اسلام آباد: پاکستان نے جنوبی اردن میں گرجا گھر کے احاطے میں جنازے کے شرکا پر حملے کی مذمت کی ہے، جس میں کم از کم سات افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق دفتر خارجہ نے ہفتے کو جاری بیان میں اردن کی حکومت، عوام اور خصوصاً متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش ظاہر کی۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اردنی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور اس کی ہر شکل کی مذمت کرتا ہے۔
حملہ جمعہ، 23 اکتوبر کو کرک گورنریٹ کے گاؤں حمود میں یونانی آرتھوڈوکس گرجا گھر کے احاطے میں ہوا۔ اردن کے پبلک سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے مطابق مسلح افراد گاڑی سے اترے اور جنازے کے شرکا پر فائرنگ کے بعد فرار ہوگئے۔
ڈان میں شائع تفصیلات کے مطابق پبلک سکیورٹی کے سربراہ میجر جنرل عبداللہ المعایطہ نے بعد میں سات ہلاکتوں اور 34 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔ ان کے مطابق 27 زخمی زیر علاج تھے۔
حملہ آوروں کی تلاش
اردنی حکام نے واقعے کو دہشت گرد حملہ قرار دیا۔ شاہ عبداللہ دوم نے کرک کا دورہ کیا اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا عزم ظاہر کیا۔
تاہم واقعے کو دہشت گردی قرار دینے سے حملہ آوروں کی کسی مخصوص تنظیم سے وابستگی ثابت نہیں ہوتی۔ رائٹرز کے مطابق حکام نے حملہ آوروں کو انتہاپسند قرار دیا، جبکہ ملوث افراد کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری تھیں۔
عینی شاہدین نے مسلسل فائرنگ اور شرکا کے پناہ لینے کی کوششوں کا ذکر کیا۔ ابتدائی رپورٹس میں حملہ آوروں کی تعداد مختلف بتائی گئی، اس لیے واقعات کی حتمی ترتیب کا تعین تفتیش سے ہوگا۔
قدیم مسیحی آبادی پر حملہ
مسلم اکثریتی اردن کے علاقے کرک میں نمایاں مسیحی آبادی موجود ہے، جس کی تاریخ کئی صدیوں پر محیط ہے۔ اس لیے یہ واقعہ جنازے میں شریک افراد کے ساتھ ملک کی ایک دیرینہ مذہبی برادری پر بھی حملہ ہے۔
اردن بڑی حد تک اس مسلسل تشدد سے محفوظ رہا ہے جس نے متعدد پڑوسی ممالک کو متاثر کیا، تاہم وہاں وقفے وقفے سے شدت پسند حملے ہوئے ہیں۔ 2016 میں کرک میں حملوں کے دوران سات پولیس اہلکاروں سمیت 10 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
یہ سابقہ واقعہ پس منظر فراہم کرتا ہے، جمعہ کے حملے سے تعلق کا ثبوت نہیں۔ گرجا گھر پر فائرنگ کے ذمہ داروں اور ان کے روابط کا تعین جاری تحقیقات کا حصہ ہے۔





