کراچی: حکومتِ سندھ کے ایک منصوبے کے تحت تیار کی گئی پاکستانی فیچر فلم کالا پانی کو کانز میں منعقد ہونے والے ورلڈ فلم فیسٹیول ’’ری ممبر دی فیوچر‘‘ (Remember the Future) میں بہترین کہانی پر مبنی فیچر فلم (Best Narrative Feature Film) کے ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ اس نامزدگی کا اعلان فلم کی ٹیم نے کیا۔
اس نامزدگی کے بعد حکومتِ سندھ کی سرپرستی میں بننے والی فلم فیسٹیول کی بہترین کہانی پر مبنی فیچر فلم کی کیٹیگری میں دیگر فلموں کے ساتھ مقابلے میں شامل ہو گئی ہے۔ تاہم اعلان میں فلم کی نمائش کی تاریخ یا ایوارڈ کے نتائج جاری ہونے کے وقت کی وضاحت نہیں کی گئی۔
فلم کی ہدایت کاری رانا کامران نے کی ہے، جبکہ اس کی کہانی ہاشم ندیم نے تحریر کی ہے۔ فلم کے پروڈیوسر نعمان النبی ہیں اور ایم ایچ ایل پروڈکشنز نے ایگزیکٹو پروڈیوسر کی ذمہ داریاں انجام دی ہیں۔
فلم کی کاسٹ میں مرزا گوہر رشید، حرا مانی، عمر عالم، سلیم معراج اور ثاقب سمیر شامل ہیں۔
اس فلم کو حکومتِ سندھ کی جانب سے فلم سازی کے فروغ اور صوبے سے متعلق کہانیوں کو وسیع تر ناظرین تک پہنچانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
تاہم فلم کی ٹیم کی جانب سے جاری اعلان میں اس کی کہانی، پیداواری بجٹ یا سنیما گھروں میں نمائش کے شیڈول کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
کانز میں منعقد ہونے والا ورلڈ فلم فیسٹیول ’’ری ممبر دی فیوچر‘‘ مرکزی کانز فلم فیسٹیول (Festival de Cannes) سے الگ ایک فلمی میلہ ہے۔ مرکزی کانز فلم فیسٹیول میں پالم ڈی اور (Palme d'Or) ایوارڈ دیا جاتا ہے۔
یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ کئی فلمی تقریبات اپنے نام میں کانز کا استعمال کرتی ہیں، تاہم ان کی فلموں کے انتخاب اور ایوارڈز کا نظام ایک دوسرے سے الگ ہوتا ہے۔
اس لیے ورلڈ فلم فیسٹیول اِن کانز میں نامزدگی کا مطلب یہ نہیں کہ فلم کو مرکزی کانز فلم فیسٹیول کے لیے بھی منتخب کر لیا گیا ہے۔
کالا پانی کے لیے یہ نامزدگی پاکستان سے باہر ناظرین اور فلمی صنعت سے وابستہ افراد تک پہنچنے کا ایک موقع فراہم کرتی ہے، تاہم اس کا انحصار فیسٹیول میں فلم کی نمائش اور تقسیم کے انتظامات پر ہوگا۔
فلم سازی میں حکومتِ سندھ کا کردار
یہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلم سازی کے ذریعے پاکستان کی تخلیقی صنعتوں کو فروغ دینے اور اداکاروں، مصنفین، ہدایت کاروں اور تکنیکی شعبوں سے وابستہ افراد کے لیے مواقع پیدا کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
حکومتی سرپرستی میں بننے والی فلموں کو سرکاری فنڈنگ، پیداواری سہولتوں یا ادارہ جاتی شراکت داری کی صورت میں معاونت فراہم کی جا سکتی ہے۔
فلم کی ٹیم کے اعلان میں کالا پانی کو حکومتِ سندھ کا منصوبہ قرار دیا گیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ حکومت نے کس نوعیت کی معاونت فراہم کی یا اس منصوبے کے لیے کتنی رقم مختص کی گئی۔
فلم کی نامزدگی اس کی پروڈکشن ٹیم کے لیے ایک پیش رفت ہے، تاہم اس کے وسیع تر اثرات کا انحصار فلمی میلوں میں شرکت، تقسیم کے انتظامات اور ناظرین تک رسائی پر ہوگا۔
پاکستان میں فلم کی ریلیز اور ورلڈ فلم فیسٹیول اِن کانز میں اس کی شرکت کے شیڈول سے متعلق مزید تفصیلات کا اعلان تاحال نہیں کیا گیا۔





