کسی معاشرے کی پہچان اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ وہ ان کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے جو اپنی آواز نہیں اٹھا سکتے۔
اور شاید ہمدردی کی سب سے سادہ کسوٹی یہ ہے کہ ہم اس وقت کیسا برتاؤ کرتے ہیں جب بدلے میں ہمیں کچھ ملنے کی امید نہ ہو۔
کوئی جانور ہمیں ووٹ نہیں دے سکتا، ہماری ترقی نہیں کروا سکتا، کسی احسان کا بدلہ نہیں چکا سکتا اور نہ کسی ادارے کے پاس جا کر اپنی شکایت درج کروا سکتا ہے۔ وہ بتا بھی نہیں سکتا کہ اسے کہاں درد ہو رہا ہے۔ بہت سے جانور ان انسانوں سے دور بھی نہیں جا سکتے جن پر ان کی خوراک، پناہ اور زندگی کا دارومدار ہوتا ہے۔ ایک طرف اتنا اختیار اور دوسری طرف اتنی بے بسی شاید ہی کہیں نظر آئے۔
شاید اسی لیے جانوروں کے ساتھ ہمارا سلوک ہمارے بارے میں ایک ایسی حقیقت سامنے لاتا ہے جس کا سامنا کرنا آسان نہیں۔
پاکستان میں جانوروں پر ظلم کے اتنے واقعات سامنے آ چکے ہیں کہ اب ہمارا غصہ بھی ایک مانوس سلسلے کا حصہ بن گیا ہے۔ کوئی ویڈیو سامنے آتی ہے۔ لوگ صدمے میں آ جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کارروائی کے مطالبے ہوتے ہیں۔ حکام حرکت میں آتے ہیں۔ پھر کہیں، کسی کیمرے کی پہنچ سے دور، ایک اور جانور ظلم سہتا ہے۔
جون 2024 میں سانگھڑ میں ایک کم عمر اونٹنی کی ٹانگ بے دردی سے کاٹ دی گئی۔ اطلاعات کے مطابق وہ زرعی زمین میں داخل ہو گئی تھی۔ تقریباً ایک سال بعد سکھر میں سومی نامی ایک اور اونٹنی کے ساتھ اسی طرح کا ہولناک سلوک ہوا۔ اس نے ایک زمیندار کے کھیت میں موجود تالاب سے پانی پی لیا تھا۔ اس واقعے میں دو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا اور زخمی اونٹنی کو علاج کے لیے کراچی منتقل کیا گیا۔
ان واقعات نے ہمیں اس لیے جھنجھوڑا کہ ان میں ظلم کی شدت غیر معمولی تھی۔
لیکن وہ تکلیف بھی ہمیں اتنا ہی پریشان کرنی چاہیے جسے ہم معمول سمجھنے لگے ہیں۔
اس گدھے کو دیکھیے جو اپنی تھکی ہوئی جان سے کہیں زیادہ بوجھ لدی گاڑی کھینچ رہا ہے۔ اس گھوڑے کو دیکھیے جو گرمی کی تیز دھوپ میں کھڑا ہے، جہاں نہ سایہ ہے اور نہ پینے کے لیے مناسب پانی۔ ان جانوروں کو دیکھیے جن کے جسم پر زین یا پٹوں کی رگڑ سے کھلے زخم ہیں، مگر وہ پھر بھی کام کر رہے ہیں کیونکہ ان پر انحصار کرنے والے خاندان کام روکنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
پاکستان میں گھوڑوں، گدھوں اور خچروں کی تعداد تقریباً 61 لاکھ ہے۔ ان میں سے تقریباً 95 فیصد جانور روزگار اور باربرداری کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ یہ اینٹیں، کوئلہ، زرعی پیداوار، تعمیراتی سامان اور لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتے ہیں۔ بروک پاکستان کے مطابق ضرورت سے زیادہ بوجھ، لنگڑا پن، ناقص خوراک، پٹوں کی رگڑ سے بننے والے زخم اور شدید گرمی میں طویل وقت تک کام کرنا ان جانوروں کو درپیش عام مسائل ہیں۔
اس تکلیف کے پیچھے بعض اوقات غربت بھی ہوتی ہے۔ اسے نظر انداز کر دینا مسئلے کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا دے گا۔
جس شخص کے بچوں کا پیٹ اس کے گدھے کی کمائی سے بھرتا ہے، وہ خود بھی خوراک خریدنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہو سکتا ہے۔ جانوروں کا علاج دستیاب نہ ہو، یا اسے ان کی دیکھ بھال کا مناسب علم نہ ہو۔ محرومی کے باعث ہونے والی غفلت اور تفریح، سزا یا اپنی آسانی کے لیے جان بوجھ کر کیا جانے والا ظلم ایک جیسے نہیں ہیں۔
لیکن غربت غفلت کی وجہ سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ وہ کسی کی تکلیف کو بے معنی نہیں بنا سکتی۔
عوام کے تحفظ کا مسئلہ بھی ہمیں تکلیف سے بے پروا ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔
