اسلام آباد: اسلام آباد کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے جمعرات کو بیرون ملک تعلیم کے نام پر مبینہ طور پر لاکھوں روپے کے فراڈ کا شکار ہونے والی یونیورسٹی کی طالبہ کی ہلاکت سے متعلق کیس میں شریک ملزم کی عبوری ضمانت منظور کر لی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے شریک ملزم کی 20 اکتوبر تک 20 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض عبوری ضمانت منظور کی۔
سماعت کے دوران شریک ملزم اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوا اور اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کی۔
ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا مؤکل بے گناہ ہے اور اسے غلط طور پر مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے۔ وکیل نے تحقیقات اور قانونی کارروائی جاری رہنے کے دوران اپنے مؤکل کی عبوری ضمانت منظور کرنے کی درخواست کی۔
دلائل سننے کے بعد عدالت نے ملزم کو عبوری ریلیف دیتے ہوئے متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کیے اور انہیں 20 اکتوبر کو ہونے والی آئندہ سماعت پر جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔
یہ مقدمہ اسلام آباد کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی 20 سالہ طالبہ کی 9 اکتوبر کو ہونے والی ہلاکت سے متعلق ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق متاثرہ طالبہ کے اہل خانہ نے مبینہ طور پر ایک تعلیمی کنسلٹنٹ کو لاکھوں روپے ادا کیے تھے، جس نے امریکا کی ہارورڈ یونیورسٹی میں طالبہ کا داخلہ کروانے اور اس کی تعلیم کے لیے مالی معاونت حاصل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
مختلف رپورٹس میں متاثرہ خاندان سے مبینہ طور پر حاصل کی گئی رقم کے حوالے سے مختلف اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق یہ رقم 50 لاکھ سے تقریباً 70 لاکھ روپے کے درمیان تھی۔
تفتیشی حکام کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر سفری دستاویزات بھی فراہم کی تھیں، جو بعد میں جعلی ثابت ہوئیں۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے دو ملزمان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دھوکا دہی اور اعانت جرم سے متعلق دفعات کے علاوہ امیگریشن آرڈیننس 1979 کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا۔
ایف آئی اے کے مطابق مرکزی ملزم نے مبینہ طور پر اپنی شناخت اور پیشہ ورانہ حیثیت کے بارے میں غلط معلومات فراہم کرکے متاثرہ خاندان سے رقم حاصل کی۔
رپورٹس کے مطابق یہ رقم متاثرہ طالبہ کا ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلہ کروانے اور اس کے بھائی کو ملازمت دلوانے کے نام پر وصول کی گئی تھی۔
اس معاملے میں اسلام آباد کے تھانہ رمنا میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 322 اور 34 کے تحت ایک علیحدہ مقدمہ بھی درج کیا گیا۔
مرکزی ملزم کو گرفتار کرنے کے بعد 12 اکتوبر کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے اسے پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس اور چیف کمشنر کو کارروائی کی ہدایت کی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی کہا کہ وہ اس معاملے کا ذاتی طور پر جائزہ لیں گے۔
عدالت 20 اکتوبر کو فریقین کے دلائل سنے گی، جس کے بعد شریک ملزم کی عبوری ضمانت میں توسیع سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔
بیرون ملک تعلیم اور امیگریشن کے نام پر مبینہ فراڈ کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔





