ڈپریشن میں مبتلا مرد کو کہا جاتا ہے کہ مضبوط بنو۔ اضطراب اور ذہنی دباؤ کا شکار عورت کو صبر کی تلقین کی جاتی ہے۔ جذباتی مشکلات سے دوچار نوجوان کو توجہ حاصل کرنے کا خواہش مند سمجھ لیا جاتا ہے، جبکہ مسلسل تھکن اور ذہنی بوجھ سے پریشان ملازم کو یاد دلایا جاتا ہے کہ مسائل تو سب کی زندگی میں ہوتے ہیں۔
حالات مختلف، افراد مختلف، مگر پیغام تقریباً ایک ہی ہوتا ہے: خاموش رہو اور برداشت کرو۔
پاکستان میں جسمانی بیماری پر عموماً ہمدردی اور علاج کی ضرورت کو تسلیم کیا جاتا ہے، لیکن ذہنی اور نفسیاتی مسائل کا ذکر آج بھی اکثر بے یقینی، تنقید اور خاموشی کی نذر ہو جاتا ہے۔
ذہنی صحت سے متعلق آگاہی کی مہمات میں اضافہ ضرور ہوا ہے، مگر لاکھوں افراد کے لیے اپنی نفسیاتی مشکلات کا اعتراف کرنا آج بھی ان مشکلات کے ساتھ زندگی گزارنے سے زیادہ خوفناک محسوس ہوتا ہے۔
یہ تضاد ایک ایسے ملک میں مزید سنگین ہو جاتا ہے جہاں ذہنی صحت کی سہولتوں کی ضرورت رکھنے والے افراد کی تعداد کروڑوں میں ہے، لیکن علاج تک رسائی انتہائی محدود ہے۔
اقوامِ متحدہ کی جانب سے 2 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق عالمی ادارۂ صحت کا تخمینہ ہے کہ پاکستان میں تقریباً 3 کروڑ 24 لاکھ افراد کو ذہنی صحت کی خدمات کی ضرورت ہے، جبکہ صرف پانچ فیصد آبادی تک یہ خدمات پہنچ رہی ہیں۔ یوں علاج کی فراہمی میں تقریباً 95 فیصد کا خلا موجود ہے۔
یہ اعداد و شمار محض ماہرینِ نفسیات کی کمی کی نشاندہی نہیں کرتے بلکہ ایک ایسے قومی بحران کی تصویر پیش کرتے ہیں جس میں ذہنی بیماری بیک وقت طبی مسئلہ، سماجی بدنامی اور علاج تک غیر مساوی رسائی کا شکار ہے۔
جب خاموشی ایک سماجی روایت بن جائے
پاکستان میں ذہنی صحت سے وابستہ بدنامی کو سمجھنے کے لیے ان توقعات کا جائزہ لینا ضروری ہے جو بچپن ہی سے افراد کی شخصیت اور رویوں کا حصہ بنا دی جاتی ہیں۔
لڑکوں کو اکثر سکھایا جاتا ہے کہ رونا کمزوری ہے، جذبات کا اظہار مردانگی کے منافی ہے اور نفسیاتی مدد حاصل کرنا کسی مضبوط مرد کو زیب نہیں دیتا۔
دوسری جانب لڑکیوں کو صبر، برداشت اور قربانی کا درس دیا جاتا ہے، خواہ وہ مسلسل ذہنی دباؤ، جذباتی محرومی یا گھریلو مسائل کا سامنا ہی کیوں نہ کر رہی ہوں۔
یہ رویے ہر خاندان میں یکساں نہیں، تاہم معاشرتی توقعات اس بات پر ضرور اثرانداز ہوتی ہیں کہ کسی شخص کی نفسیاتی تکلیف کو سنجیدگی سے لیا جائے گا یا نظر انداز کر دیا جائے گا۔
مردوں کے لیے معاشی ذمہ داریوں اور مضبوط دکھائی دینے کا دباؤ اپنی پریشانی کا اعتراف مشکل بنا سکتا ہے۔ خواتین کے لیے خاندان کی عزت، رشتوں، شادی اور سماجی تنقید کے خدشات مدد حاصل کرنے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
بچے اور نوجوان بھی اس صورتحال سے محفوظ نہیں۔
تعلیمی دباؤ، گھریلو تنازعات، ہراسانی، دوسروں سے مسلسل موازنے اور سوشل میڈیا کے اثرات ان کی ذہنی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں، مگر ان کے مسائل کو اکثر ضد، سستی، نافرمانی یا عمر کا تقاضا قرار دے دیا جاتا ہے۔
اس کا نقصان صرف علاج میں تاخیر تک محدود نہیں رہتا۔
جب کسی فرد کو بار بار بتایا جائے کہ اس کی تکلیف محض وہم، بہانہ یا کمزوری ہے تو وہ اپنی ہی کیفیت پر شک کرنے لگتا ہے۔
یوں مدد مانگنا ایک طبی ضرورت کے بجائے معاشرتی توقعات کے خلاف قدم اٹھانے کے مترادف بن جاتا ہے۔
اور بعض اوقات بدنامی کا یہ خوف اسی گھر سے جنم لیتا ہے جہاں انسان کو سب سے زیادہ تحفظ ملنا چاہیے۔
علاج کی سہولتیں: شہر اور دیہات کے درمیان ایک اور تقسیم
اگر کوئی شخص سماجی دباؤ اور بدنامی کے خوف پر قابو پا کر علاج کا فیصلہ کر بھی لے تو اس کے سامنے ایک اور بڑی رکاوٹ کھڑی ہوتی ہے: مناسب طبی سہولتوں تک رسائی۔
عالمی ادارۂ صحت کے اکتوبر 2026 میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر ایک لاکھ افراد کے لیے تقریباً 0.19 ماہرینِ امراضِ نفسیات دستیاب ہیں، جبکہ زیادہ آمدنی والے ممالک میں یہ شرح اوسطاً سات ماہرین فی ایک لاکھ افراد ہے۔
اس کمی کو ماہرین کی غیر مساوی جغرافیائی تقسیم مزید سنگین بنا دیتی ہے۔
پاکستان کے ذہنی صحت کے نظام سے متعلق 2024 کے ایک جائزے کے مطابق نفسیاتی ماہرین کی بڑی تعداد شہری مراکز میں موجود ہے، جبکہ بہت سے ماہرین نجی شعبے سے وابستہ ہیں اور ضلعی سطح کے سرکاری ہسپتالوں میں متعلقہ آسامیوں کی کمی یا خالی رہنے کا مسئلہ برقرار ہے۔
اسلام آباد، لاہور یا کراچی جیسے شہروں میں کسی ماہر تک پہنچنا مشکل ضرور ہو سکتا ہے، لیکن دور دراز دیہات، پہاڑی علاقوں اور پسماندہ اضلاع میں رہنے والے افراد کے لیے یہی کام طویل سفر، اضافی اخراجات اور روزگار کے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
اصل سوال صرف یہ نہیں کہ ملک میں ماہرِ نفسیات موجود ہے یا نہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ایک عام شہری اس تک پہنچ سکتا ہے؟ کیا وہ علاج کے اخراجات برداشت کر سکتا ہے؟ کیا اسے مسلسل طبی نگرانی اور ضروری ادویات میسر آ سکتی ہیں؟
ایک دیہاڑی دار مزدور کے لیے باقاعدہ تھراپی کا مطلب آمدنی سے محرومی ہو سکتا ہے۔ مالی یا سفری معاملات میں خاندان پر انحصار کرنے والی عورت کے لیے علاج حاصل کرنا اپنی نجی مشکلات دوسروں کے سامنے ظاہر کرنے سے مشروط ہو سکتا ہے۔
ایسی صورتحال میں ذہنی صحت کی سہولت ایک بنیادی ضرورت کے بجائے معاشی حیثیت، رہائش اور ذاتی خودمختاری سے وابستہ استحقاق بن جاتی ہے۔
جب زندہ رہنے کی جدوجہد ذہنی سکون پر غالب آ جائے
پاکستان کے معاشی حالات ذہنی صحت کے بحران میں ایک اور پیچیدہ پہلو کا اضافہ کرتے ہیں۔
جن خاندانوں کے لیے خوراک، بجلی کے بل، مکان کا کرایہ، بچوں کی تعلیم اور روزمرہ اخراجات پورے کرنا ہی مشکل ہو، وہاں نفسیاتی علاج اکثر ترجیحات میں بہت پیچھے چلا جاتا ہے۔
لیکن یہی معاشی غیر یقینی مسلسل ذہنی دباؤ، اضطراب اور جذباتی تھکن کو بھی بڑھا سکتی ہے۔
اس طرح ایک ایسا سلسلہ جنم لیتا ہے جس میں معاشی مشکلات نفسیاتی پریشانی میں اضافہ کرتی ہیں، جبکہ علاج سے محروم ذہنی بیماری انسان کی توجہ، کام کرنے کی صلاحیت، تعلقات اور روزگار کو متاثر کر سکتی ہے۔
