لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں بننے والی پنجابی اور اردو فلموں کے لیے مالی رعایت کی پالیسی کی منظوری دیتے ہوئے حکام کو فلمی صنعت کے لیے ملک کا پہلا رائلٹی قانون تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اتوار کو جاری ہونے والی سرکاری پریس ریلیز کے مطابق اس فیصلے کا اعلان سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے لاہور میں پنجاب فلم اتھارٹی کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
منظور شدہ پالیسی کے تحت پنجاب میں بننے والی پنجابی زبان کی فلموں کو 35 فیصد جبکہ اردو زبان کی فلموں کو 20 فیصد مالی رعایت دی جائے گی۔
حکومت کے مطابق ان مراعات کا مقصد فلم سازی کے اخراجات کم کرنا، نئی فلموں کی تیاری کی حوصلہ افزائی کرنا اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
مریم اورنگزیب نے بتایا کہ فلمی صنعت کے لیے مجوزہ رائلٹی قانون پنجاب فلم اتھارٹی کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ تاہم قانون کی تفصیلات، خصوصاً رائلٹی کی رقم کے تعین، وصولی اور تقسیم کے طریقہ کار سے متعلق معلومات ابھی سامنے نہیں آئیں۔
حکومت نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ فلم سازی کے کن اخراجات پر مالی رعایت دی جائے گی، درخواستیں کس طریقہ کار کے تحت وصول کی جائیں گی، فنڈز کی حد کیا ہوگی اور فلم سازوں کو اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے کن شرائط کو پورا کرنا ہوگا۔
ان تفصیلات کے سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگا کہ یہ مراعات عملی طور پر کس طرح فراہم کی جائیں گی اور کون سی فلمیں ان سے مستفید ہو سکیں گی۔
فلمی صنعت کی بحالی اور حکومتی کردار
پاکستان میں فلمی صنعت کے فروغ کے لیے حکومتی اقدامات کی تاریخ قیامِ پاکستان کے ابتدائی عشروں سے جڑی ہوئی ہے۔
صدر ایوب خان کے دورِ حکومت، 1958 سے 1969 کے دوران، فلمی صنعت کو درپیش مسائل کا جائزہ لینے کے لیے ایک فلم فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کی گئی تھی۔
کمیٹی نے 1962 میں اپنی رپورٹ پیش کی، جس میں فلم سازی کے لیے مالی وسائل، ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ تربیت اور ادارہ جاتی معاونت جیسے معاملات کا جائزہ لیا گیا تھا۔
اگرچہ کمیٹی کی متعدد سفارشات پر عمل درآمد نہیں ہو سکا، تاہم اس دور میں فلموں کی سالانہ پیداوار میں اضافہ ہوا۔ پاکستانی سینما سے متعلق تحقیقی اعداد و شمار کے مطابق ایوب خان کے دور میں سالانہ فلموں کی تعداد 11 سے بڑھ کر 48 تک پہنچ گئی تھی۔
اس عرصے میں حکومت کا کردار دستاویزی فلموں اور نیوز ریلز کی تیاری تک بھی پھیلا ہوا تھا، جبکہ فلم سازوں کو سنسرشپ کی پابندیوں کا بھی سامنا رہا۔
پنجاب حکومت کا موجودہ اقدام ماضی کی حکومتی مداخلت سے مختلف نوعیت کا ہے، جس میں فلم سازی کے لیے مالی مراعات، بنیادی ڈھانچے کی فراہمی اور تخلیقی کام کے قانونی حقوق کے تحفظ پر توجہ دی جا رہی ہے۔
فلم سٹی اور فلم سازی کے لیے بنیادی سہولیات
مالی رعایت کی پالیسی کے ساتھ پنجاب فلم اتھارٹی نے لاہور میں 15 دسمبر کو فلم سٹی کے افتتاح کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے۔
مجوزہ فلم سٹی میں فلم اسٹوڈیوز، فلم اور موسیقی کی تعلیم کے لیے ادارہ، میوزیم، پوسٹ پروڈکشن کی سہولیات اور کنونشن سینٹر شامل ہوں گے۔
اتھارٹی نے فلم سازوں کی معاونت کے لیے ایک آن لائن سہولت قائم کرنے کے منصوبے کی بھی منظوری دی ہے، جس کے ذریعے شوٹنگ کے مقامات سے متعلق معلومات، سینما گھروں کی بحالی، ڈیجیٹل ٹکٹنگ اور بین الاقوامی ماہرین کی مدد سے تربیتی پروگراموں تک رسائی فراہم کی جائے گی۔
مالی سال 2026-27 کے لیے 58 کروڑ 90 لاکھ روپے سے زائد کا مجوزہ بجٹ بھی جائزے کے لیے فنانسنگ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا ہے۔
یہ پالیسی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان میں فلم سازی کو محض تفریح کے بجائے تخلیقی معیشت کے ایک اہم شعبے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
فلموں کی تیاری سے اداکاروں، پروڈکشن عملے، تکنیکی ماہرین، آلات کرائے پر فراہم کرنے والے اداروں، ٹرانسپورٹ، ہوٹلنگ، پوسٹ پروڈکشن اور فلموں کی تقسیم سے وابستہ کاروباروں کے لیے معاشی سرگرمیاں پیدا ہوتی ہیں۔
اگر نئی مراعات کے نتیجے میں فلموں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے تو اس سے روزگار، کاروباری آمدن اور متعلقہ شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔
تاہم ان اقدامات کے معاشی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کتنی فلمیں مراعات کی اہل قرار پاتی ہیں، نجی شعبے سے کتنی سرمایہ کاری حاصل ہوتی ہے اور فلمیں اپنے پیداواری اخراجات پورے کرنے میں کس حد تک کامیاب رہتی ہیں۔
وفاقی سطح پر پاکستان پہلے ہی فلم اینڈ ڈرامہ فنانس فنڈ قائم کر چکا ہے، جس کا مقصد فلموں اور ڈراموں کی تیاری کے لیے گرانٹس اور رعایتی مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔
اسی طرح نیشنل سینٹر فار فلمز کو فلمی صنعت کے لیے مراعات، بین الاقوامی تعاون اور پیشہ ورانہ ترقی سے متعلق ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
سندھ میں ثقافتی اور اسکرین سے متعلق سرگرمیوں کے فروغ کی کوششیں بھی اس وسیع تر بحث کا حصہ ہیں کہ روایتی فلمی مراکز سے باہر فلم سازی کو کس طرح ترقی دی جا سکتی ہے۔
تاہم سندھ میں پنجاب جیسی کسی موجودہ فلم ریبیٹ پالیسی کی تفصیلات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
سینما، اسٹریمنگ پلیٹ فارمز اور ثقافتی رسائی
او ٹی ٹی (OTT) اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے پھیلاؤ نے فلموں کو ناظرین تک پہنچانے کے طریقوں میں بھی تبدیلی پیدا کی ہے۔
روایتی سینما میں فلموں کی نمائش کا انحصار سینما اسکرینوں اور ٹکٹوں کی فروخت پر ہوتا ہے، جبکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز فلموں کو مقامی اور بین الاقوامی ناظرین تک پہنچانے کے اضافی مواقع فراہم کرتے ہیں۔
پاکستانی فلم سازوں کے لیے اسٹریمنگ پلیٹ فارمز تک رسائی ملکی سینما مارکیٹ سے باہر ناظرین تک پہنچنے کے نئے امکانات پیدا کر سکتی ہے۔
تاہم فلم سازی کے لیے مالی مراعات ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی فلم کو لازماً اسٹریمنگ پلیٹ فارم پر جگہ مل جائے گی یا وہ تجارتی طور پر کامیاب ہوگی۔
فلمیں مقامی زبانوں، ثقافت، مقامات اور کہانیوں کو بین الاقوامی ناظرین تک پہنچا کر پاکستان کی ثقافتی شناخت کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں بھی کردار ادا کر سکتی ہیں۔
یہ مقصد وفاقی حکومت کے موجودہ فلمی معاونتی پروگراموں میں بھی شامل ہے۔
پنجاب حکومت کا مجوزہ رائلٹی قانون اس تناظر میں بھی اہمیت اختیار کر سکتا ہے کہ فلمیں اب سینما گھروں کے ساتھ ٹیلی ویژن اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی تقسیم کی جاتی ہیں، جہاں تخلیقی حقوق رکھنے والے افراد اور اداروں کو ادائیگیوں کے لیے مختلف معاہداتی طریقہ کار اختیار کیے جاتے ہیں۔
پنجاب فلم اتھارٹی کے آئندہ اجلاس میں مجوزہ قانون سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔
فی الحال پنجابی اور اردو فلموں کے لیے مالی رعایت کی شرح کی منظوری دی جا چکی ہے اور رائلٹی قانون کا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے، تاہم قانون کی حتمی دفعات اور اس کے نفاذ کے شیڈول کا اعلان ابھی باقی ہے۔





