کراچی: پاکستانی اداکارہ عروہ حسین نے ملکی تفریحی صنعت میں کامیابی کے معیار کے طور پر نیٹ فلکس کو دی جانے والی بڑھتی ہوئی اہمیت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی ڈراموں نے صرف تجارتی عوامل کے بجائے اپنی کہانیوں کی بدولت شہرت حاصل کی ہے۔
اپنے ڈرامے ’آپ کی عزت‘ سے متعلق ایک انٹرویو میں عروہ حسین نے کہا کہ پاکستانی مواد کی اپنی ایک الگ شناخت ہے اور اسے اپنی اہمیت ثابت کرنے کے لیے نیٹ فلکس کی توثیق کی ضرورت نہیں۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور بیرونِ ملک ناظرین میں مقبولیت کے باوجود بین الاقوامی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر پاکستانی ٹیلی ویژن ڈراموں کی محدود موجودگی کے حوالے سے بحث جاری ہے۔
پاکستانی ڈرامے یوٹیوب پر بھی بڑی تعداد میں ناظرین کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں، جہاں ٹیلی ویژن نیٹ ورکس اپنی اقساط دستیاب کرتے ہیں اور انہیں دیکھنے کے لیے کسی اسٹریمنگ سروس کی سبسکرپشن ضروری نہیں ہوتی۔
حالیہ ڈراموں ’درِ نجات‘ اور ’مٹی دے باوے‘ نے بھی پاکستانی ٹیلی ویژن کے ڈیجیٹل ناظرین سے متعلق بحث کو آگے بڑھایا ہے۔ ان ڈراموں کے ویوز عوامی دلچسپی کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم مختلف پروڈکشنز کی مقبولیت کا تقابلی جائزہ لینے سے پہلے انفرادی اعداد و شمار کی تصدیق ضروری ہے۔
یوٹیوب پر پاکستانی ڈراموں کی مقبولیت یہ سوال بھی پیدا کرتی ہے کہ کیا کامیابی جانچنے کے لیے نیٹ فلکس کو بنیادی معیار سمجھنا درست ہے، خصوصاً جب مقامی پروڈکشنز پہلے ہی دوسرے ذرائع سے ناظرین تک پہنچ رہی ہیں۔
تاہم نیٹ فلکس بین الاقوامی سطح پر مواد کی تقسیم کا ایک مختلف نظام فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے پاکستانی ٹیلی ویژن چینلز کے روایتی ناظرین سے ہٹ کر نئے ناظرین تک رسائی ممکن ہوتی ہے۔
اس پلیٹ فارم پر موجودگی پروڈیوسرز، اداکاروں اور پروڈکشن کمپنیوں کے لیے مزید مواقع بھی پیدا کر سکتی ہے۔
نیٹ فلکس ماضی میں پاکستانی مواد پیش کر چکا ہے، جس میں ٹیلی ویژن ڈرامے ’ہمسفر‘ اور ’زندگی گلزار ہے‘ کے علاوہ فلم ’طیفا اِن ٹربل‘ بھی شامل ہیں۔
بعد میں نیٹ فلکس نے بعض ممالک میں ان عنوانات کو اپنے پلیٹ فارم سے ہٹا دیا تھا، تاہم مختلف خطوں میں ان کی دستیابی کی صورت حال مختلف رہی ہے۔
پاکستانی نیٹ فلکس پروجیکٹ ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کی پیش رفت سے متعلق بھی سوالات سامنے آتے رہے ہیں۔ اس منصوبے نے اپنی پروڈکشن اور ریلیز سے متعلق خبروں کے بعد خاصی توجہ حاصل کی تھی۔
اس حوالے سے بعض غیر مصدقہ دعوے بھی گردش کرتے رہے ہیں کہ بھارتی تفریحی صنعت سے وابستہ حلقوں کی لابنگ نے نیٹ فلکس پر پاکستانی پروڈکشنز کے امکانات کو متاثر کیا ہے۔
عروہ حسین کے بیان نے بین الاقوامی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر پذیرائی حاصل کرنے اور ناظرین کی جانب سے کسی پروڈکشن کی طلب کے درمیان فرق کو نمایاں کیا ہے۔
اگرچہ نیٹ فلکس پر ریلیز کسی پروڈکشن کو مزید وسیع بین الاقوامی ناظرین تک پہنچا سکتی ہے، تاہم پاکستانی ٹیلی ویژن ڈرامے نشریاتی چینلز اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے پہلے ہی اپنے ناظرین تک پہنچ رہے ہیں۔