2026 میں سائنسی جریدے فرنٹیئرز اِن پبلک ہیلتھ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ذہنی، اعصابی اور نشہ آور اشیا کے استعمال سے متعلق عوارض پاکستان میں بیماریوں کے مجموعی بوجھ کا تقریباً چھ فیصد بنتے ہیں۔
اسی تحقیق کے مطابق حکومتی صحت بجٹ کا صرف 0.4 فیصد ذہنی صحت پر خرچ کیا جاتا ہے۔
یہ اعداد و شمار ذہنی بیماریوں کے بوجھ اور ان سے نمٹنے کے لیے مختص وسائل کے درمیان نمایاں فرق کو ظاہر کرتے ہیں۔
ذہنی صحت کو غربت، بے روزگاری، بے گھری، تشدد، قدرتی آفات اور مسلسل عدم تحفظ سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔
سیلاب میں گھر بار کھونے والے خاندانوں، غیر یقینی حالات میں زندگی گزارنے والے افراد اور تشدد کا سامنا کرنے والوں کو خوراک، رہائش اور مالی امداد کے ساتھ نفسیاتی معاونت کی بھی ضرورت ہو سکتی ہے۔
کسی معاشرے سے یہ توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں کہ اس کے افراد مسلسل مشکلات اور غیر یقینی حالات کا سامنا کرتے رہیں اور ان کی ذہنی صحت متاثر نہ ہو۔
اسی طرح ذہنی صحت کے مسئلے کو محض مثبت سوچ، ورزش یا مضبوط ارادے کے مشوروں تک محدود کرنا بھی کافی نہیں، خصوصاً جب پریشانی کے بنیادی اسباب بدستور موجود ہوں۔
عقیدہ، غلط فہمیاں اور ذہنی بیماری کا ٹھپہ
پاکستان میں ذہنی صحت سے متعلق ایک اہم مسئلہ نفسیاتی بیماریوں کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیاں بھی ہیں۔
بعض گھرانوں میں ڈپریشن، اضطراب یا دیگر نفسیاتی علامات کو روحانی کمزوری، مافوق الفطرت اثرات یا مذہبی وابستگی کی کمی سے جوڑ دیا جاتا ہے۔
مذہبی عقائد اور روحانی معمولات بہت سے افراد کے لیے حقیقی سکون، امید اور جذباتی سہارا فراہم کرتے ہیں۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب روحانی تشریحات کو طبی تشخیص اور علاج کا متبادل سمجھ لیا جائے یا کسی شخص کو ایسی علامات کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے جن پر محض ارادے سے قابو پانا ممکن نہیں۔
دعا اور طبی علاج ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔
اسی طرح روزمرہ گفتگو میں ذہنی بیماری سے متعلق الفاظ کو طنز یا توہین کے طور پر استعمال کرنا بھی نقصان دہ ہے۔
کسی کو فوراً پاگل قرار دے دینا یا یہ سمجھنا کہ نفسیاتی علاج صرف ان افراد کے لیے ہے جو حقیقت سے اپنا تعلق کھو چکے ہوں، مختلف ذہنی بیماریوں کے بارے میں لاعلمی کو مزید بڑھاتا ہے۔
بدنامی کا یہ خوف ملازمت، شادی، خاندانی تعلقات اور سماجی حیثیت پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے۔
بعض افراد اپنی بیماری چھپانے یا علاج سے گریز کرنے کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ انہیں کسی منفی شناخت کے ساتھ نہ جوڑ دیا جائے۔
اس لیے ذہنی بیماری سے وابستہ بدنامی محض ایک ناپسندیدہ سماجی رویہ نہیں بلکہ علاج اور بحالی کی راہ میں ایک عملی رکاوٹ بھی ہے۔
روزمرہ زندگی کی وہ ذہنی تھکن جو دکھائی نہیں دیتی
پاکستان میں ذہنی صحت پر گفتگو کو صرف تشخیص شدہ بیماریوں تک محدود رکھنے کے بجائے ان حالات کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے جن میں نفسیاتی پریشانیاں جنم لیتی ہیں۔
ہر شدید ذہنی تھکن یا جذباتی پریشانی لازماً کسی مخصوص نفسیاتی بیماری کی علامت نہیں ہوتی، لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اس تکلیف کو نظر انداز کر دیا جائے۔
ایک ایسی ماں کے بارے میں سوچیے جو ملازمت، بچوں کی دیکھ بھال، گھر کی ذمہ داریوں اور معاشی مسائل کے درمیان مسلسل مصروف رہتی ہے، لیکن اسے آرام کے لیے مناسب وقت نہیں ملتا۔
یا ایک ایسے باپ کے بارے میں جو اپنے خاندان کی مالی ذمہ داریوں کے باعث اپنی پریشانی کسی سے بیان نہیں کر پاتا۔
یا پھر اس طالب علم کے بارے میں جس کی قابلیت، اہمیت اور مستقبل کو صرف امتحانی نمبروں سے جانچا جاتا ہے۔
ان سب کے حالات مختلف ہیں، لیکن ایک بنیادی مسئلہ مشترک ہے: ذہنی سکون کو اکثر فرد کی ذاتی ذمہ داری سمجھ لیا جاتا ہے، خواہ اس کی پریشانی کی وجوہات معاشرتی اور ادارہ جاتی ہی کیوں نہ ہوں۔
دفاتر میں مسلسل دستیابی اور زیادہ کام کرنے کو محنت کی علامت سمجھا جا سکتا ہے، جبکہ ذہنی تھکن اور کام کے دباؤ کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
تعلیمی ادارے نتائج اور کامیابی پر زور دیتے ہیں، لیکن ہر جگہ طلبہ کی نفسیاتی معاونت کا مؤثر انتظام موجود نہیں۔
گھروں میں جسمانی تھکن کو تو تسلیم کر لیا جاتا ہے، مگر جذباتی تھکن کو بعض اوقات ناشکری یا کم ہمتی سمجھا جاتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں برداشت اور ثابت قدمی کو بھی غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے۔
لوگوں کی تعریف اس بات پر کی جاتی ہے کہ انہوں نے کتنی مشکلات برداشت کیں، لیکن یہ سوال کم پوچھا جاتا ہے کہ انہیں ان مشکلات کا سامنا بغیر مدد کے کیوں کرنا پڑا۔
بلاشبہ ثابت قدمی ایک قابلِ قدر خوبی ہے، مگر اسے خاندانوں، اداروں اور معاشرے کی ذمہ داریوں سے چشم پوشی کا جواز نہیں بننا چاہیے۔
کیا ٹیکنالوجی علاج کا فاصلہ کم کر سکتی ہے؟
ڈیجیٹل ذرائع سے ذہنی صحت کی خدمات فراہم کرنا پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ثابت ہو سکتا ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں تربیت یافتہ ماہرین کی کمی ہے۔
آن لائن مشاورت سے سفر کے اخراجات کم ہو سکتے ہیں، مریضوں کی رازداری بہتر بنائی جا سکتی ہے اور دور دراز علاقوں کے افراد کو بڑے شہروں میں موجود ماہرین سے رابطے کا موقع مل سکتا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے سائنسی جریدے ایسٹرن میڈیٹیرینین ہیلتھ جرنل میں 2024 میں شائع ہونے والی پاکستان سے متعلق ایک تحقیق میں آن لائن نفسیاتی خدمات حاصل کرنے والے مریضوں کے تجربات کا جائزہ لیا گیا۔
شرکا نے سہولت، سفر کی ضرورت میں کمی اور رازداری کو اس طریقۂ علاج کے اہم فوائد قرار دیا۔ بعض افراد کے مطابق آن لائن مشاورت نے انہیں نفسیاتی کلینک جانے سے وابستہ سماجی بدنامی سے بچنے میں بھی مدد دی۔
تاہم ٹیکنالوجی ہر مسئلے کا حل نہیں۔
انٹرنیٹ تک غیر مساوی رسائی، ڈیجیٹل سہولتوں کے استعمال میں مشکلات، رازداری کے خدشات اور علاج کے اخراجات موجودہ تفاوت کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔
آن لائن خدمات کے لیے بھی مستند ماہرین، مریضوں کے تحفظ کے مؤثر اصول اور ضرورت پڑنے پر خصوصی طبی مراکز تک رسائی کا نظام ضروری ہے۔
ڈیجیٹل سہولتیں علاج کا دائرہ وسیع کر سکتی ہیں، لیکن ایک فعال سرکاری نظامِ صحت کا متبادل نہیں بن سکتیں۔
نئی قومی پالیسی: کیا تبدیلی عام شہری تک پہنچے گی؟
اس سال عالمی یومِ ذہنی صحت سے قبل پاکستان نے پالیسی کی سطح پر ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔
یکم اکتوبر 2026 کو اسلام آباد میں پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ کے دوران وفاقی حکومت نے عالمی ادارۂ صحت، یونیسیف اور دیگر متعلقہ اداروں کے اشتراک سے قومی ذہنی صحت پالیسی 2026 تا 2035 متعارف کرائی۔
اس پالیسی کا مقصد ذہنی بیماریوں کی ابتدائی تشخیص بہتر بنانا، کمیونٹی کی سطح پر خدمات کو وسعت دینا اور ذہنی صحت کی سہولتوں کو بنیادی مراکزِ صحت اور تعلیمی اداروں کے نظام میں شامل کرنا ہے۔
اجلاس کے اختتام پر حکومت نے 12 ماہ کے اندر قومی سطح پر پالیسی کے نفاذ اور نگرانی کا طریقۂ کار وضع کرنے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا۔
اس کے ساتھ ماہر افرادی قوت میں اضافے، اسکولوں میں نفسیاتی معاونت کی بہتری اور صحت کے بجٹ اور نظام میں ذہنی صحت کو مناسب جگہ دینے کو ترجیحات میں شامل کیا گیا۔
یہ اقدامات امید افزا ضرور ہیں، لیکن حقیقی پیش رفت کا اندازہ کانفرنسوں کی تعداد یا پالیسی دستاویزات سے نہیں لگایا جا سکتا۔
اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب کسی سرکاری اسکول کے بچے کو ضرورت پڑنے پر نفسیاتی معاونت میسر ہو، ضلعی ہسپتال میں بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو اور محدود آمدنی والا شخص مالی مشکلات میں اضافہ کیے بغیر علاج جاری رکھ سکے۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ ذہنی صحت کی سہولتیں صرف بڑے شہروں کے خصوصی مراکز تک محدود نہ رہیں۔
بنیادی مراکزِ صحت کے عملے کی تربیت، مریضوں کو متعلقہ ماہرین تک پہنچانے کا مؤثر نظام، کمیونٹی کی سطح پر خدمات اور عوامی آگاہی ابتدائی علاج کو زیادہ قابلِ رسائی بنا سکتے ہیں۔
ذہنی صحت کو قدرتی آفات سے نمٹنے کی حکمتِ عملی، تعلیمی منصوبہ بندی اور ملازمین کی فلاح و بہبود کا بھی حصہ بنانا ہوگا۔
لوگوں کے بارے میں بات کرنے کے بجائے انہیں سننا ہوگا
عالمی یومِ ذہنی صحت 2026 کا موضوع ’’زندگی کے تجربات کو سنیے: حقیقی آوازیں، حقیقی تبدیلی‘‘ ہے۔
اس موضوع کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا کرنے والے افراد کو ان پالیسیوں اور خدمات کی تشکیل میں بھی شریک کیا جائے جو براہِ راست ان کی زندگیوں پر اثرانداز ہوتی ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ایسے افراد کے تجربات کو محض آگاہی کی تقریبات میں ذاتی کہانیوں تک محدود رکھنے کے بجائے پالیسی سازی، خدمات کی منصوبہ بندی اور ان کی کارکردگی کے جائزے میں اہمیت دی جانی چاہیے۔
پاکستان کے لیے یہ نقطۂ نظر خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
ذہنی صحت کے پروگرام عموماً اداروں، ماہرین اور پالیسی سازوں کی جانب سے تیار کیے جاتے ہیں۔ ان کی مہارت ضروری ہے، لیکن علاج میں تاخیر، مالی مشکلات، امتیازی سلوک یا ناکافی سہولتوں کا سامنا کرنے والے افراد کے تجربات بھی ایسی حقیقتیں سامنے لا سکتے ہیں جو اعداد و شمار سے پوری طرح واضح نہیں ہوتیں۔
ایک ایسی عورت جو آزادانہ سفر نہیں کر سکتی، علاج تک رسائی کی ایسی رکاوٹیں بیان کر سکتی ہے جنہیں شہری منصوبہ ساز نظر انداز کر دیں۔
ایک نوجوان جو نفسیاتی علاج کے باعث سماجی تنقید سے خوفزدہ ہے، یہ سمجھانے میں مدد دے سکتا ہے کہ روایتی آگاہی مہمات بعض افراد تک کیوں نہیں پہنچ پاتیں۔
اسی طرح طویل عرصے سے کسی نفسیاتی بیماری کے ساتھ زندگی گزارنے والا شخص یہ واضح کر سکتا ہے کہ وقتی مشاورت کے مقابلے میں مسلسل علاج اور نگرانی کیوں ضروری ہیں۔
حقیقی شمولیت کا مطلب صرف لوگوں کو اپنی تکلیف سنانے کا موقع دینا نہیں، بلکہ انہیں خدمات کی تشکیل اور بہتری میں مؤثر کردار دینا ہے۔
آگاہی سے آگے: سنے جانے اور علاج پانے کا حق
ہر سال عالمی یومِ ذہنی صحت پر لوگوں کو اپنی مشکلات بیان کرنے، مدد حاصل کرنے اور دوسروں کا سہارا بننے کی تلقین کی جاتی ہے۔
یہ پیغامات اہم ہیں۔ کھلی گفتگو غلط فہمیوں کو دور کر سکتی ہے، جبکہ ہمدرد خاندان اور معاون معاشرہ کسی شخص کی بحالی میں بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
لیکن علاج تک رسائی کے بغیر آگاہی مسئلے کا صرف ایک حصہ حل کرتی ہے۔
کسی شخص کو تھراپی لینے کا مشورہ دینا اس وقت ناکافی ہے جب وہ ایک نشست کے اخراجات بھی برداشت نہ کر سکتا ہو۔
کسی پریشان نوجوان کو اپنی مشکلات بیان کرنے کی تلقین بے اثر ہو سکتی ہے اگر اس کے اردگرد موجود بالغ افراد اس کی بات سننے کو تیار نہ ہوں۔
اسی طرح لوگوں کو ذہنی صحت ترجیح بنانے کا مشورہ اس وقت کھوکھلا محسوس ہوتا ہے جب صحت کا نظام انہیں قابلِ استطاعت علاج فراہم نہ کر سکے۔
پاکستان کے سامنے اصل چیلنج صرف یہ تسلیم کروانا نہیں کہ ذہنی تکلیف ایک حقیقت ہے۔
چیلنج ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں اپنی پریشانی کا اعتراف ذلت کا باعث نہ بنے، علاج حاصل کرنا مالی بوجھ نہ ہو اور صحت یابی کے سفر میں رکاوٹوں کے بجائے تعاون میسر آئے۔
اس کے لیے تربیت یافتہ ماہرین، فعال طبی سہولتیں، باشعور خاندان، معاون تعلیمی ادارے، بہتر دفتری ماحول اور صحت کے شعبے میں مستقل سرمایہ کاری ضروری ہے۔
سب سے بڑھ کر اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے کہ خاموشی سے تکلیف برداشت کرنا ہی مضبوطی کی علامت ہے۔
کیونکہ کسی معاشرے کی ذہنی صحت کا حقیقی پیمانہ یہ نہیں کہ اس کے لوگ بظاہر کتنے مضبوط دکھائی دیتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی کمزوری، پریشانی اور تکلیف کا اعتراف کتنے تحفظ کے ساتھ کر سکتے ہیں۔
اور شاید اس عالمی یومِ ذہنی صحت پر پاکستان کے لیے سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ اتنے لوگ خاموش کیوں ہیں، بلکہ یہ ہے کہ جب کوئی اپنی خاموشی توڑ کر مدد مانگتا ہے تو کیا ہم واقعی اس کی بات سنتے ہیں؟