پاکستان میں آوارہ کتوں اور ان کے کاٹنے کا مسئلہ سنگین ہے۔ کتے کا کاٹنا جان لیوا بھی ہو سکتا ہے، خاص طور پر وہاں جہاں ریبیز، یعنی باؤلے پن کی بیماری، سے بچاؤ اور علاج کی سہولتیں ناکافی ہوں۔ اس کے باوجود کتوں کو زہر دینا اور گولی مارنا مسئلے سے نمٹنے کے طریقوں میں شامل رہا ہے، حتیٰ کہ ان جگہوں پر بھی جہاں عدالتوں اور پالیسیوں نے ویکسین لگانے اور انسانی ہمدردی کے ساتھ ان کی تعداد قابو میں رکھنے پر زور دیا ہے۔ پنجاب میں 2024 سے مارچ 2026 کے درمیان کتوں کے کاٹنے کے رپورٹ ہونے والے واقعات کی تعداد 500000 سے تجاوز کر گئی۔ اتنے بڑے مسئلے کے لیے صحت عامہ کا مؤثر نظام ضروری ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ظلم ہی اس کا حل ہے۔
ہم نے اداروں کی ناکامی کی دوسری مثالیں بھی دیکھی ہیں۔
کراچی چڑیا گھر کی افریقی ہتھنی نور جہاں کی تکلیف نے 2023 میں اس کی موت سے پہلے پورے ملک کی توجہ حاصل کی۔ وہ ایک علامت اس لیے بنی کہ یہ صرف ایک بیمار جانور کی کہانی نہیں تھی۔ اس کی موت کے بعد ہونے والے طبی معائنے میں ناکافی دیکھ بھال سے جڑے سنگین طبی مسائل سامنے آئے۔ اس واقعے نے جانوروں کی نگہداشت کے لیے ضروری مہارت، انہیں قید میں رکھنے اور ذمہ داروں سے جواب طلب کرنے کے بارے میں سوال اٹھائے۔ یہ سوال ایک چڑیا گھر کے ایک احاطے تک محدود نہیں تھے۔
پھر بھی پاکستان میں جب جانوروں کے حقوق اور دیکھ بھال کی بات ہوتی ہے تو ایک اعتراض ضرور سامنے آتا ہے: یہاں انسانوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں ہوتا، ہم جانوروں کی فکر کیوں کریں؟
اس جملے کے پہلے حصے سے اختلاف کرنا واقعی مشکل ہے۔
ہم ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں لاکھوں انسان غربت، عدم مساوات، تشدد اور بنیادی سہولتوں کی کمی کا سامنا کرتے ہیں۔ بچے بھوکے سوتے ہیں اور خاندان علاج کے اخراجات برداشت نہیں کر پاتے۔
لیکن ایک کی تکلیف دوسرے کی تکلیف کو غیر اہم کیوں بنا دے؟
ہمدردی کوئی محدود قومی بجٹ نہیں کہ پہلے اسے انسانوں پر مکمل خرچ کیا جائے، تب کہیں کسی اور جاندار کے لیے کچھ بچ سکے۔ کسی جانور کے درد سے بے پروا ہو جانے سے انسانی وقار کے لیے ہماری وابستگی مضبوط نہیں ہو جاتی۔
دراصل دونوں کے لیے بنیادی اصول بہت ملتے جلتے ہیں۔
بلاوجہ تکلیف نہ پہنچائیں۔ صرف اس لیے اپنے اختیار کا غلط استعمال نہ کریں کہ آپ ایسا کر سکتے ہیں۔ ان کی حفاظت کریں جو آپ پر انحصار کرتے ہیں۔ درد کو پہچانیں، چاہے اسے سہنے والا انسان یا جانور اسے الفاظ میں بیان نہ کر سکے۔
پاکستان میں اداروں کی سطح پر بھی اس ضرورت کو تسلیم کرنے کی ابتدا ہو رہی ہے۔ خیبر پختونخوا میں 2024 کی جانوروں کی فلاح سے متعلق قانون سازی نے نوآبادیاتی دور کی دفعات کی جگہ ایسے تحفظات متعارف کروائے جن میں مار پیٹ، اعضا کاٹنا، جانوروں کو بے سہارا چھوڑ دینا، ضرورت سے زیادہ بوجھ ڈالنا اور خوراک، پانی اور پناہ کی کمی جیسے مسائل شامل ہیں۔ ملک بھر میں تنظیمیں اور انفرادی طور پر جانوروں کو بچانے والے لوگ بھی غیر معمولی کام کر رہے ہیں، حالانکہ ان کے وسائل اکثر بہت محدود ہوتے ہیں۔
لیکن قوانین ظلم ہو جانے کے بعد سزا دے سکتے ہیں۔ وہ اکیلے ہمارے اندر احساس پیدا نہیں کر سکتے۔
اس کے لیے ہمیں اپنی سوچ اور رویے بدلنے ہوں گے۔ بچوں کو سکھانا ہوگا کہ کسی جانور کو ڈرانا تفریح نہیں۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ کام کرنے والا گدھا کمائی کا ذریعہ ہونے سے پہلے ایک جاندار ہے۔ یہ جاننا ہوگا کہ آوارہ جانوروں کی تعداد کو ہمدردی کے ساتھ قابو میں رکھنا محض جذباتی کمزوری نہیں۔ اور کسی تکلیف کو صرف اس لیے نظر انداز نہیں کرنا ہوگا کہ ہم پہلے بھی بہت تکلیف دیکھ چکے ہیں۔
انسانوں کے ساتھ ہمارا سلوک بہت اہم ہے۔
جانوروں کے ساتھ ہمارا سلوک بھی۔
ہمیں یہ انتخاب نہیں کرنا چاہیے کہ ہماری انسانیت کا حق دار کون ہے۔
ہمارے اندر دونوں کے لیے جگہ ہونی چاہیے۔





