اسلام آباد: ڈرامہ ’مٹی دے باوے‘ نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی ہے اور ناظرین اس کی اداکاری سے لے کر منظرکشی اور ملبوسات تک ہر پہلو پر گفتگو کر رہے ہیں۔ ماہرہ خان کے منفرد انداز اور ملبوسات کے پیچھے معروف اسٹائلسٹ فیحہ جمشید کی تخلیقی صلاحیتیں کارفرما ہیں، جن کی ماہرہ کے ساتھ طویل عرصے سے جاری شراکت داری نے اداکارہ کے کئی یادگار کرداروں کی ظاہری شخصیت کو تشکیل دیا ہے۔
کیو او ایم کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں فیحہ جمشید نے ڈرامے میں کام کرنے کے تجربے اور اس کے کرداروں کی ظاہری شخصیت کو تشکیل دینے کے لیے کیے گئے تخلیقی فیصلوں پر گفتگو کی۔
انہوں نے بتایا، ’’میں نے پندرہ سال پہلے ’ہمسفر‘ میں کام کیا تھا، اس کے بعد ’صدقے تمہارے‘ اور ’شہرِ ذات‘ کے لیے بھی کچھ کام کیا۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ایسے منصوبوں پر کام کرتے ہوئے کبھی اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ کتنے بڑے اور مقبول ثابت ہوں گے۔
فیحہ نے اپنے بڑوں کی ایک نصیحت بھی یاد کی، ’’نیت صاف رکھو، منزل آسان۔‘‘
فیحہ کے مطابق ماہرہ خان کے ساتھ ان کے طویل پیشہ ورانہ تعلق کی بنیاد باہمی اعتماد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ماہرہ کے ملبوسات کے انتخاب میں مداخلت نہیں کرتیں بلکہ ان کی توجہ اسٹائلنگ پر ہوتی ہے۔ ماہرہ نے انہیں ’مٹی دے باوے‘ کی تیاری کے ابتدائی مراحل ہی میں اس منصوبے کا حصہ بنا لیا تھا۔
فیحہ نے ڈرامے کی خوب صورت منظرکشی کا سہرا ہدایت کار سید وجاہت حسین کے سر بھی باندھا۔ سرمد کھوسٹ اور مومنہ درید جیسی نمایاں شخصیات کے ساتھ کام کرنے کے بعد انہوں نے وجاہت حسین کو ایک ایسا ہدایت کار قرار دیا جو خود ہر کام کی نگرانی کرتے ہیں اور ہر فریم کی باریکیوں پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔
فیحہ کے مطابق ’مٹی دے باوے‘ کے بہت سے مناظر کسی خوب صورت پینٹنگ کا تاثر دیتے ہیں، جس کی وجہ ہر چھوٹی سے چھوٹی تفصیل پر دی جانے والی توجہ ہے۔ دیواروں کے رنگ سے لے کر اداکاروں کے ملبوسات تک، وجاہت حسین کے ذہن میں ہر منظر کی ایک واضح تصویر موجود ہوتی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ کسی بھی منصوبے کو قبول کرنے سے پہلے وہ اس کا اسکرپٹ ضرور مانگتی ہیں تاکہ کرداروں کو سمجھ سکیں اور پھر اسی مناسبت سے ان کے ملبوسات اور انداز تیار کر سکیں۔
’مٹی دے باوے‘ کے حوالے سے انہیں یہ بات خاص طور پر پسند آئی کہ ڈرامے کا اسکرپٹ رومن اردو کے بجائے اردو رسم الخط میں لکھا گیا تھا۔ ان کے نزدیک زبان کی اصل خوب صورتی اسی وقت برقرار رہتی ہے جب اسے اس کے اپنے رسم الخط میں لکھا جائے۔
بلو کی بدلتی شخصیت کے پیچھے فطرت کے چار عناصر
ڈرامے میں فیحہ کے کام کا ایک دلچسپ پہلو بلو، جسے بلقیس بھی کہا جاتا ہے، کی بدلتی ہوئی ظاہری شخصیت اور ملبوسات تھے۔
انہوں نے بتایا کہ اس کردار کے سفر کو تین مراحل میں تقسیم کیا گیا تھا، جبکہ اس کی اسٹائلنگ کے لیے فطرت کے چار عناصر سے مدد لی گئی۔
ڈرامے کی تیاری کے ابتدائی مراحل میں ماہرہ خان سے کم عمر بلو کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی تھی۔
بلقیس کے دوسرے مرحلے میں فیحہ نے پانی اور ہوا کے عناصر کو بنیاد بنایا۔ انہوں نے ہلکے کپڑوں، خصوصاً آرگنزا کے دوپٹوں کا استعمال کیا تاکہ کردار کی ظاہری شخصیت میں ہلکا پن اور ہوا جیسا احساس پیدا ہو۔ یہ انداز بلقیس کی اپنے ماضی سے فرار ہونے کی کوشش کی عکاسی کرتا تھا۔
