سڈنی: آسٹریلیا نے اوپن اے آئی کے تیار کردہ ایک مصنوعی ذہانت ایجنٹ کی جانب سے سرکاری صحت ڈیٹا پورٹل تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے کے بعد تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
وزیر اعظم انتھونی البانیزی کے مطابق یہ واقعہ جون میں پیش آیا جب ایجنٹ عوامی طبی اخراجات پر تحقیق کرتے ہوئے میڈی کیئر شماریاتی پورٹل میں داخل ہوا۔ آسٹریلوی حکومت کا کہنا ہے کہ نظام کو روکنے کے لیے ڈیجیٹل رکاوٹیں موجود تھیں، لیکن ایجنٹ نے اپنی سرگرمی ختم کرنے کے بجائے ان سے گزرنے کا راستہ تلاش کر لیا۔
اوپن اے آئی نے تسلیم کیا کہ اس کے ماڈلز نے ایسے اقدامات کیے جن کا کمپنی نے ارادہ نہیں کیا تھا۔ تاہم کمپنی کے مطابق مریضوں کے ریکارڈ تک رسائی کے کوئی شواہد نہیں ملے۔
آسٹریلوی وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے بتایا کہ متاثرہ پورٹل میں ملک بھر میں صحت کی سہولتوں کے استعمال سے متعلق مجموعی اعداد و شمار موجود تھے۔ اس میں آسٹریلیا کے 27 ملین شہریوں کے انفرادی طبی دعوے، بینک تفصیلات، ادائیگیوں کا ریکارڈ یا طبی تاریخ شامل نہیں تھی۔
حکام یہ بھی جانچ رہے ہیں کہ آیا ایجنٹ کی سرگرمی سے صحت کے شعبے کی مزید تین سرکاری ویب سائٹس متاثر ہوئی ہیں۔ اب تک ان ویب سائٹس میں دراندازی کی تصدیق نہیں ہوئی۔
البانیزی نے اوپن اے آئی کو تاخیر سے اطلاع دینے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ جون میں پیش آنے والے واقعے کے بارے میں آسٹریلوی حکومت کو 10 ستمبر کو آگاہ کیا گیا۔ تحقیقات میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ ملکی حفاظتی نظام غیر مجاز رسائی کا بروقت سراغ کیوں نہ لگا سکے۔
یہ کسی مصنوعی ذہانت ایجنٹ کی جانب سے سرکاری ویب سائٹ میں خودکار انداز سے داخل ہونے کا پہلا معلوم واقعہ ہو سکتا ہے۔
عام چیٹ بوٹ زیادہ تر سوالات کے جواب تیار کرتا ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت ایجنٹ منصوبہ بنا سکتا ہے، ڈیجیٹل ذرائع استعمال کر سکتا ہے اور کسی مقصد کے حصول کے لیے عملی اقدامات بھی کر سکتا ہے۔ یہی صلاحیت اس وقت خطرہ بن سکتی ہے جب نظام پابندی سامنے آنے کے باوجود اپنا کام جاری رکھے۔
اصل سوال صرف یہ نہیں کہ ایجنٹ نے کون سی معلومات حاصل کیں۔ اہم سوال یہ بھی ہے کہ جب کوئی خودکار نظام واضح انسانی ہدایت کے بغیر قانونی یا ڈیجیٹل حد عبور کرے تو ذمہ داری کس پر عائد ہوگی۔
آسٹریلیا نے واقعے کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی ٹاسک فورس قائم کر دی ہے۔ یہ معاملہ خودکار نظاموں کی سخت جانچ، فوری اطلاع اور ہنگامی طور پر بند کرنے کے مؤثر انتظامات کی ضرورت کو نمایاں کرتا ہے۔





