نیویارک: امریکا میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے والے بانڈز سرمایہ کاروں کی جانب سے فروخت کیے جا رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ خدشات ہیں کہ مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والی آمدنی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے لیے گئے قرضوں کی ادائیگی کے لیے ناکافی ثابت ہو سکتی ہے۔
حالیہ ہفتوں کے دوران میٹا، این ویڈیا، اوریکل اور مائیکروسافٹ سے منسلک منصوبوں کے بانڈز کی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔ اس کی وجوہات میں تعمیراتی اخراجات، بجلی کی فراہمی میں تاخیر اور مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری سے متوقع مالی منافع کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔
بانڈز کی فروخت سے متاثر ہونے والے منصوبوں میں ہائپیریئن (Hyperion)، سوپاپیلا (Sopaipilla) اور پروجیکٹ ایکسکیلیبر (Project Excalibur) شامل ہیں، جہاں کمپنیاں مصنوعی ذہانت کے لیے کمپیوٹنگ کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کی غرض سے ڈیٹا سینٹرز تعمیر کر رہی ہیں۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق بلیو آؤل اور میٹا کی حمایت یافتہ مالیاتی کمپنی بینیٹ انویسٹر (Beignet Investor) کی جانب سے ہائپیریئن منصوبے کے لیے جاری کیے گئے بانڈز کی قیمت جولائی میں ان کی اصل مالیت سے زیادہ تھی، جو اب کم ہو کر ایک ڈالر کے مقابلے میں 91 سینٹ سے بھی نیچے آ گئی ہے۔
اسی طرح ہٹ 8 (Hut 8) کے زیرِ انتظام امریکی ریاستوں لوزیانا اور ٹیکساس میں قائم کیے جانے والے دو منصوبوں کے بانڈز کی قیمتیں بالترتیب تقریباً 93 سینٹ اور 91 سینٹ فی ڈالر تک گر گئی ہیں۔
امریکی ریاست جارجیا میں واقع پروجیکٹ ایکسکیلیبر سے منسلک قرض کی مالیت بھی ایک ڈالر کے مقابلے میں 87 سینٹ سے نیچے آ گئی ہے۔ یہ ڈیٹا سینٹر بلیک اسٹون کی ملکیتی کمپنی کیو ٹی ایس (QTS) کا ہے اور مائیکروسافٹ کو لیز پر دیا گیا ہے۔
مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی کمپنیوں کو کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی سہولیات فراہم کرنے والے اداروں کو اس سے بھی زیادہ مالی دباؤ کا سامنا ہے۔
این ویڈیا کی حمایت یافتہ کمپنی کورویو (CoreWeave) کے جاری کردہ بانڈز کی قیمت ایک ڈالر کے مقابلے میں 75 سینٹ سے بھی کم ہو گئی ہے، جو عموماً مالی مشکلات کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس کمی کے نتیجے میں بدھ کو ان بانڈز کی متوقع شرح منافع تقریباً 16 فیصد تک پہنچ گئی۔
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کورویو کے حصص کی قیمت میں تقریباً 25 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کی حریف کلاؤڈ انفراسٹرکچر کمپنی نیبیئس (Nebius) کے حصص کی قیمت 20 فیصد سے زیادہ گر گئی۔
مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں اور کلاؤڈ انفراسٹرکچر فراہم کرنے والے اداروں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے والی کمپنی این ویڈیا کی مارکیٹ ویلیو بھی اسی عرصے کے دوران 300 ارب ڈالر سے زیادہ کم ہو گئی ہے۔
سرمایہ کاروں کے خدشات میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب اوپن اے آئی نے اپنی ابتدائی عوامی پیشکش، یعنی آئی پی او، اگلے سال تک مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا، جبکہ مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی کمپنی اینتھروپک (Anthropic) کی سہ ماہی فروخت میں اضافے کی رفتار بھی سست پڑ گئی۔
تجزیہ کاروں نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت کی خدمات سے حاصل ہونے والی آمدنی ڈیٹا سینٹرز، کمپیوٹنگ آلات اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے پر کی جانے والی سرمایہ کاری کے حجم کو معاشی طور پر قابلِ جواز ثابت کر سکے گی۔
جرمن مالیاتی ادارے الیانز (Allianz) کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر لوڈووِک سبران نے موجودہ صورتحال کو ایک ایسا مرحلہ قرار دیا جس میں مالی طور پر کمزور ڈیٹا سینٹر کمپنیاں اپنے قرضوں اور دیگر مالی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا کر سکتی ہیں۔
ان کے مطابق قرضوں پر اضافی منافع کی شرح میں اضافہ تعمیراتی منصوبوں میں تاخیر، بجلی کی دستیابی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی تکمیل سے منسلک خطرات کے بارے میں سرمایہ کاروں کے خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔
ٹیکنالوجی سے متعلق مشاورتی ادارے گارٹنر (Gartner) کی رواں ہفتے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے لیے کلاؤڈ انفراسٹرکچر فراہم کرنے والی تقریباً 80 فیصد کمپنیاں، جنہیں نیو کلاؤڈز (Neoclouds) کہا جاتا ہے، 2030 تک آزادانہ طور پر کام کرنا بند کر دیں گی۔
یہ پیش گوئی بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے اخراجات اور مصنوعی ذہانت کی خدمات سے متوقع مالی منافع کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق سے متعلق خدشات کی بنیاد پر کی گئی ہے۔
بانڈز کی قیمتوں میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ سرمایہ کار مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کی مالی معاونت سے منسلک خطرات کا دوبارہ جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ کمپنیاں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر اور توسیع پر مزید سرمایہ لگانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ان پیش رفتوں نے یہ سوال بھی پیدا کر دیا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والی آمدنی میں اضافہ قرضوں اور بنیادی ڈھانچے کے اخراجات کی رفتار کے مطابق نہ ہو سکا تو یہ صنعت مستقبل میں اپنی مزید توسیع کے لیے مالی وسائل کیسے حاصل کرے گی۔





