23 اکتوبر 2022 کو کینیا میں قتل ہونے والے سینئر صحافی ارشد شریف کے قتل کو آج چار برس گزر گئے۔ ایک ایسا صحافی، جس کی آواز پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں دور تک سنی جاتی تھی، جس کی رپورٹنگ اور پروگراموں پر بحث ہوتی تھی اور جس کے مؤقف سے لوگ اختلاف بھی کرتے تھے اور اتفاق بھی، آج اس کی یاد کے حوالے سے صحافتی برادری کے کردار پر سوال اٹھ رہے ہیں۔
ارشد شریف کی موت محض ایک صحافی کی موت نہیں تھی؛ یہ پاکستان میں آزادیٔ صحافت، صحافیوں کے تحفظ اور سچ کی تلاش میں درپیش خطرات سے جڑا ایک اہم واقعہ تھا۔ ان کے قتل کے بعد ملک بھر میں احتجاج ہوا، صحافتی حلقوں نے آواز اٹھائی اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ مگر چار برس بعد بھی انصاف کا سوال اپنی اہمیت برقرار رکھتا ہے۔
پاکستان کی صحافتی برادری اور تنظیمیں بھی اس معاملے میں بے بس دکھائی دیتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے ریکارڈ میں بھی ان کے قتل کا معاملہ غیر حل شدہ درج ہے۔
یہ سوال آج صحافتی برادری کے سامنے ہے: اگر کسی صحافی کی یاد میں کوئی تقریب منعقد نہیں ہوتی، اس کے نام پر کوئی نشست نہیں رکھی جاتی یا اس کے قتل کے مقدمے پر گفتگو نہیں ہوتی، تو یہ صرف ایک فرد کو بھولنے کا معاملہ نہیں رہتا، بلکہ صحافت کی اجتماعی ذمہ داری پر بھی سوال اٹھاتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟
صحافیوں کی تنظیمیں محض تنخواہوں، مراعات، پلاٹوں، انتخابات اور دیگر انتظامی معاملات کے لیے نہیں ہوتیں۔ ان کی بنیادی ذمہ داریوں میں صحافیوں کے حقوق کا تحفظ، آزادیٔ اظہار کی حمایت، پیشہ ورانہ یکجہتی اور صحافیوں کے خلاف تشدد کے واقعات پر آواز بلند کرنا بھی شامل ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں یہ ذمہ داریاں پوری ہوتی دکھائی نہیں دیتیں۔
ارشد شریف کے معاملے میں اصل سوال یہ نہیں کہ وہ کس سیاسی جماعت کے حامی تھے یا ان کے خیالات سے کون اتفاق کرتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کسی صحافی کے سیاسی یا نظریاتی مؤقف کی بنیاد پر اس کے قتل کے معاملے کو نظرانداز کیا جاسکتا ہے؟ کیا صحافتی اصولوں کی پاسداری صرف اسی وقت ضروری ہے جب متاثرہ شخص ہمارے حلقے، گروہ یا پسند کے مطابق ہو؟
اختلاف اپنی جگہ، صحافتی یکجہتی اپنی جگہ۔ صحافت کا حسن اختلافِ رائے میں ہے۔ ایک صحافی حکومت پر تنقید کرسکتا ہے، اپوزیشن کے مؤقف سے اختلاف کرسکتا ہے، ریاستی پالیسیوں پر سوال اٹھا سکتا ہے اور اپنے تجزیے میں کسی دوسرے صحافی سے مختلف رائے رکھ سکتا ہے۔ لیکن ان اختلافات کے باوجود صحافیوں کے تحفظ اور ان کے خلاف جرائم کی تحقیقات کا مطالبہ مشترکہ ہونا چاہیے۔
اگر صحافتی تنظیمیں کسی صحافی کے معاملے پر اس لیے خاموش رہیں کہ اس کا سیاسی مؤقف ان کے پسندیدہ بیانیے سے مطابقت نہیں رکھتا، تو یہ طرزِ عمل صحافتی یکجہتی کے بنیادی تصور کو کمزور کرتا ہے۔
یہاں ایک وضاحت بھی ضروری ہے: یہ کہنا مکمل طور پر درست نہیں کہ آج کسی بھی صحافتی تنظیم نے ارشد شریف کو یاد نہیں کیا۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے ان کی چوتھی برسی پر انصاف کا مطالبہ کیا ہے اور عدالتی کارروائی تیز کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ ملک کے مختلف پریس کلبوں، مقامی صحافتی تنظیموں اور صحافیوں کی نمائندہ قیادت نے اس معاملے کو کتنی نمایاں جگہ دی اور کیا یہ آواز عوام تک پہنچ پائی؟
ارشد شریف 23 اکتوبر 2022 کو کینیا میں پولیس فائرنگ سے جاں بحق ہوئے۔ ان کی موت کے حالات، ذمہ داروں کے تعین اور انصاف کی فراہمی سے متعلق سوالات آج بھی اہم ہیں۔ اس معاملے میں قیاس آرائیوں یا غیر ثابت شدہ دعوؤں کے بجائے شفاف تحقیقات، قابلِ اعتماد شواہد اور قانونی کارروائی پر زور دیا جانا چاہیے۔
ارشد شریف کے اہلِ خانہ کے لیے انصاف کا مطالبہ کسی سیاسی بحث کا ذیلی موضوع نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ایک بنیادی قانونی اور انسانی تقاضا ہے۔ صحافیوں کی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ اس معاملے پر اپنا مؤقف واضح رکھیں، متعلقہ حکام سے جواب طلب کریں اور تحقیقات و عدالتی کارروائی میں پیش رفت مسلسل عوام کے سامنے لائیں۔
یہ سوال صرف ارشد شریف کے لیے نہیں، ہر اس صحافی کے لیے ہے جو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران خطرات کا سامنا کرتا ہے۔ کسی صحافی کی زندگی میں اس کے کام، حقوق اور تحفظ کے لیے آواز اٹھانا جتنا ضروری ہے، اس کے قتل کے بعد انصاف کی جدوجہد جاری رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔
برسی محض پھول چڑھانے، تعزیتی پیغام جاری کرنے یا تصویری تقریب منعقد کرنے کا نام نہیں۔ اصل خراجِ عقیدت یہ ہے کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات ہوں، آزادیٔ صحافت کے اصولوں پر سمجھوتہ نہ کیا جائے اور کسی صحافی کے قتل کو وقت گزرنے کے ساتھ فراموش نہ ہونے دیا جائے۔
ارشد شریف کی چوتھی برسی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ صحافت میں اختلاف ہوسکتا ہے، سیاسی وابستگیاں مختلف ہوسکتی ہیں، مگر انصاف کے مطالبے پر اصولی یکجہتی ضروری ہے۔
ارشد شریف آج ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کے قتل کے معاملے میں انصاف کا سوال آج بھی زندہ ہے۔ صحافتی برادری کے لیے اصل امتحان یہی ہے کہ وہ اس سوال کو کب تک زندہ رکھتی ہے اور کیا وہ ارشد شریف کے ساتھ انصاف کرپاتی ہے؟





