کھانے کے اوقات محدود کرنے کا یہ طریقہ بعض افراد میں وزن اور بلڈ شوگر بہتر کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ تاہم طویل عمر، الزائمر سے بچاؤ اور دیگر فوائد کے کئی دعوؤں کے لیے مزید انسانی تحقیق ضروری ہے۔
انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کیا ہے؟
انٹرمٹنٹ فاسٹنگ، یعنی وقفوں سے کھانا، ایسا غذائی معمول ہے جس میں کھانے اور کھانے سے پرہیز کے اوقات مقرر کیے جاتے ہیں۔ اس میں بنیادی توجہ اس بات پر ہوتی ہے کہ آپ کب کھاتے ہیں، بجائے اس کے کہ کون سی مخصوص غذا کھاتے ہیں۔
تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ خوراک کا معیار اور مقدار غیر اہم ہیں۔ متوازن غذا اور مناسب غذائیت کی ضرورت برقرار رہتی ہے۔
مختلف وجوہ سے فاقہ کرنے کی روایت صدیوں سے موجود ہے، جبکہ حالیہ برسوں میں وزن اور صحت پر اس کے اثرات پر تحقیق بڑھی ہے۔
کیا یہ بھوک یا غذائی محرومی کے برابر ہے؟
منصوبہ بند فاسٹنگ میں خوراک دستیاب ہوتی ہے، لیکن ایک مقررہ مدت تک کھانے سے رضاکارانہ پرہیز کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس طویل غذائی محرومی جسم کی توانائی اور غذائیت کی ضروریات پوری نہ ہونے کی کیفیت ہے، جو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
البتہ صرف رضاکارانہ ہونے سے کوئی طریقہ محفوظ نہیں ہوجاتا۔ غیر ضروری طور پر طویل فاسٹنگ یا ناکافی خوراک بھی صحت کو متاثر کرسکتی ہے۔
انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کے طریقے
اس کے مختلف طریقوں میں دن یا ہفتے کو کھانے اور پرہیز کے وقفوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ بعض طریقوں میں خوراک مکمل طور پر روکی جاتی ہے، جبکہ بعض میں صرف کیلوریز محدود کی جاتی ہیں۔
- 16/8 طریقہ: روزانہ آٹھ گھنٹوں کے دوران کھانا اور باقی 16 گھنٹے کھانے سے پرہیز کرنا۔ فراہم کردہ متن میں دوپہر دو بجے سے رات دس بجے تک کی مثال دی گئی ہے۔ ناشتا چھوڑنا اس طریقے کی لازمی شرط نہیں؛ کھانے کا دورانیہ مختلف رکھا جاسکتا ہے۔
- 5:2 طریقہ: ہفتے کے پانچ دن معمول کے مطابق کھانا، جبکہ دو غیر مسلسل دنوں میں خوراک تقریباً 500 سے 600 کیلوریز تک محدود کرنا۔
- ایٹ اسٹاپ ایٹ: ہفتے میں ایک یا دو مرتبہ 24 گھنٹے کھانے سے پرہیز کرنا، مثلاً ایک دن کے دوپہر کے کھانے سے اگلے دن کے دوپہر کے کھانے تک۔ یہ نسبتاً سخت طریقہ ہے اور ہر شخص کے لیے موزوں نہیں۔
ممکنہ فوائد اور تحقیق کی حدود
انٹرمٹنٹ فاسٹنگ عموماً وزن کم کرنے کے لیے اختیار کی جاتی ہے۔ تحقیق کے مطابق بعض افراد میں اس سے:
- وزن اور جسمانی چربی کم ہوسکتی ہے۔
- جسم ذخیرہ شدہ چربی کو توانائی کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔
- بلڈ شوگر، انسولین کی سطح اور انسولین کے خلاف مزاحمت میں بہتری آسکتی ہے۔
- کولیسٹرول اور دل کی صحت سے متعلق بعض پیمانوں میں بہتری ممکن ہے۔
اصل متن میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کے ممکنہ خاتمے، ذہنی یکسوئی، توانائی، گروتھ ہارمون، سوزش میں کمی، الزائمر کے خطرے میں کمی اور طویل عمر کے فوائد بھی بیان کیے گئے ہیں۔ ان سب کے شواہد یکساں مضبوط نہیں۔
ذیابیطس کے بعض مریضوں میں طبی نگرانی کے دوران شوگر کنٹرول اور ادویات کی ضرورت بہتر ہوسکتی ہے، لیکن اسے یقینی علاج یا خود سے دوا چھوڑنے کی بنیاد نہیں سمجھنا چاہیے۔
اسی طرح آٹوفیجی، یعنی خلیوں میں خراب اجزا کو توڑنے اور دوبارہ استعمال کرنے کے قدرتی عمل، اور فاسٹنگ کے تعلق پر تحقیق جاری ہے۔ انسانوں میں طویل عمر یا الزائمر سے بچاؤ کو ثابت شدہ نتیجے کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔
کن لوگوں کو احتیاط کرنی چاہیے؟
یہ طریقہ ہر شخص کے لیے مناسب نہیں۔ خاص طور پر درج ذیل افراد کو اسے شروع کرنے سے پہلے معالج سے مشورہ کرنا چاہیے:
- ذیابیطس یا بلڈ شوگر میں بے قاعدگی والے افراد۔
- کم بلڈ پریشر کے مریض۔
- باقاعدگی سے ادویات لینے والے افراد۔
- کم وزن افراد۔
- حمل کی کوشش کرنے والی خواتین۔
حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین، 18 سال سے کم عمر افراد، کھانے سے متعلق نفسیاتی عارضے کی تاریخ رکھنے والے افراد اور انسولین استعمال کرنے والے ٹائپ ون ذیابیطس کے مریضوں کو اس طریقے سے گریز کرنا چاہیے۔
ممکنہ مضر اثرات
شروع میں بھوک، چڑچڑاپن، سر درد یا متلی ہوسکتی ہے۔ غیر معمولی علامات پیدا ہوں تو معمول جاری رکھنے کے بجائے طبی مشورہ لینا چاہیے۔





