مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کی وادی نیلم میں ہفتے کی صبح مدرسے جانے والے بچوں کو لے جانے والی گاڑی گہری کھائی میں گرنے سے چار بچے جاں بحق اور تین دیگر افراد زخمی ہو گئے۔
ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ آفیسر نیلم اختر ایوب کے مطابق گاڑی نگدر سے کیرن بائی پاس رابطہ سڑک کے ذریعے آٹھمقام کی جانب جا رہی تھی کہ گھوڑے نکہ موڑ کے قریب حادثے کا شکار ہو گئی۔
حکام کے مطابق حادثہ صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے پیش آیا، جب گاڑی اپنا سفر شروع کرنے کے بعد ابھی نصف کلومیٹر کا فاصلہ بھی طے نہیں کر پائی تھی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق گاڑی ایک تیز موڑ کاٹتے ہوئے سڑک سے نیچے اتر گئی اور 500 میٹر سے زیادہ گہری پتھریلی کھائی میں جا گری۔
حادثے میں تین بچے موقع پر جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک زخمی بچہ بعد میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال آٹھمقام میں دم توڑ گیا۔
دیگر تین زخمی افراد کی حالت تشویش ناک ہونے کے باعث انہیں مزید علاج کے لیے مظفرآباد منتقل کر دیا گیا۔
ابتدائی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ گاڑی میں اسکول جانے والے بچے سوار تھے اور حادثے کا شکار ہونے والے افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔
گاڑی کے سڑک سے اترنے کی حتمی وجہ تاحال واضح نہیں ہو سکی۔
آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر چوہدری طارق فاروق نے حادثے میں بچوں کی اموات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی۔
انہوں نے پہاڑی علاقوں میں سفر کرنے والے ڈرائیوروں پر زور دیا کہ وہ سڑکوں پر انتہائی احتیاط سے گاڑی چلائیں۔
وادی نیلم میں اس نوعیت کا یہ پہلا حادثہ نہیں ہے۔
رواں سال اپریل میں میدان نمبٹائی کے علاقے میں مسافر وین کھائی میں گرنے سے تین افراد جاں بحق اور دس زخمی ہو گئے تھے۔
اسی طرح 11 مئی کو ایک مسافر جیپ پتھریلے نالے میں گرنے سے دو خواتین سمیت چار افراد جاں بحق اور دو زخمی ہوئے تھے۔
پہاڑی علاقوں میں تنگ سڑکیں، خطرناک موڑ اور گہری کھائیاں مسافروں کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتی ہیں، خصوصاً ان مقامات پر جہاں معمولی غلطی بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔
ہفتے کے حادثے نے ایک بار پھر وادی نیلم میں سڑکوں کی حفاظت، گاڑیوں کی فٹنس کی جانچ اور خطرناک راستوں پر حفاظتی انتظامات بہتر بنانے کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔





