اورائنڈ شہابی بارش 21 اور 22 اکتوبر کی درمیانی شب عروج پر پہنچنے کی توقع ہے۔ ہیلی کے دمدار ستارے کے چھوڑے ہوئے ذرات زمین کی فضا میں داخل ہو کر آسمان پر تیز اور روشن لکیریں بنائیں گے۔ یہ نظارہ دونوں نصف کرّوں سے دیکھا جاسکتا ہے، اس لیے پاکستان میں بھی موسم اور مقامی حالات سازگار ہونے پر اس کا مشاہدہ ممکن ہوگا۔
شہاب دراصل وہ روشنی یا چمکتی لکیر ہے جو خلا کا کوئی چھوٹا ذرہ تیز رفتاری سے زمین کی فضا میں داخل ہونے، گرم ہونے اور بکھرنے کے دوران پیدا کرتا ہے۔ عام زبان میں اسے ٹوٹتا ستارہ کہا جاتا ہے، حالانکہ اس کا کسی ستارے کے ٹوٹنے یا گرنے سے تعلق نہیں۔
جب یہی ذرہ خلا میں موجود ہو تو اسے میٹیورائڈ کہا جاتا ہے۔ اگر اس کا کوئی حصہ فضا سے گزرنے کے بعد زمین کی سطح تک پہنچ جائے تو وہ میٹیورائٹ یا شہابی پتھر کہلاتا ہے۔ دمدار ستاروں کی شہابی بارشوں سے وابستہ بیشتر چھوٹے ذرات زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہوجاتے ہیں۔
جب زمین ایسے ذرات کے کسی گھنے سلسلے سے گزرتی ہے اور معمول سے زیادہ شہابیے دکھائی دیتے ہیں تو اسے شہابی بارش کہا جاتا ہے۔
اورائنڈ کا نام آسمان پر موجود ستاروں کے جھرمٹ اورائن سے لیا گیا ہے۔ ان شہابیوں کی روشن لکیریں بظاہر اسی سمت میں ایک مقام سے پھیلتی دکھائی دیتی ہیں۔ فلکیات میں اس ظاہری نقطۂ آغاز کو ریڈیئنٹ کہا جاتا ہے۔ تاہم اورائن ان ذرات کا اصل ماخذ نہیں، بلکہ انہیں پہچاننے کے لیے آسمانی حوالہ ہے۔ ذرات ہیلی کے دمدار ستارے سے آتے ہیں۔
ہیلی جب اندرونی نظام شمسی سے گزرتا ہے تو گرد و غبار اور دیگر مادہ چھوڑتا ہے، جو اس کے مدار کے ساتھ پھیل جاتا ہے۔ زمین ہر سال دو مرتبہ اس مادے سے گزرتی ہے، جس سے اکتوبر میں اورائنڈ اور مئی میں ایٹا ایکویریڈ شہابی بارش ہوتی ہے۔
سی جی ٹی این کی رپورٹ کے مطابق اورائنڈ کا سلسلہ دو اکتوبر سے سات نومبر تک جاری رہتا ہے۔ اس کے ذرات تقریباً 66 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے فضا میں داخل ہوتے ہیں۔ بعض شہابیے کئی سیکنڈ یا چند منٹ تک قائم رہنے والی روشن لکیریں چھوڑتے ہیں، جبکہ انتہائی روشن شہابیے آگ کے گولے جیسے دکھائی دیتے ہیں۔
تاریک آسمان اور مثالی حالات میں فی گھنٹہ تقریباً 10 سے 20 شہابیے نظر آسکتے ہیں۔ تاہم یہ تعداد یقینی نہیں، کیونکہ بادل، شہری روشنیاں اور چاند کی چمک مشاہدے کو محدود کرسکتے ہیں۔
اس سال چاند نصف سے زیادہ روشن ہوگا اور پورا ہونے کی جانب بڑھ رہا ہوگا، اس لیے مدھم شہابیے چھپ سکتے ہیں۔ ناسا نے کسی ایک مخصوص وقت پر انحصار کرنے کے بجائے چاند غروب ہونے کے بعد، طلوع فجر سے پہلے مشاہدے کی تجویز دی ہے۔
بہتر مشاہدے کے لیے محفوظ اور تاریک جگہ منتخب کریں جہاں آسمان کا وسیع حصہ صاف دکھائی دے۔ دوربین کی ضرورت نہیں۔ آنکھوں کو اندھیرے سے مانوس ہونے کے لیے تقریباً 20 سے 30 منٹ دیں اور کسی ایک نقطے پر نظریں جمانے کے بجائے آسمان کے وسیع حصے کو دیکھیں۔





