استنبول: چار علاقائی ممالک نے ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان کی ثالثی سے طے پانے والی مفاہمت کی حمایت کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے محفوظ اور بلا رکاوٹ بحری آمدورفت بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
جمعہ کو پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ نے مذاکرات کے ذریعے تصفیے اور مزید کشیدگی روکنے پر زور دیا۔ مشترکہ بیان میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی واضح حمایت اور شہریوں، شہری تنصیبات اور جہازوں کو حملوں سے محفوظ رکھنے کا مطالبہ کیا گیا۔
اجلاس میں اسحاق ڈار، حاکان فیدان، شہزادہ فیصل بن فرحان اور بدر عبدالعاطی شریک ہوئے۔ یہ ملاقات ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کے خدشات کے دوران ہوئی۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کیا ہے؟
یہ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے سابقہ سفارتی رابطوں کا فریم ورک ہے۔
دونوں ثالث ممالک کے 22 جون کے مشترکہ بیان کے مطابق اسی انتظام کے تحت سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات ہوئے تھے۔ تجارتی جہازوں کی ہرمز سے محفوظ آمدورفت کے لیے واقعات اور غلط فہمیاں روکنے کی غرض سے فریقین کے درمیان رابطے کا ایک ذریعہ بھی قائم کیا گیا تھا۔
جمعہ کی حمایت اس عمل کو سفارتی تقویت دیتی ہے۔ اس سے بذات خود واشنگٹن اور تہران کے درمیان نیا معاہدہ یا متنازع وعدوں پر عملدرآمد ثابت نہیں ہوتا۔
بحری راستے اتنے اہم کیوں ہیں؟
آر فور نے آبنائے ہرمز سے محفوظ اور بلا رکاوٹ گزرنے کی ضرورت بیان کرتے ہوئے قانونی بحری آمدورفت پر پابندیوں کو مسترد کیا۔
یہ آبنائے خلیج کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ اس میں تعطل کے اثرات صرف تیل تک محدود نہیں رہتے؛ جہازوں کے شیڈول، بیمے کے اخراجات اور توانائی، خوراک و کھاد کی ترسیل بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
وزرائے خارجہ نے الگ طور پر سعودی عرب اور بحیرہ احمر و باب المندب میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کی مذمت کی۔ یہ مختلف بحری علاقے ہیں، اس لیے کشیدگی ایک سے زیادہ اہم تجارتی راستوں کو متاثر کرسکتی ہے۔
انہوں نے سعودی عرب اور یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت سے یکجہتی ظاہر کی اور حوثیوں سے فوجی کارروائیاں روک کر سیاسی عمل کی طرف لوٹنے کا مطالبہ کیا۔
آٹھ ممالک کی مشاورت، الگ معاہدے
فرانس، جرمنی، برطانیہ اور اٹلی وسیع تر مذاکرات میں شریک ہوئے۔ ابتدائی اعلانات میں آر فور پلس ای تھری کی اصطلاح استعمال ہوئی تھی، تاہم اٹلی کی شرکت سے یہ آٹھ ملکی مشاورت بن گئی۔
پاکستان کے سرکاری بیان کے مطابق شریک وزرائے خارجہ نے بعد میں صدر رجب طیب اردوان سے بھی ملاقات کی۔
آر فور کے بیان کو تمام آٹھ ممالک کا مشترکہ اعلامیہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
اسی طرح آر فور اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ الگ انتظامات ہیں۔ دفاعی معاہدے میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب شامل ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب توثیق مکمل کرچکے ہیں، جبکہ ترکیہ کا داخلی قانونی عمل جاری ہے۔
فلسطین کے بارے میں آر فور نے غزہ میں مسلسل انسانی امداد اور تعمیر نو کا مطالبہ کیا اور چار جون 1967 کی سرحدوں پر، مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بناتے ہوئے، فلسطینی ریاست کی حمایت دہرائی۔
اجلاس نے موجودہ سفارتی کوششوں کے لیے رابطہ مضبوط کیا ہے۔ فوجی کشیدگی اور بحری آمدورفت پر اس کے عملی اثرات متعلقہ فریقوں کے آئندہ فیصلوں سے واضح ہوں گے۔





