پشاور: خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے دوران اقدامات کے لیے چیف سیکریٹری کو پیش کرنے کی غرض سے 27 محکموں کے 206 مجوزہ اقدامات پر مشتمل ایکشن پلان کا مسودہ تیار کرلیا گیا ہے، تجاویز سے واقف ذرائع نے بتایا۔
مجوزہ لائحہ عمل میں 100 روزہ اور 180 روزہ منصوبے شامل ہیں، جن کے لیے ’’مستحکم خیبرپختونخوا‘‘ اور ’’180 روزہ اسٹریٹجک پلان‘‘ کے نام تجویز کیے گئے ہیں۔
یہ تجاویز ابھی مسودے کی سطح پر ہیں۔ منصوبہ 37 اضلاع کے لیے تیار کیا گیا ہے، جبکہ ضم اضلاع پر خصوصی توجہ دینے کی سفارش کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق منصوبے کے تین بنیادی شعبے عوامی اعتماد، طرز حکمرانی اور سماجی و معاشی ترقی ہیں۔ ان کے تحت بالترتیب 54، 97 اور 55 اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
بلدیاتی خدمات میں بہتری کے لیے 150 اہم سڑکوں کی مرمت، 8000 کھلے مین ہولز پر ڈھکن لگانے، 4000 مقامات پر صفائی، 150 بند نالے کھولنے اور 80 پارکوں کی بحالی کی تجاویز شامل ہیں۔
بازاروں اور عمارتوں کی خوبصورتی اور سولر اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب بھی مجوزہ اقدامات کا حصہ ہے۔
پشاور کے 20 مصروف ترین مقامات پر ٹریفک نظام بہتر بنانے، رنگ روڈ کے نامکمل حصوں پر کام اور جی ٹی روڈ کی تزئین و مرمت کی تجویز دی گئی ہے۔ بنوں بائی پاس کی تعمیر اور غیر فعال واٹر سپلائی اسکیموں کی بحالی بھی منصوبے میں شامل ہے۔
صحت کے شعبے میں بنیادی مراکز صحت پر حفاظتی ٹیکوں کی خدمات اور 250 مراکز میں 24 گھنٹے زچگی کی سہولت فراہم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
ضروری ادویات کی دستیابی کا ہدف 80 فیصد رکھنے اور عملے کی حاضری کی ڈیجیٹل نگرانی کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ ضم اضلاع کے 829 صحت مراکز کو انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کے دائرے میں لانے اور 18 سے 38 ہسپتالوں کا انتظام نجی شعبے کو دینے کی سفارش شامل ہے۔
تعلیم کے شعبے میں 1500 اسکولوں کی بہتری، سات لاکھ طلبہ کے لیے فرنیچر کی فراہمی اور کم کارکردگی والے 500 اسکولوں کا انتظام نجی شعبے کے حوالے کرنے کی تجاویز دی گئی ہیں۔
مزید 2500 تعلیمی انٹرنز کی بھرتی اور خصوصی تعلیم کے 52 اداروں کی بہتری بھی منصوبے کا حصہ ہے۔ آٹزم مراکز اور پشاور یونیورسٹی میں بریل اکیڈمی کے قیام کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
زراعت اور لائیو اسٹاک کے لیے 1500 ایکڑ پر موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والے باغات، 400 واٹر ٹینک، 400 ٹیوب ویلوں کی سولر توانائی پر منتقلی اور 150 ویٹرنری ہسپتالوں کی بہتری کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں 65000 گھرانوں کو سولر سسٹم کے لیے رعایتی معاونت دینے کی تجویز ہے۔ کان کنوں کے طبی معائنے، تربیت اور کان کنی کا ڈیجیٹل ریکارڈ بھی مجوزہ اقدامات میں شامل ہے۔
مسودے میں دستک ایپ کے ذریعے 376 سرکاری خدمات ڈیجیٹل بنانے، تمام اضلاع میں عوامی رابطہ مراکز قائم کرنے اور پشتو ایف ایم ریڈیو پر ہفتہ وار پروگرام نشر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
افواہوں کے تدارک کے لیے خصوصی سیل اور کارکردگی اجاگر کرنے کی ماہانہ مہم بھی تجویز کی گئی ہے۔ عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل نظام اور مرکزی ڈیش بورڈ بنانے کی سفارش شامل ہے۔
یہ مسودہ وفاقی کابینہ کی جانب سے 12 مخصوص اضلاع کے لیے علاقائی نمائندہ و ترقیاتی کونسل کی منظوری کے بعد سامنے آیا ہے۔ مجوزہ ایکشن پلان کا دائرہ اس سے وسیع، یعنی 37 اضلاع پر محیط ہے۔





