پشاور: خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے ممکنہ نفاذ سے متعلق بیانات نے وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان سیاسی کشیدگی بڑھا دی ہے، ایسے وقت میں جب صوبے میں دہشت گرد حملوں کے باعث پولیس، سکیورٹی اہلکار اور شہری مسلسل جانی نقصان اٹھا رہے ہیں۔
صوبائی وزیر اطلاعات شفیع اللہ جان نے خبردار کیا ہے کہ گورنر راج نافذ کرنے کی صورت میں عوام کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کسی ایک صوبے کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے۔
شفیع اللہ جان نے کہا، ’’دہشت گردی ایک قومی مسئلہ ہے، اس کے خاتمے کے لیے مشترکہ حکمت عملی درکار ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اگر خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کو گورنر راج کی بنیاد بنایا جا رہا ہے تو بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔
ان کے مطابق صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جامع حکمت عملی کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کا بجٹ بڑھا کر 191 ارب روپے کر دیا گیا ہے جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی کے لیے 35 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے داخلہ و قبائلی امور طارق سعید مروت بھی شدت پسندی کے مقابلے کے لیے ادارہ جاتی تعاون پر زور دے چکے ہیں۔ ان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے تنہا شدت پسندی کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور اس مقصد کے لیے حکومت، ریاستی اداروں، سول سوسائٹی اور عوام کے درمیان تعاون ضروری ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی موجودہ انسداد دہشت گردی پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا سے متعلق فیصلوں میں صوبے کو شامل کیا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا، ’’ہماری تجویز کردہ نئی پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن میں خیبر پختونخوا میں امن قائم کیا جا سکتا ہے، لیکن کوئی ہماری بات سننے کو تیار نہیں۔‘‘
دوسری جانب وفاقی حکومت صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھا رہی ہے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پر دہشت گردی کے خلاف مؤثر قیادت اور مطلوبہ وسائل فراہم نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ آئینی حالات پیدا ہونے کی صورت میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کی جا سکتی ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی صوبے کی سکیورٹی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے 4 اکتوبر کا اسلام آباد مارچ ملتوی کرنے اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ سیاسی کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب خیبر پختونخوا میں مہلک حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں پولیس اور کسٹمز چیک پوسٹ پر فائرنگ اور بم حملے میں کم از کم 12 افراد جان سے گئے، جبکہ امدادی کارروائی کے لیے پہنچنے والے اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
یوں گورنر راج کی بحث اب محض ایک آئینی اور سیاسی تنازع تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے دہشت گردی سے نمٹنے کی ذمہ داری، وسائل اور پالیسی پر اسلام آباد اور پشاور کے درمیان موجود اختلافات کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔





