہ رہائش پر ان کا قبضہ غیرمجاز تھا اور متعدد نوٹس اور ہدایات کے باوجود اسے خالی نہ کرنے پر کارروائی کی گئی۔



انتظامیہ نے کارروائی کو سرکاری جائیداد کی بازیابی قرار دیتے ہوئے سیاسی انتقام کے الزامات مسترد کیے۔
حکام کے مؤقف میں بنیادی فرق دونوں املاک کا ہے۔ ان کے مطابق کارروائی خاندان کی ذاتی رہائش کے بجائے سرکاری رہائش گاہ سے متعلق تھی۔
تاہم فراہم کردہ تفصیلات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بنگلہ پہلے مراد سعید کے بھائی کو الاٹ کیا گیا تھا۔ الاٹمنٹ کی شرائط، اس کی منسوخی کا حکم اور انتظامیہ کے بیان کردہ نوٹس فراہم نہیں کیے گئے۔ یہ دستاویزات واضح کرنے کے لیے ضروری ہیں کہ رہائش کا استعمال کب اور کس بنیاد پر غیرمجاز قرار پایا۔
فراہم کردہ معلومات میں ان کی بھرتی اور بعد کی ترقی سے متعلق الزامات بھی شامل ہیں، لیکن ان کی تائید میں ملازمت کا ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا۔
بنگلہ خالی کرانے سے متعلق یہ وضاحت انتظامیہ کا مؤقف ہے۔ دستیاب معلومات میں مراد سعید کے بھائی یا خاندان کے کسی مجاز نمائندے کا جواب شامل نہیں۔







