دبئی: ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے بدھ، 4 نومبر کو دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے جنوب میں ممنوعہ قرار دیے گئے بحری راستے سے گزرنے کی کوشش کے دوران چار آئل ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر تباہ ہو گئے اور ان میں لگنے والی آگ تاحال جاری ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے مزید دو بحری جہازوں کو تحویل میں لینے کا بھی دعویٰ کیا، تاہم ان جہازوں کی شناخت، ان کے ممالک یا انہیں تحویل میں لینے کی وجوہات سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی بیان میں متاثرہ چاروں آئل ٹینکروں کے نام، عملے کے ارکان، ممکنہ جانی نقصان یا واقعات کے درست مقامات کی نشاندہی نہیں کی گئی۔
ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کے اطراف بحری جہازوں کو پیش آنے والے متعدد واقعات اور تجارتی جہاز رانی پر عائد پابندیوں کے باعث ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔
آئل ٹینکروں کو پیش آنے والے گزشتہ واقعات
اس سے قبل 30 اکتوبر کو بھی پاسدارانِ انقلاب کی بحری فورس نے دعویٰ کیا تھا کہ غیر مجاز قرار دیے گئے راستوں سے گزرنے والے چار آئل ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گئے تھے۔
ایرانی حکام کے مطابق متاثرہ جہازوں میں سے ایک پر 20 لاکھ بیرل سے زائد خام تیل موجود تھا۔
دوسری جانب برطانیہ کے ادارے یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے بھی آبنائے ہرمز سے باہر نکلنے والے ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل لگنے کی اطلاع دی تھی۔
ایک اور واقعہ ایران کے جزیرے لاوان سے تقریباً 40 ناٹیکل میل جنوب میں پیش آیا، جہاں ایک بحری جہاز کے بائیں حصے پر نامعلوم پروجیکٹائل لگنے سے آگ بھڑک اٹھی۔
برطانوی ادارے کے مطابق جہاز کا عملہ محفوظ رہا اور ماحول کو کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا ان واقعات میں متاثر ہونے والے جہاز بھی ایران کے بیان میں ذکر کیے گئے آئل ٹینکروں میں شامل تھے یا نہیں۔
بحری راستوں کی سلامتی پر ایران اور امریکا میں اختلاف
ایران آبنائے ہرمز کے بعض راستوں، خصوصاً عمان کے قریب جنوبی گزرگاہ کو غیر مجاز اور خطرناک قرار دیتا ہے۔
اس کے برعکس امریکا کا کہنا ہے کہ اس کی فوج نے اہم بحری تجارتی راستوں سے بارودی سرنگیں صاف کر دی ہیں اور ان راستوں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
ایرانی حکام نے امریکی دعوؤں پر سوال اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بحری راستوں میں بارودی سرنگوں کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔
دونوں ممالک کے متضاد مؤقف کے باعث کئی ماہ سے جاری فوجی کشیدگی کے بعد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی پر اعتماد بحال کرنے کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔
آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے کیوں اہم ہے؟
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان سے ملاتی ہے اور سعودی عرب، عراق، کویت اور متحدہ عرب امارات سمیت تیل پیدا کرنے والے ممالک کی برآمدات کے لیے اہم بحری راستہ ہے۔
دنیا میں استعمال ہونے والے تیل کا تقریباً پانچواں حصہ معمول کے حالات میں اسی گزرگاہ سے منتقل ہوتا ہے، جس کے باعث یہ عالمی توانائی منڈی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
اس راستے پر جہاز رانی میں رکاوٹ سے بحری انشورنس اور نقل و حمل کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں، تیل کی ترسیل میں تاخیر ہو سکتی ہے اور پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کی معیشتوں پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔
ایران کے تازہ دعوے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب علاقائی ممالک مزید فوجی کشیدگی روکنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
فی الحال متاثرہ جہازوں کی شناخت، نقصان کی مکمل نوعیت اور دو دیگر بحری جہازوں کو تحویل میں لیے جانے کے حالات واضح نہیں ہو سکے ہیں۔




