اسلام آباد: صحت کے حکام نے منگل کو پاکستان میں انسولین کی وسیع قلت کی اطلاعات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی سپلائی میں رکاوٹ کے باعث ایک برانڈ دستیاب نہیں، تاہم متبادل ادویات مارکیٹ میں موجود ہیں۔
وزارت صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، ڈریپ، نے سوشل میڈیا پر قلت کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد یہ وضاحت کی۔
وزارت کے ترجمان ساجد شاہ نے کہا کہ سنوفی کی اپیڈرا، جس کا طبی نام انسولین گلولیسین ہے، بین الاقوامی سپلائی میں مشکلات کے باعث فی الحال دستیاب نہیں۔
انہوں نے کہا کہ تیزی سے اثر کرنے والی اسی طبی زمرے کی دیگر انسولین، بشمول نووو نورڈسک کی نوووریپڈ، یعنی انسولین ایسپارٹ، اور ایلی للی کی ہیومالاگ، یعنی انسولین لِسپرو، ملک بھر میں دستیاب ہیں۔
ساجد شاہ کے مطابق انسولین کی دیگر تمام بنیادی اقسام بھی پاکستان میں دستیاب ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ طبی طور پر منظور شدہ انسولین کی دو بڑی اقسام ہیں۔ انسولین اینالاگز میں تیزی سے اثر کرنے والی، طویل اثر والی اور پہلے سے مخلوط اقسام شامل ہیں، جبکہ ہیومن انسولین میں مختصر اور درمیانی دورانیے تک اثر کرنے والی اقسام آتی ہیں۔
ترجمان نے اپیڈرا استعمال کرنے والے مریضوں کو ہدایت کی کہ علاج میں تبدیلی سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ دوسری انسولین پر منتقلی کے لیے ہر مریض کی ضرورت کے مطابق خوراک کا تعین اور بلڈ شوگر کی نگرانی ضروری ہے۔
یہ وضاحت ادویات کی دستیابی سے متعلق سابقہ خدشات کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
اگست 2025 میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے ضروری ادویات کی شدید قلت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ کم از کم 80 اہم ادویات دستیاب نہیں اور ان میں سے 25 کا کوئی متبادل بھی موجود نہیں۔
متاثرہ ادویات میں ذیابیطس، سرطان، امراض قلب، الزائمر، پارکنسنز اور نفسیاتی امراض کے علاج شامل تھے۔
مارچ 2026 میں بھی ایسوسی ایشن نے بچوں کی تپ دق اور سرطان کی ادویات کی قلت پر فوری اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔





