واشنگٹن: امریکا اور فلسطین میں قابض اسرائیلی قوتوں کی جانب سے ایران پر ایک بار پھر فوجی حملوں کی منصوبہ بندی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی اور قابض اسرائیلی فوجی حکام نے 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کی فوجی اور اقتصادی تنصیبات کے خلاف ممکنہ مشترکہ کارروائیوں پر بات چیت کی ہے۔
مذاکرات سے واقف دو اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ممکنہ فوجی کارروائیوں کے منصوبوں پر غور جاری ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاحال کسی نئے فوجی آپریشن کی منظوری نہیں دی۔
وائٹ ہاؤس نے اشارہ دیا ہے کہ وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر امریکی حملے نہیں کیے جائیں گے، تاہم انتخابات کے بعد واشنگٹن کی ممکنہ حکمت عملی کے بارے میں صورتحال واضح نہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے خلاف مزید کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اس وقت تہران کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہا اور جلد کوئی اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔
امریکا اور قابض اسرائیلی قوتوں کی ممکنہ فوجی منصوبہ بندی کی اطلاعات کے بعد ایرانی حکام کی جانب سے سخت انتباہات سامنے آئے ہیں۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اپنی دفاعی حکمت عملی میں تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے اسے جارحانہ دفاعی حکمت عملی قرار دیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر دوبارہ حملے کی صورت میں اس کا ردعمل صرف براہِ راست حملے میں ملوث ممالک تک محدود نہیں رہے گا۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ امریکا یا قابض اسرائیلی قوتوں کی جانب سے ایران پر دوبارہ حملہ ہوا تو سات خلیجی ممالک میں اہم بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ان تنصیبات میں تیل کی تنصیبات، ڈیٹا سینٹرز، زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز اور مصنوعی ذہانت سے متعلق بنیادی ڈھانچہ شامل ہے۔
ایرانی حکام نے یہ انتباہات ممکنہ نئی فوجی کارروائیوں کے ردعمل میں جاری کیے ہیں، تاہم فوری طور پر کسی جارحانہ کارروائی کے آغاز کا اعلان نہیں کیا۔
اس وقت بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا زیرِ غور فوجی منصوبوں کو امریکا اور قابض اسرائیلی قوتوں کی سیاسی قیادت کی منظوری ملے گی یا نہیں۔
اگرچہ رپورٹس میں امریکا اور قابض اسرائیلی قوتوں کی جانب سے ایران پر ممکنہ نئے حملوں کی تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم واشنگٹن نے تاحال کسی نئی فوجی کارروائی کی حتمی منظوری یا اس کی تاریخ کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔





