کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے فلم ’گھوسٹ اسکول‘ پر سینسر بورڈ کے بیشتر اعتراضات اور مناظر میں ترمیم کے احکامات کالعدم قرار دیتے ہوئے بورڈ کو ہدایت کی ہے کہ وہ 10 روز کے اندر فلم کے سرٹیفکیٹ کے اجرا پر دوبارہ غور کرے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں آئینی حقِ آزادیٔ اظہار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فلم کی درجہ بندی کرتے وقت کم سے کم پابندیوں والا مناسب زمرہ اختیار کیا جائے اور غیر ضروری مناظر حذف نہ کیے جائیں۔ تاہم فلم سازوں نے اسکول کے ایک منظر میں بچے کی جانب سے کہے گئے ایک نامناسب جملے کو حذف کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
فلم ’گھوسٹ اسکول‘ کی کہانی سندھ کے ایک دیہی علاقے میں واقع اسکول کے گرد گھومتی ہے، جسے بند کر دیا جاتا ہے۔ یہ فلم پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کو درپیش رکاوٹوں اور مسائل کو اجاگر کرتی ہے۔
برطانوی نژاد پاکستانی ہدایت کارہ سیما گل کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم کا مرکزی کردار دس سالہ رابعہ ہے، جو اپنے اسکول کی بندش کی وجہ جاننے کی کوشش کرتی ہے۔
گاؤں کے بزرگوں کا خیال ہے کہ اسکول میں بھوتوں کا بسیرا ہے، تاہم کہانی آگے بڑھنے کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ اسکول کی بندش کے پیچھے کچھ اور عوامل کارفرما ہیں۔
اسکول کو کسی پراسرار واقعے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے بند کیا جاتا ہے کہ گاؤں کا سربراہ بچوں کو تعلیم حاصل کرتے نہیں دیکھنا چاہتا۔ فلم اس رویے کے ذریعے پاکستان کے دیہی علاقوں میں تعلیم کی راہ میں حائل سماجی رکاوٹوں کی نشاندہی کرتی ہے۔
ابتدائی طور پر فلم کی نمائش پر پابندی عائد کی گئی تھی، جسے فلم سازوں نے عدالت میں چیلنج کیا۔ عدالتی کارروائی کے نتیجے میں فلم کی نمائش کی اجازت دے دی گئی، تاہم اس کی باضابطہ ریلیز کی تاریخ ابھی تک سامنے نہیں آئی۔
پاکستان میں کسی فلم کی ریلیز پر پابندی یا اس کی نمائش میں رکاوٹ کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی پاکستانی فلمی صنعت کو ایسے معاملات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں ’زندگی تماشا‘ اور ’مالک‘ جیسی فلمیں شامل ہیں۔
یہ صورتحال ایک وسیع تر بحث کو بھی جنم دیتی ہے کہ پاکستان میں تخلیقی آزادی اور آزادیٔ اظہار کو عملی طور پر کس حد تک تحفظ حاصل ہے۔
’گھوسٹ اسکول‘ بین الاقوامی سطح پر بھی ناظرین تک پہنچ چکی ہے۔ فلم کی نمائش ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول اور برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول، جسے برلینالے بھی کہا جاتا ہے، میں ہو چکی ہے۔
بین الاقوامی فلمی میلوں میں جگہ بنانے کے باوجود ’گھوسٹ اسکول‘ کی پاکستان میں ریلیز اب بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
فلم کی نمائش میں تاخیر اس بحث کو مزید اہم بناتی ہے کہ تعلیم کی راہ میں حائل رکاوٹوں جیسے سماجی مسئلے کو موضوع بنانے والی فلم کو اسی ملک کے ناظرین تک پہنچنے میں مشکلات کیوں پیش آ رہی ہیں جہاں اس کی کہانی ترتیب دی گئی ہے۔
اس نوعیت کی فلمیں معاشرے کے ان مسائل کو سامنے لاتی ہیں جن پر اکثر کھل کر گفتگو نہیں ہوتی۔ یہ نہ صرف سماجی حقائق کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ ناظرین کو ان مسائل کی وجوہات اور ان کے برقرار رہنے کے اسباب پر غور کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔





