تقریباً 6 کروڑ 60 لاکھ سال قبل ایک بہت بڑا شہابِ ثاقب موجودہ میکسیکو کے قریب زمین سے ٹکرایا، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تباہ کن ماحولیاتی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ اس مقام سے ہزاروں کلومیٹر دور ایک قدیم سمندر کی تہہ میں جمع ہونے والی مٹی اور دوسرے قدرتی ذرات نے اس واقعے کے شواہد محفوظ کر لیے۔
آج یہ شواہد شمالی اسپین کے ساحلی علاقے زومایا (Zumaia) کی چٹانوں میں دیکھے جا سکتے ہیں، جہاں پتھروں کی ایک باریک سیاہ تہہ زمین کی تاریخ کے دو ادوار کے درمیان حد کی نشاندہی کرتی ہے۔
سائنس دان اسے کریٹیشیئس پیلیوجین باؤنڈری (K/Pg Boundary) کہتے ہیں۔ یہ وہ ارضیاتی حد ہے جو زمین کی تاریخ میں دو مختلف ادوار کو الگ کرتی ہے اور اس بڑے پیمانے کی معدومیت کی نشاندہی کرتی ہے جس میں پرندوں کے علاوہ تمام ڈائنوسارز اور بے شمار دیگر جاندار ختم ہوگئے تھے۔

اس دریافت کی غیر معمولی اہمیت یہ ہے کہ پوری زمین پر زندگی کا رخ بدل دینے والے واقعے کے آثار چٹانوں کی ایک نہایت باریک تہہ میں محفوظ ہیں۔
زومایا کی ساحلی چٹانیں فلش (Flysch) کہلانے والی ارضیاتی ساختوں پر مشتمل ہیں۔ اس اصطلاح سے مراد رسوبی چٹانوں کی ایسی تہیں ہیں جو قدیم سمندروں کی تہہ میں ریت، مٹی اور دوسرے ذرات کے مسلسل جمع ہونے سے وجود میں آتی ہیں۔
لاکھوں سال کے دوران زمین کی اندرونی ساخت میں ہونے والی حرکات اور پیرینیز پہاڑی سلسلے کی تشکیل نے ان تہوں کو موڑ دیا اور جھکا دیا۔ بعد میں سمندری لہروں اور قدرتی کٹاؤ نے انہیں نمایاں کر دیا، جس سے زمین کی قدیم تاریخ کا یہ ریکارڈ سامنے آگیا۔

شہابِ ثاقب موجودہ میکسیکو کے جزیرہ نما یوکاتان کے قریب چکسلوب (Chicxulub) کے مقام پر گرا تھا، جہاں اس کے ٹکرانے سے ایک بہت بڑا گڑھا بن گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق شہابِ ثاقب کا قطر تقریباً 10 کلومیٹر تھا۔ اس کے زمین سے ٹکرانے کے نتیجے میں گردوغبار، دھواں اور دیگر ذرات بڑی مقدار میں فضا میں پھیل گئے۔
ان ذرات نے سورج کی روشنی کو زمین تک پہنچنے سے روکا، جس سے عالمی درجہ حرارت میں کمی آئی اور جانداروں کے غذائی نظام شدید متاثر ہوئے۔
اس نظام کو سائنسی زبان میں فوڈ ویب (Food Web) کہا جاتا ہے، یعنی خوراک کے ذریعے پودوں، جانوروں اور دوسرے جانداروں کے درمیان قائم باہمی تعلقات کا مجموعہ۔ اس نظام میں خلل پڑنے سے متعدد انواع کی بقا خطرے میں پڑ گئی۔
سائنسی جریدے Geology میں شائع ہونے والی تحقیق سمیت زومایا کی چٹانوں پر ہونے والے مطالعات نے اس مؤقف کو مزید تقویت دی ہے کہ شہابِ ثاقب کے ٹکرانے نے اچانک اور بڑے پیمانے پر ہونے والی معدومیت میں بنیادی کردار ادا کیا۔
تاہم سائنس دان اس تباہی کو سمجھنے کے لیے آتش فشانی سرگرمیوں اور طویل مدتی ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا بھی جائزہ لیتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تباہی میں ڈائنوسارز کی تمام ارتقائی شاخیں ختم نہیں ہوئیں۔
نان ایویئن ڈائنوسارز (Non Avian Dinosaurs) سے مراد وہ ڈائنوسارز ہیں جو پرندوں کی ارتقائی شاخ سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔ آج کے پرندے قدیم پروں والے ڈائنوسارز سے ارتقا پذیر ہوئے اور ان کے آباؤ اجداد اس تباہ کن دور میں زندہ بچ گئے تھے۔
اس طرح موجودہ پرندے ڈائنوسارز کی وہ واحد ارتقائی شاخ ہیں جو آج بھی زمین پر موجود ہے۔
زومایا کی ساحلی چٹانیں محض ایک غیر معمولی قدرتی منظر نہیں بلکہ زمین کی تاریخ کا ایک اہم سائنسی ریکارڈ ہیں۔ ان میں محفوظ تہیں ظاہر کرتی ہیں کہ ہزاروں کلومیٹر دور پیش آنے والے ایک واقعے نے پوری زمین پر زندگی کو کس طرح بدل دیا اور اس کے شواہد کروڑوں سال بعد بھی پتھروں میں محفوظ ہیں۔







