ایمسٹرڈیم: مصنوعی ذہانت کے لیے ڈیٹا سینٹرز کی تیزی سے تعمیر نے ایسے کیمیائی مادوں کی طلب بڑھنے کے خدشات پیدا کر دیے ہیں جو ماحول میں انتہائی آہستگی سے تحلیل ہوتے ہیں اور جنہیں عام طور پر فورایور کیمیکلز کہا جاتا ہے۔
گرین پیس نے دو اکتوبر کی ایک تحریر میں کہا کہ پی ایف اے ایس نامی یہ مادے چِپس، سرکٹ بورڈز اور کیبل کی تہوں سمیت مختلف اجزا میں استعمال ہوتے ہیں۔ تنظیم کے مطابق کیمیائی صنعت انہیں ڈیٹا سینٹرز کے کولنگ سسٹمز میں بھی فروغ دے رہی ہے۔
سویڈن کی تنظیم کیم سیک نے بھی بڑے پیداواری اداروں کے توسیعی منصوبوں کا جائزہ لینے کے بعد خبردار کیا کہ کمپنیاں اے آئی صنعت کی متوقع طلب پوری کرنے کے لیے پیداوار بڑھا رہی ہیں۔ تنظیم نے چھ اکتوبر کو ریگولیٹرز سے مطالبہ کیا کہ ان مادوں پر نیا صنعتی انحصار پیدا ہونے سے روکا جائے۔
پی ایف اے ایس ہزاروں مصنوعی کیمیائی مادوں کا مجموعہ ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ کے ادارے ای پی اے کے مطابق ان میں سے بہت سے انتہائی آہستہ تحلیل ہوتے ہیں اور وقت کے ساتھ انسانوں، جانوروں اور ماحول میں جمع ہوسکتے ہیں۔ صنعتی پیداوار اور فضلے کے ذریعے یہ پانی، مٹی اور خوراک تک پہنچ سکتے ہیں۔
تشویش کا ایک اہم پہلو سرورز کو ٹھنڈا رکھنے کا نظام ہے۔ بعض طریقوں میں برقی آلات کو حرارت منتقل کرنے والے خصوصی مائع میں رکھا جاتا ہے۔ کچھ سسٹمز میں پی ایف اے ایس والے مائع استعمال ہوتے ہیں، جن کی تیاری، استعمال اور تلفی آلودگی کے خطرات پیدا کرسکتی ہے۔ تاہم، ہر ڈیٹا سینٹر ایسا نظام استعمال نہیں کرتا۔
کیم سیک کے مطابق پی ایف اے ایس کے بغیر کولنگ ٹیکنالوجی پہلے ہی دستیاب ہے اور مارکیٹ میں زیادہ استعمال ہوتی ہے۔ تنظیم نے کہا کہ پانی کی بچت کے نام پر دیرپا کیمیائی آلودگی کا مسئلہ پیدا نہیں ہونا چاہیے۔
ای پی اے کے مطابق بعض پی ایف اے ایس سے واسطے کو کچھ سرطانوں، مدافعتی ردعمل میں کمی اور تولیدی و نشوونما کے مسائل سے منسلک پایا گیا ہے۔ خطرے کا انحصار مخصوص مادے، مقدار اور واسطے کی مدت پر ہوتا ہے۔
تنظیموں کا انتباہ بڑھتی طلب اور مستقبل کی آلودگی سے متعلق ہے۔ اس سے اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی پیدا کردہ عالمی پی ایف اے ایس آلودگی کی کوئی مجموعی پیمائش ثابت نہیں ہوتی۔





