تہران: ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے آبنائے ہرمز کے مشرق میں امریکہ کا ایک اور ایم کیو ون ڈرون مار گرایا ہے۔ یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب علاقائی ثالث تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے کوششیں تیز کر رہے ہیں۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے اس اہم سمندری گزرگاہ کے قریب امریکی ڈرون کو نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب نے ڈرون کے مشن، اسے نشانہ بنائے جانے کے درست مقام یا واقعے کے حالات سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
امریکی حکام کی جانب سے بھی فوری طور پر ڈرون کے تباہ ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی۔
یہ اعلان ایران اور امریکہ کے درمیان کئی ماہ سے جاری فوجی کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کے قریب امریکی ڈرونز کو نشانہ بنانے کے سابقہ ایرانی دعوؤں کے بعد سامنے آیا ہے۔
ایران کا سفارتی کوششیں جاری رکھنے کا عندیہ
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ امن معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق تجاویز پر بین الاقوامی ثالثوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔
بدھ کو جاری کیے گئے ایک بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج ملک کے دفاع کے لیے تیار ہیں، جبکہ حکومت سفارتی راستے سے تنازع حل کرنے کے امکانات کا جائزہ بھی لے رہی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ایران سفارت کاری کی کامیابی کے لیے اب بھی موقع فراہم کر رہا ہے۔‘‘
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق تہران ثالثوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ ایسی تجاویز کا جائزہ لیا جا سکے جو ایران کے سات روزہ امن منصوبے پر عمل درآمد میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
ایران نے عندیہ دیا ہے کہ اگر اس کی شرائط تسلیم کر لی جائیں تو آبنائے ہرمز چند روز میں دوبارہ کھولی جا سکتی ہے۔
تاہم پابندیوں، امریکی بحری ناکہ بندی اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق دونوں ممالک کے درمیان اہم اختلافات بدستور برقرار ہیں۔
آبنائے ہرمز تنازع کا مرکزی نکتہ
آبنائے ہرمز دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جو خلیج فارس کو بین الاقوامی منڈیوں سے ملاتی ہے۔
اس اہم آبی راستے کے قریب ایک اور امریکی ڈرون مار گرانے کا ایرانی دعویٰ ظاہر کرتا ہے کہ سفارتی مذاکرات جاری رہنے کے باوجود خطے میں فوجی کشیدگی برقرار ہے۔
ایران اور امریکہ کی جانب سے کسی ممکنہ معاہدے کے لیے مختلف شرائط پیش کیے جانے کے باعث فی الحال یہ واضح نہیں کہ حالیہ سفارتی تجاویز کسی سمجھوتے کی راہ ہموار کر سکیں گی یا مزید فوجی تصادم کو روکنے میں کامیاب ہوں گی۔




