راولپنڈی: انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری حاضر اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ نے جمعے کے روز اڈیالہ جیل میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں سماعت کے دوران خود کو عدالت میں پیش کیے جانے کے طریقہ کار پر اعتراض کرتے ہوئے عدالتی کارروائی سے واک آؤٹ کر دیا۔
یہ سماعت ایک بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے سیکیورٹی روٹ میں مبینہ رکاوٹ ڈالنے اور عوام کو بدامنی پر اکسانے سے متعلق مقدمے کی تھی۔
ایمان مزاری اور ان کے شوہر پر الزام ہے کہ انہوں نے کرکٹ ٹیم کے سیکیورٹی روٹ سے رکاوٹیں ہٹائی تھیں۔ دونوں پر 7 اکتوبر کو اس مقدمے میں باقاعدہ فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔
انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے جمعے کے روز اڈیالہ جیل کے اندر مقدمے کی سماعت کی۔ اس سے قبل عدالت نے ملزمان کو عدالت منتقل کرنے میں مشکلات کے حوالے سے پولیس کی سفارش منظور کرتے ہوئے سماعت جیل میں منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی۔
سماعت میں موجود دفاعی وکلا کے مطابق عدالتی کارروائی صبح 10 بج کر 55 منٹ پر شروع ہوئی۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو کمرۂ عدالت کے ایک کونے میں قائم ملزمان کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا، جس پر دونوں نے اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک اور وکلا سے رابطے میں مشکلات پر اعتراض کیا۔
ایمان مزاری نے عدالت کو بتایا کہ انہیں پیش کرنے کا طریقہ مناسب نہیں اور انہیں اپنے وکلا سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔
ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ نے بھی اپنے ساتھ ہونے والے سلوک پر اعتراض کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان پر دہشت گردی کے ملزمان سے بھی زیادہ سخت پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔
اس موقع پر جج طاہر عباس سپرا نے ملزمان کے قریب کھڑے پولیس اہلکاروں کو پیچھے ہٹنے کی ہدایت کی اور سوال کیا کہ جب ملزمان کو کمرۂ عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے تو پولیس اہلکاروں کے ان کے بالکل قریب کھڑے ہونے کی کیا ضرورت ہے۔
دفاعی وکلا نے جیل میں مقدمے کی سماعت ختم کرنے اور عدالتی کارروائی ملتوی کرنے کے لیے درخواستیں بھی دائر کیں۔
ابتدائی دلائل سننے کے بعد جج نے 20 منٹ کا وقفہ کیا اور کہا کہ دفاع کی جانب سے دائر درخواستوں پر عدالتی حکم جاری کیا جائے گا۔
وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو استغاثہ کے گواہ ابراہیم نے اپنا بیان قلم بند کرایا۔
دفاعی وکیل ایمل خان مندوخیل نے عدالت سے درخواست کی کہ گواہ کا بیان قلم بند کرنے کی کارروائی آگے بڑھانے سے پہلے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست پر فیصلہ کیا جائے۔
انہوں نے یہ شکایت بھی کی کہ دفاعی ٹیم کے دیگر وکلا کو کمرۂ عدالت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
ایمل خان مندوخیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر عدالتی کارروائی اسی طریقے سے جاری رہی تو دفاعی وکلا اس کا حصہ نہیں بن سکیں گے۔
انہوں نے زیرِ التوا ضمانت کی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت سے یہ بھی درخواست کی کہ معاملے کو اگلے روز تک ملتوی نہ کیا جائے۔
اس کے بعد ایمان مزاری، ہادی علی چٹھہ اور ان کے وکلا کمرۂ عدالت سے واک آؤٹ کر گئے۔
ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو حالیہ مہینوں کے دوران متعدد قانونی مقدمات کا سامنا رہا ہے۔
دونوں کو 23 جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر احتجاج کرنے اور اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کے ساتھ مبینہ بدسلوکی سے متعلق مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔
اگلے ہی روز ایک سیشن عدالت نے سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق ایک علیحدہ مقدمے میں انسدادِ الیکٹرانک جرائم ایکٹ (پیکا) کی مختلف دفعات کے تحت دونوں کو مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
ان سزاؤں پر وکلا، انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے ماہرین نے تنقید کی تھی اور عدالتی کارروائی سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
17 ستمبر کو سپریم کورٹ نے دونوں کی سزائیں معطل کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ان کی اپیلوں کے حتمی فیصلے تک رہائی کا حکم دیا تھا۔
تاہم سپریم کورٹ کے حکم کے چند گھنٹے بعد ہی اسلام آباد پولیس نے دونوں کو ایک دوسرے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا۔
بعد ازاں انہیں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے دونوں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔
یہ مقدمہ گزشتہ سال 22 مارچ کو سٹی مجسٹریٹ غلام مرتضیٰ چانڈیو کی مدعیت میں اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا تھا۔
مقدمے میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر سڑکیں بند کرنے، حکومت مخالف نعرے لگانے اور سرکاری اہلکاروں کے فرائض میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
ابتدائی ایف آئی آر میں پاکستان پینل کوڈ کی ان دفعات کو شامل کیا گیا تھا جو سرکاری احکامات کی خلاف ورزی، غیر قانونی طور پر راستہ روکنے، مجرمانہ دھمکیاں دینے اور سرکاری ملازمین کو فرائض کی انجام دہی سے روکنے سے متعلق ہیں۔
تاہم مقدمہ درج کیے جانے کے وقت ایف آئی آر میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی کوئی دفعہ شامل نہیں تھی۔
اڈیالہ جیل میں ہونے والی تازہ سماعت کے بعد ایک مرتبہ پھر اس مقدمے کی عدالتی کارروائی کے طریقہ کار پر توجہ مرکوز ہو گئی ہے، خصوصاً ملزمان کی اپنے وکلا تک رسائی اور دفاعی ٹیم کی جانب سے جیل کے اندر سماعت ختم کرنے کی درخواست کے حوالے سے۔





