نیپیدو: اے آئی کا مستقبل دنیا بھر میں بننے والے ڈیٹا سینٹرز میں تیار ہو رہا ہے، لیکن اس ٹیکنالوجی کی سپلائی چین کا ایک اہم حصہ میانمار کی ایک دور دراز کان تک جاتا ہے۔
میانمار کے خود مختار وا خطے میں واقع مان ماؤ دنیا کی بڑی ٹِن کانوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کان نے اگست 2023 میں کام بند کر دیا تھا، جس سے عالمی منڈی میں ٹِن کی ایک اہم سپلائی رک گئی۔ یہ بندش ایسے وقت میں ہوئی جب جدید چپس اور اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے ہارڈویئر کی طلب تیزی سے بڑھ رہی تھی۔
ٹِن کا نام تانبے، لیتھیم یا نایاب معدنیات کی طرح اکثر خبروں میں نہیں آتا، لیکن الیکٹرانکس میں اس کا کردار اہم ہے۔ اس دھات کا بڑا حصہ سولڈر کے طور پر استعمال ہوتا ہے، جو سرکٹ بورڈز پر مختلف اجزا کو جوڑنے میں مدد دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹِن جدید کمپیوٹنگ اور اے آئی سے جڑے ہارڈویئر کی سپلائی چین کا حصہ ہے۔
مان ماؤ کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ میانمار طویل عرصے سے چین کے لیے ٹِن کا اہم ذریعہ رہا ہے۔ چینی کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق 2016 میں میانمار نے چین کو تقریباً پانچ لاکھ ٹن ٹِن ایسک اور کنسنٹریٹ فراہم کیا، جو اس سال چین کی درآمدات کا 99 فیصد سے زیادہ تھا۔
کان کی بندش سے الیکٹرانکس صنعت رک نہیں گئی۔ چینی سمیلٹرز نے کانگو، آسٹریلیا اور نائجیریا سمیت دیگر ممالک سے سپلائی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ تاہم سپلائی کو تبدیل کرنا آسان نہیں تھا۔ رائٹرز کے مطابق ستمبر 2025 تک میانمار سے چین کی ٹِن کنسنٹریٹ درآمدات سالانہ بنیاد پر 77 فیصد کم ہو چکی تھیں، جبکہ کئی چینی سمیلٹرز اپنی مکمل صلاحیت سے کم پر کام کر رہے تھے۔
اس خلل کا اثر قیمتوں پر بھی پڑا۔ رائٹرز کے مطابق 2025 میں ٹِن کی تین ماہ کی ایل ایم ای قیمت اپریل میں 30000 ڈالر فی ٹن سے کم تھی، جو اگست کے اختتام تک 35000 ڈالر سے تجاوز کر گئی۔
اب مان ماؤ میں سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو رہی ہیں، مگر رفتار سست ہے۔ ستمبر 2026 میں انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے جائزے کے حوالے سے بتایا گیا کہ کان سے ایسک دوبارہ منتقل ہونا شروع ہو گیا ہے، لیکن پیداوار اب بھی سابقہ سطح سے کافی کم ہے۔ 2026 کی پہلی ششماہی میں چین نے میانمار سے تقریباً 40000 ٹن ٹِن ایسک اور کنسنٹریٹ درآمد کیا، جو پورے 2025 کی درآمدات سے زیادہ تھا۔
لیکن بحالی اس بنیادی کمزوری کو ختم نہیں کرتی۔ مان ماؤ پر یونائیٹڈ وا اسٹیٹ آرمی کا کنٹرول ہے اور کان تک رسائی اور اس کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات محدود ہیں۔ کرائسز گروپ کے مطابق 2023 کی بندش ممکنہ طور پر وا گروہوں کے درمیان کنٹرول کی کشمکش سے جڑی تھی، جبکہ سیلاب زدہ کان اور اعلیٰ معیار کے ذخائر میں کمی مستقبل کی پیداوار کو متاثر کر سکتی ہے۔





