سیاسی حلقوں میں خیبرپختونخوا کی حکومت دوبارہ پی ٹی آئی کے حوالے کرنے کی باتیں زور پکڑ رہی ہیں۔ تو دوسری جانب پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں علی امین گنڈاپور کو دوبارہ وزیراعلیٰ بنانے کی حمایت موجود ہے، بس عمران خان کے ایک اشارے کا انتظار ہے۔موجودہ صورتحال میں گورنر راج کے لیے چھ ماہ تو دور کی بات، امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگلے ایک دو ماہ میں ہی اسے ختم کرکے پی ٹی آئی کو اپنا وزیراعلیٰ لانے کا موقع دے دیا جائے۔ لیکن میرے واقفان حال کہتے ہے کہ اس بار علی امین گنڈاپور شائد خود وزیر اعلیٰ نہ بنے ۔ تین نام ہیں جن کے اوپر بات چیت ہو رہی ہے ۔ اور ان میں سے کوئی ایک وزیر اعلیٰ کے طور پر آسکتے ہیں ۔ ان میں سے ایک ایم پی اے کرک سے ہے ۔ اور دوسرا ہری پور سے اور تیسرا پشاور سے ہوگا اور یہ بات چیت ہو رہی ہے کہ ۔ جس دن اس وزیر اعلیٰ کیلئے ووٹنگ ہوگی اس دن صرف وہ ہی ایم پی ایز ایوان کے اندر موجود ہوں گے, جو اسکو ووٹ دیں گےاور جو ووٹ نہیں دینگے جو عمران خان کے ساتھ کھڑے ہوں گے وہ گرفتار ہوں گے یا کہیں اور ہوں گےلیکن کم از کم وہ ایوان کے اندر نہیں ہوں گے اس مرتبہ علی امین گنڈ پور پل کا کردار ادا کرینگے اس سلسلے میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی کا وفاق سے پہلا رابطہ ہوگیا ہےعلی امین گنڈا پور نے پارلیمانی پارٹی کی ہدایات پر وفاق سے رابطہ کیا ہے20اکتوبر کو پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں علی امین گنڈا پور کو مذاکرات کا مینڈیٹ دیاگیا تھا گورنر راج سے قبل وفاق کی مذاکراتی ٹیم میں شامل 2اہم وزراءسے بات کی گئی ہے جس میں سہیل آفریدی حکومت کی بحالی اور گرفتار کارکنان کی رہائی کو اولین ترجیح میں رکھا گیا ہے11اکتوبر کو گورنر راج کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی اور وفاق کے مابین رابطے منقطع ہوگئے تھے خیبرپختونخوا میں اس وقت ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ ہے
گورنر راج کی آئینی مدت
گورنر راج کو دو ماہ سے آگے جاری رکھنے کے لیے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی منظوری ضروری ہےہر مرتبہ زیادہ سے زیادہ 2 ماہ کی توسیع دی جا سکتی ہےزیادہ سے زیادہ حد گورنر راج کسی صورت میں مجموعی طور پر 6 ماہ سے زیادہ نافذ نہیں رہ سکتاخیبرپختونخوا کے تناظر میں اگر گورنر راج 11 اکتوبر 2026 کو نافذ ہوا تھا، تو عام آئینی طریقۂ کار کے تحت اس کی چھ ماہ کی زیادہ سے زیادہ مدت 11 اپریل 2027 کے آس پاس مکمل ہوگی، بشرطیکہ اس سے پہلے اسے ختم نہ کیا جائےاہم بات یہ ہے کہ گورنر راج کی مدت اور صوبائی حکومت کی مستقل برطرفی دو الگ معاملات ہیں؛ گورنر راج ختم ہونے کے بعد صوبائی حکومت کی آئینی حیثیت کا تعین متعلقہ قانونی صورتِ حال کے مطابق ہوگا
سردار فیضان حسین
خیبرپختونخوا کے سینئیر پارلمانی رپورٹر سردار فیضان حسین کے مطابق جو بازگشت ہو رہی ہے وزیر اعلی کی تبدیلی کی تو صوبائی اسمبلی میں اکثریت پی ٹی آئی کے پاس ہے اس لیے اسمبلی بحال ہو تو حکومت اسی کی بنے گی۔ مگر مشکل یہ ہے کہ وفاق نے سہیل آفریدی پر دہشت گردی سے نمٹنے کی پالیسی میں عدم تعاون کا الزام لگایا ہے ممکنہ حل یہ ہے کہ پارٹی کوئی نیا، نسبتاً قابلِ قبول وزیراعلیٰ لائے۔ اس کا انحصار وفاق اور پی ٹی آئی کے درمیان کسی سیاسی مفاہمت اور عمران خان کے معاملے پر ہو گا لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ جو لوگ بات کر رہے ہیں کہ سابق وزیر اعلی علی امین گنڈا پور کے ساتھ 68 ایم پی ایز ہیں تو باقی 24 ایم پی ایز کیا ووٹ نہیں پول کرینگے اور اپوزیشن اپنا کوئی قائد ایوان منتخب کرنے کیلئے کوئی رہنماء مقابلے میں نہیں کھڑا کرے گی اگر ہم تحریک انصاف اور حکومت کی پوزیشن کو دیکھیں تو اس وقت خیبر پختونخوا اسمبلی میں تحریک انصاف 92 اور اپوزیشن کی 53 نمائندے ہیں، اگر اپوزیشن کو 22 ایم پی ایز پی ٹی آئی کے ووٹ کر لیں تو اپوزیشن سے بھی قائد ایوان منتخب ہو سکتا ہےلیکن اگر دوسری جانب ہم صورتحال اور بیانات دیکھیں تو رانا ثناء اللہ کہہ چکے ہیں کہ گورنر راج اور ایمرجنسی غیر معینہ مدت کے لیے ہو سکتی ہے۔ آئینی حد کے باعث اس کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری یا کوئی نیا قانونی راستہ درکار ہو گا، اور اگر اسمبلی تحلیل ہوئی تو صوبے میں نئے انتخابات کا مرحلہ آ سکتا ہے۔ اس کا فیصلہ سیاسی ہو گا، لیکن یہ وفاق کے لیے بھی خطرے سے خالی نہیں، کیونکہ نتیجہ دوبارہ پی ٹی آئی کے حق میں آ سکتا ہے البتہ پشاور ہائیکورٹ میں درخواستوں کی سماعت 10 نومبر تک ملتوی ہے۔ عدالت نے فی الحال عبوری ریلیف نہیں دیادرخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ آرٹیکل 232 کے تحت اسمبلی کی قرارداد ضروری تھی، جو پاس نہیں ہوئی فیصلہ چھ ماہ سے پہلے بھی آ سکتا ہے اور خیبرپختونخوا کی سیاست پورا منظرنامہ بدل سکتا ہے
لیکن ایک بات ہے کہ فیصلہ سازوں نے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ اس بارے میں کرنا کیا ہے لیکن جو بھی ہم سن رہے ہیں جیسے 9 مئی کے بعد تحریک انصاف ایک بحران کا شکار ہوئی تھی اور بہت سے رہنماؤں نے پارٹی کو الوداع کہا تھا تو ابھی بھی وہی بحران چند عرصے میں ہو سکتا ہے کہ سب کو نظر آئے لیکن ایک بات یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف بحرانوں سے نکل ہی جاتی ہے اور دوبارہ وہ مقام حاصل کرتی ہے جو پہلے سے زیادہ بہتر ہو
بیرسٹر گوہر علی خان
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے پارلیمنٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی پہلے بھی ہمارے وزیراعلیٰ تھے، آج بھی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گےانہوں نے واضح کیا کہ سہیل آفریدی کو تبدیل کرنے کا اختیار صرف عمران خان کے پاس ہے، اس لیے کوئی ان کی تبدیلی کا نہ سوچے بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ اگر کسی کو اس حوالے سے کوئی خدشہ ہے تو وہ بطور چیئرمین پی ٹی آئی باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر سکتے ہیں
بیرسٹر سید علی ظفر
پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر سید علی ظفر کے مطابق پارٹی کے آئندہ لائحہ عمل کا اختیار پارلیمانی پارٹی کو دے دیا گیا ہے27 اکتوبر کے اجلاس میں مذاکرات یا دوبارہ احتجاج شروع کرنے کا فیصلہ ہوگااجلاس میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات، خواتین کی رہائی، علاج اور دیگر اہم معاملات پر بھی غور کرکے آئندہ حکمتِ عملی طے کی جائے گی
شوکت یوسفزئی
پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے فارورڈ بلا کی خبریں مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ پی ٹی آئی متحد ہے، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اس کا حق ملنا چاہئے ، سیاسی سپیس نہ ملا تو احتجاج پر غور ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کو 14 دن گزر گئے، اس دوران حکومت کا کوئی واضح وژن سامنے نہیں آیا، حکومت کی پالیسیوں، معاشی مشکلات، مہنگائی اور بے روزگاری نے ملک کو مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔شوکت یوسف زئی کا کہنا تھا کہ اگر سیاسی سپیس نہ ملا تو تحریک انصاف دوبارہ احتجاج شروع کرنے پر غور کر سکتی ہے، انہوں نے پارٹی میں فارورڈ بلاک کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف بیرسٹر گوہر کی قیادت میں متحد ہے اور پارٹی عمران خان کے بیانیے کو آگے بڑھائے گی۔سابق صوبائی وزیر نے دعویٰ کیا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے لیے حکومت نے آئینی تقاضے پورے نہیں کیے، ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی کا نفاذ سابق قبائلی علاقوں کے خیبرپختونخوا میں انضمام کو ختم کرنے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔انہوں نے اس معاملے پر پشاور ہائی کورٹ سے اہم فیصلے کی توقع ظاہر کی، تحریک انصاف کو سیاسی سپیس ملنی چاہیے اور پارٹی کی آئندہ حکمت عملی حکومتی رویے پر منحصر ہوگی۔ ان کے مطابق پارٹی اس وقت مزاحمتی اور مفاہمتی سیاست کے درمیان کھڑی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے ہمیشہ پُرامن جدوجہد کی ہے اور انہوں نے کبھی جیل توڑ کر عمران خان کو باہر نکالنے کی بات نہیں کی، ان کے مطابق وہ پارلیمانی پارٹی کے ساتھ رابطے میں ہیں اور پارٹی عمران خان کے بیانیے کو آگے بڑھائے گی
خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف عوام میں مقبول جماعت ہے مگر اس وقت مشکلات سے دو چار پے زرائع کہتے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ کچھ مہینوں میں ختم ہوجائے گا مگر ایمرجنسی نافذ مکمل طور پر بارہ اضلاع پر رہیگا، راج کے خاتمے سے قبل ہی صوبے میں ایوان کو چلانے کے لیے حکومت سازی کو فیصلہ کیا جائے گا اور ممکنہ طور پر ایک پر بھی خیبرپختونخوا کی بھاگ دوڑ تحریک انصاف کو مل سکتی ہے





