تل ابیب: اسرائیلی فضائیہ نے سوشل میڈیا پر ایک ایسی پوسٹ میں ایپل کے حال ہی میں متعارف کرائے گئے آئی فون ڈیوو کی تصاویر استعمال کی ہیں جس میں اسرائیلی فوجیوں اور غزہ میں جاری فوجی سرگرمیوں کو دکھایا گیا ہے۔
اسرائیلی فضائیہ کی جانب سے شیئر کی گئی پوسٹ میں “This is Duo” کا جملہ استعمال کیا گیا، جو ایپل کے حال ہی میں متعارف کرائے گئے فولڈ ایبل آئی فون کی برانڈنگ سے مشابہت رکھتا ہے۔
ایپل نے 9 ستمبر کو آئی فون ڈیوو متعارف کرایا تھا، جو کمپنی کا پہلا فولڈ ایبل آئی فون ہے۔ اس پراڈکٹ کی لانچ کے بعد اسرائیل میں کمپنی کے طویل عرصے سے جاری تحقیق اور ترقی کے کام ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔
اس تازہ پوسٹ نے ایپل کے پہلے فولڈ ایبل آئی فون کی لانچ کو غزہ میں جاری نسل کشی کی تصاویر کے ساتھ جوڑ دیا ہے، جس سے یہ سوال اٹھ رہے ہیں کہ تجارتی ٹیکنالوجی اور فوجی ابلاغ کس طرح بڑھتے ہوئے ایک دوسرے سے جڑ رہے ہیں۔
فوجی پوسٹ پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ بعض صارفین نے نسل کشی کی تصاویر کے ساتھ ایپل کی برانڈنگ کے استعمال پر تنقید کی، جبکہ دیگر نے ایپل کی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا، جن میں #BoycottApple ہیش ٹیگ استعمال کرنے والی پوسٹس بھی شامل ہیں۔
یہ ردعمل غزہ میں جاری نسل کشی کے دوران سامنے آیا ہے، جہاں اسرائیل کی فوجی کارروائی کو عالمی سطح پر شدید تنقید اور نسل کشی کے الزامات کا سامنا ہے۔
اسرائیل نسل کشی کے الزام کو مسترد کرتا ہے، جبکہ بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) جنوبی افریقہ کی جانب سے دائر کیے گئے اس مقدمے کی سماعت کر رہی ہے جس میں نسل کشی کے کنونشن کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
اس تنازع نے اسرائیل میں ایپل کی طویل عرصے سے موجود تحقیق اور ترقی کی سرگرمیوں پر بھی دوبارہ توجہ مرکوز کردی ہے۔ کمپنی کے اسرائیل میں تحقیقی آپریشنز موجود ہیں، جن میں ہرزلیہ، حیفا اور یروشلم میں قائم مراکز بھی شامل ہیں، جہاں چِپس اور کنیکٹیویٹی ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں پر کام کیا جاتا ہے۔
ایپل کے لیے یہ تنازع ایسے حساس وقت میں سامنے آیا ہے جب کمپنی کا پہلا فولڈ ایبل آئی فون مارکیٹ میں داخل ہو رہا ہے، جبکہ آن لائن صارفین اب اس پراڈکٹ کی برانڈنگ کو دنیا کے سب سے متنازع تنازعات میں سے ایک کی تصاویر سے جوڑ رہے ہیں۔