تیسرے مرحلے میں کردار کی اسٹائلنگ زمین اور آگ کے عناصر کی طرف منتقل ہوئی، جن کے ذریعے اس کے تاریک جذبات اور انتقام کی کیفیت کو ظاہر کیا گیا۔
فیحہ نے 1980 کی دہائی کے فیشن سے بھی رہنمائی حاصل کی، جس میں معروف گلوکارہ نازیہ حسن کے انداز کے حوالے بھی شامل تھے۔
ماہرہ کی نتھ سے لے کر ان کے مجموعی ملبوسات تک، ہر چیز کو کردار کے بدلتے ہوئے حالات اور جذبات کے مطابق ترتیب دیا گیا۔
فیحہ کا کہنا تھا کہ وہ کسی کردار پر اپنا ذاتی انداز مسلط کرنے کے بجائے خود کو اس کردار کے مطابق ڈھالنے پر یقین رکھتی ہیں، تاکہ کہانی کے ساتھ اس کی ظاہری شخصیت بھی فطری انداز میں تبدیل ہوتی رہے۔
انہوں نے کردار کو عبایا نہ پہنانے کے فیصلے کی وضاحت بھی کی۔ ان کے مطابق عبایا بنیادی طور پر عرب ثقافت سے تعلق رکھتا ہے اور بعد میں برصغیر کی ثقافت کا حصہ بنا۔
روایتی دستکاری کو اسکرین پر لانے کی کوشش
فیحہ نے اونی ہینڈ میڈ (Oni Handmade) اور اس کی تخلیقی روح جینا کے ساتھ اپنے اشتراک پر بھی بات کی، جو دیہی پنجاب کی خواتین دستکاروں کے ساتھ کام کرتی ہیں۔
انہوں نے ان خواتین کے نفیس ہاتھ کے کام، خصوصاً کراس اسٹیچ، کامدانی اور شیڈو ورک کا ذکر کیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے ان کی تیار کردہ مصنوعات میں استعمال ہونے والے کپڑوں کی نرمی کو بھی سراہا۔
ان روایتی تکنیکوں نے ڈرامے کے ملبوسات کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا اور مقامی دستکاری کو اس کی بصری شناخت کا حصہ بنانے میں مدد دی۔
فیحہ نے ماہرہ خان کے ساتھ کام کرنے والی ٹیم کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق ماہرہ جب کسی فلم یا ڈرامے کے سیٹ پر جاتی ہیں تو ان کے ساتھ ایک مخصوص ٹیم ہوتی ہے، جو اسکرین پر ان کے انداز میں یکسانیت اور معیار برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
پائیدار فیشن اور ذاتی انداز
’مٹی دے باوے‘ کے علاوہ فیحہ نے فیشن انڈسٹری میں آنے والی تبدیلیوں اور کپڑوں پر مہنگائی کے اثرات پر بھی گفتگو کی۔
انہوں نے کہا کہ کپڑوں کا معیار کم ہوا ہے، جبکہ اچھی سلائی اور معیاری کپڑوں سے تیار کردہ ملبوسات پہلے سے زیادہ مہنگے ہو گئے ہیں۔ انہوں نے صارفین کو مشورہ دیا کہ زیادہ کپڑے خریدنے کے بجائے معیار کو ترجیح دیں۔
فیحہ نے پاکستانی برانڈز سفائر، کھاڈی اور کوکو کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ان کا کام پسند ہے۔
ماہرہ خان کے ذاتی فیشن اور لباس کے انتخاب پر بات کرتے ہوئے فیحہ نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ان کے انداز میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی بلکہ وہ کافی حد تک پہلے جیسا ہی رہا ہے۔
فیحہ کے لیے، چاہے وہ کسی ہدایت کار کے ساتھ پہلی مرتبہ کام کر رہی ہوں یا کسی پرانے ساتھی کے ساتھ دوبارہ کسی منصوبے کا حصہ بن رہی ہوں، ان کے کام کا آغاز اسکرپٹ پڑھنے اور کردار کو سمجھنے سے ہوتا ہے۔
اسی سوچ نے ’مٹی دے باوے‘ میں بلو کی بدلتی ہوئی ظاہری شخصیت کو تشکیل دیا، جہاں ابتدائی مراحل کے ہلکے اور نرم ملبوسات سے لے کر بعد کے حصوں میں گہرے رنگوں اور سنجیدہ انداز تک، ہر تبدیلی کردار کے سفر اور اس کے بدلتے ہوئے جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔





