کیف: روس، یوکرین اور امریکا نومبر کے آغاز میں متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں سہ فریقی امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت فروری 2022 میں یوکرین پر روس کے بڑے پیمانے پر حملے سے شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کا نیا مرحلہ ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے جمعہ، 23 اکتوبر کو تصدیق کی کہ مذاکرات کا اگلا دور نومبر کے پہلے نصف میں ابوظہبی میں منعقد کرنے کا منصوبہ ہے۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بھی تکنیکی سطح پر مذاکرات کی تیاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاقاتیں نومبر کے پہلے نصف میں جلد از جلد ہونی چاہئیں۔
یہ اعلان امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے سینٹ پیٹرزبرگ کے دورے کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی تھی۔
زیلنسکی کے مطابق انہوں نے وٹکوف کی روسی صدر سے ملاقات کے بعد امریکی ایلچی سے بات چیت کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن دونوں ممالک کے ساتھ سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔
تاہم مذاکرات کی بحالی پر آمادگی کے باوجود روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کی شرائط پر بنیادی اختلافات برقرار ہیں۔
روس یوکرین کے بعض علاقوں سے متعلق اپنے مطالبات اور نیٹو کے ساتھ کیف کے مستقبل کے تعلقات کے معاملے پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹا۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ مذاکرات کا مقصد محض عارضی جنگ بندی نہیں بلکہ مستقل امن معاہدے کے لیے طویل المدتی سلامتی کے انتظامات طے کرنا ہونا چاہیے۔
دوسری جانب یوکرین کا مؤقف ہے کہ کسی بھی امن معاہدے میں ایسی قابلِ اعتماد سلامتی کی ضمانتیں شامل ہونی چاہئیں جو مستقبل میں دوبارہ جنگ شروع ہونے سے روک سکیں۔
زیلنسکی نے یوکرینی فوج کی صلاحیت برقرار رکھنے کے لیے دس سالہ مالی معاونت کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک کو بھی مذاکراتی عمل میں شامل ہونا چاہیے۔
یوکرینی صدر نے خبردار کیا کہ مجوزہ ملاقات کا انعقاد روس کی آمادگی پر منحصر ہوگا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اکتوبر کے آغاز میں متوقع مذاکرات کا ایک دور بھی منعقد نہیں ہو سکا تھا۔
نئی سفارتی کوشش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس سے متعلق امریکی پالیسی کے بعض پہلوؤں پر کیف اور واشنگٹن کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔
یورپی حکومتوں نے بھی روس پر امریکی پابندیوں میں نرمی پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق معاشی رعایتیں ماسکو پر مذاکرات کے لیے دباؤ کم کر سکتی ہیں۔
سفارتی رابطوں کے باوجود جنگ جاری ہے۔
ابوظہبی میں مجوزہ ملاقات تینوں ممالک کو براہِ راست بات چیت کا ایک اور موقع فراہم کرے گی، لیکن تاحال کسی بڑی پیش رفت کا اعلان نہیں ہوا۔





