دوشنبے: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا منگل کو تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے اجلاس میں شرکت کے لیے دیگر وفود کے ہمراہ استقبال کیا گیا۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق تاجک وزیراعظم قاہر رسول زادہ نے اجلاس سے قبل شریک رہنماؤں اور وفود کا خیرمقدم کیا۔
اسحاق ڈار نے دیگر وفود کے سربراہان کے ہمراہ تاجک صدر امام علی رحمان سے بھی ملاقات کی۔
تاجک صدر نے شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت علاقائی اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بہتر رابطہ کاری، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے لیے رکن ممالک کے درمیان تعاون ضروری ہے۔
کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ ایس سی او کا دوسرا اعلیٰ ترین فیصلہ ساز فورم ہے، جو تجارت، مالیات، اقتصادی تعاون، رابطہ کاری، سماجی و اقتصادی امور اور تنظیم کے بجٹ سے متعلق معاملات پر رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
اسحاق ڈار پاکستان کے وفد کی قیادت کر رہے ہیں اور اجلاس کے موقع پر دیگر رکن ممالک کے نمائندوں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت، توانائی، ٹرانزٹ اور علاقائی رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اسحاق ڈار نے پیر کو تاجک وزیراعظم قاہر رسول زادہ سے بھی ملاقات کی، جس میں دونوں جانب سے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، رابطہ کاری، دفاع اور ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
ملاقات میں موسمیاتی تبدیلی، پانی کے تحفظ اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے تعاون پر بھی بات چیت ہوئی۔
پاکستان اس وقت 2026 سے 2027 کے لیے ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی گردشی صدارت سنبھالے ہوئے ہے اور 2027 میں اگلے سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا۔
اسلام آباد حالیہ مہینوں میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اندر اپنی سرگرمیاں بھی بڑھا رہا ہے، جن میں ایس سی او ریجنل اینٹی ٹیررسٹ اسٹرکچر کی سربراہی اور سرحدی سکیورٹی سے متعلق اجلاسوں کی میزبانی شامل ہے۔
پاکستان اکتوبر 2024 میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے اجلاس کی میزبانی بھی کر چکا ہے۔
دوشنبے کا اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان تنظیم میں اپنے بڑھتے ہوئے کردار کو علاقائی تجارت، رابطہ کاری اور سکیورٹی تعاون کے فروغ کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔





