کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس، یعنی نصف فیصد، اضافہ کرکے اسے 12 فیصد کرنے کے فیصلے پر کاروباری برادری کی رائے منقسم ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے اس اقدام کی حمایت کی ہے، جبکہ مقامی صنعت کاروں نے خبردار کیا ہے کہ قرضوں کی لاگت بڑھنے سے معاشی سرگرمیاں سست پڑ سکتی ہیں۔
اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے پیر کو شرح سود میں اضافے کا اعلان کیا، جس کا اطلاق منگل سے ہو گیا۔
کمیٹی کے دس میں سے نو ارکان نے شرح سود میں نصف فیصد اضافے کی حمایت کی، جبکہ ایک رکن اس سے زیادہ اضافے کے حق میں تھا۔
مرکزی بینک کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع، عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ملک میں گندم کی فراہمی میں رکاوٹوں کے باعث پاکستان میں مہنگائی کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
اسٹیٹ بینک کا مؤقف ہے کہ شرح سود میں اضافہ مہنگائی کی توقعات کو قابو میں رکھنے اور خوراک و توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کو معیشت کے دیگر شعبوں تک پھیلنے سے روکنے کے لیے ضروری ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاروں کی محتاط مالیاتی پالیسی کی حمایت
اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) نے اسٹیٹ بینک کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مہنگائی کے دباؤ اور عالمی توانائی کی منڈیوں میں غیر یقینی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے ایک متوازن اقدام قرار دیا۔
او آئی سی سی آئی کے سیکریٹری جنرل ایم عبدالعلیم نے کہا کہ شرح سود میں اضافہ جغرافیائی و سیاسی کشیدگی سے پیدا ہونے والے خطرات کے پیشِ نظر مجموعی معاشی استحکام کو برقرار رکھنے کی ضرورت کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کے صنعتی شعبے میں بحالی کے ابتدائی آثار کے دوران سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رکھنا ضروری ہے۔
چیمبر کے مؤقف سے یہ خدشہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسلسل مہنگائی اور معاشی عدم استحکام کاروباری اعتماد کو متاثر کر سکتے ہیں، اگرچہ شرح سود میں اضافے سے قرض حاصل کرنے کی لاگت بھی بڑھتی ہے۔
مقامی صنعت کاروں کو معاشی ترقی سست ہونے کا خدشہ
دوسری جانب فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے شرح سود میں اضافے پر تنقید کی ہے۔
ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شرح سود 12 فیصد ہونے سے پاکستانی کاروباری اداروں کی مسابقتی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ قرضوں کی لاگت بڑھنے سے صنعتی توسیع کی حوصلہ شکنی ہوگی، نجی شعبے میں سرمایہ کاری محدود ہو سکتی ہے اور پاکستانی برآمدات کی بین الاقوامی منڈیوں میں مسابقتی حیثیت کمزور پڑ سکتی ہے۔
ایف پی سی سی آئی کے مطابق کاروباری اداروں کو پیداوار بڑھانے، اپنے معاملات جاری رکھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے کم لاگت پر قرضوں کی سہولت درکار ہے۔
مقامی صنعت کاروں کا مؤقف ہے کہ جب مہنگائی کی بنیادی وجوہات ضرورت سے زیادہ صارفین کی طلب کے بجائے اشیا کی فراہمی میں رکاوٹیں اور عالمی منڈی میں قیمتوں کا اضافہ ہوں تو شرح سود بڑھانے سے محدود فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
کاروباری اداروں کے لیے فوری تشویش قرضوں کی بڑھتی ہوئی لاگت ہے، جبکہ مرکزی بینک کی ترجیح یہ ہے کہ قیمتوں میں عارضی اضافے کے اثرات مستقل مہنگائی کی صورت اختیار نہ کر جائیں۔
اس طرح اسٹیٹ بینک کے حالیہ فیصلے نے مہنگائی پر قابو پانے اور معاشی بحالی کی رفتار برقرار رکھنے کے درمیان توازن کے مسئلے کو ایک بار پھر پاکستان کی مالیاتی پالیسی سے متعلق بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔





