ٹوکیو: جاپان نے منگل 20 اکتوبر کو مریخ کے ایک چاند سے نمونے جمع کرکے زمین پر لانے کے لیے خلائی مشن روانہ کردیا، جسے ملکی خلائی ادارے نے اپنی نوعیت کا دنیا کا پہلا مشن قرار دیا ہے۔
کیوڈو نیوز ایجنسی کے مطابق جاپانی خلائی ادارے جاکسا نے بتایا کہ مارشین مونز ایکسپلوریشن، یعنی ایم ایم ایکس، خلائی جہاز ایچ تھری راکٹ سے کامیابی سے الگ ہوکر اپنے مقررہ مدار میں پہنچ گیا۔
راکٹ نے جنوب مغربی جاپان کے تانیگاشیما خلائی مرکز سے مقامی وقت کے مطابق صبح چار بج کر 41 منٹ پر پرواز کی۔ منصوبے کے سربراہ ماکوتو اریتا نے کہا کہ خلائی جہاز غیر معمولی درستگی کے ساتھ مطلوبہ مدار میں پہنچا۔
4480 کلوگرام وزنی خلائی جہاز اگست 2027 میں مریخ کے مدار میں پہنچے گا، جس کے بعد اس کے بڑے چاند فوبوس کی تحقیق شروع ہوگی۔
فرانس اور جرمنی کا مشترکہ روور پہلے فوبوس پر اتر کر اس کی سطح کا جائزہ لے گا۔ اس کے بعد جاپانی خلائی جہاز دو مرتبہ اتر کر پتھر اور ریت کے نمونے جمع کرے گا۔
مشن مریخ کے چھوٹے چاند ڈیموس کا مشاہدہ بھی کرے گا۔ نومبر 2030 میں مریخ کے مدار سے واپسی کا سفر شروع ہوگا اور نمونے جولائی 2031 میں زمین پر پہنچنے کی توقع ہے۔
سائنس دان ان نمونوں کی مدد سے جاننا چاہتے ہیں کہ مریخ کے دونوں چاند کیسے وجود میں آئے۔ بین الاقوامی مشن مستقبل کی سیاروی تحقیق کے لیے نئی ٹیکنالوجی کی تیاری میں بھی مدد دے گا۔
جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے کامیاب روانگی کا خیرمقدم کرتے ہوئے مشن کی کامیابی کی امید ظاہر کی۔
مشن کی روانگی اصل میں 2024 میں طے تھی، لیکن 2023 میں ایچ تھری راکٹ کی پہلی پرواز ناکام ہونے کے بعد اسے مؤخر کردیا گیا تھا۔





