ریاض: ایران کی پشت پناہی رکھنے والی حوثی افواج کی شدید فوجی پیش قدمی کے دوران سعودی فضائی دفاعی فورسز نے ہفتہ 19 ستمبر 2026ء کی صبح ریاض کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی کے مطابق، اس حملے کے ساتھ ساتھ بیشہ، طائف، فرسان اور ینبع میں شہری اور صنعتی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے لیے مزید ڈرون اور میزائل حملے بھی کیے گئے۔
شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے سے ملحقہ ڈپو میں سعودی تیل کمپنی 'آرامکو' کے لوگو والے ایک ایندھن کے ٹینک میں آگ بھڑک اٹھی، جس سے فضا میں سیاہ دھوئیں کے بادل بلند ہونے لگے، تاہم فائر فائٹرز نے جلد ہی آگ پر قابو پا لیا۔ فلائٹ ٹریکنگ سروسز کے مطابق دارالحکومت کے مرکزی ہوائی اڈے پر پروازوں کا نظام وقتی طور پر شدید متاثر ہوا، جس کے بعد پروازوں کی آمد و رفت تدریجی طور پر بحال کر دی گئی۔
حوثی ملٹری کے ترجمان یحییٰ سریع نے اس پیچیدہ کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ گروپ نے دو مربوط حملوں میں بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کا بڑا حملہ کیا، جن کا مقصد ریاض اور ینبع میں واقع آرامکو کی تنصیبات اور حساس مقامات کو نشانہ بنانا تھا۔
یہ حملے بحیرہ احمر کی یمنی ساحلی پٹی کے ساتھ حوثیوں کی شدید پیش قدمی کے بعد سامنے آئے ہیں، جس کی وجہ سے 1 لاکھ 12 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور امریکی محکمہ خارجہ نے علاقے میں تیزی سے بڑھتی کشیدگی سے متعلق سیکیورٹی الرٹ جاری کیا ہے۔ حوثیوں کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے سعودی عرب کے وسیع ہوائی حملوں کے باوجود، یہ سرحد پار حملے 2022ء کی بندیِ جنگ کے خاتمے کے بعد سے سعودی دارالحکومت کے لیے پہلا براہِ راست فضائی خطرہ ہیں، جس سے علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی توانائی کی منڈیوں پر مزید دباؤ بڑھ گیا ہے۔





