راولپنڈی: راولپنڈی پولیس نے ایک نوجوان خاتون کی جانب سے شوہر اور سسرالیوں پر مسلسل تشدد، جبری مشقت اور گھر میں قید رکھنے کے الزامات کے بعد اس کے شوہر اور ساس سسر کو حراست میں لے لیا۔
یہ واقعہ تھانہ چکلالہ کی حدود میں واقع شاہ خالد کالونی میں پیش آیا، جہاں خاتون نے گھریلو تشدد کی شکایت لے کر پولیس سے رجوع کیا۔
اطلاعات کے مطابق شکایت کنندہ کی عمر 20 سال ہے۔
خاتون نے الزام عائد کیا کہ شادی کے بعد سے اسے مسلسل بدسلوکی کا سامنا تھا اور اس پر دوسرے لوگوں کے گھروں میں کام کرنے کے لیے بھی دباؤ ڈالا جاتا تھا۔
خاتون نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنا گھر بسانے کی خاطر مبینہ تشدد اور بدسلوکی برداشت کرتی رہی۔
خاتون کا سسرالیوں پر تشدد اور زبردستی بال کاٹنے کا الزام
ابتدائی اطلاعی رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق تازہ واقعہ 25 اکتوبر کو شام تقریباً چار بجے پیش آیا، جب خاتون کا شوہر کام پر گیا ہوا تھا۔
شکایت کنندہ نے الزام عائد کیا کہ اس کی ساس، سسر اور دیور نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور زبردستی اس کے بال کاٹ دیے۔
خاتون کے مطابق جب اس کا شوہر گھر واپس آیا اور اس نے واقعے کے بارے میں بتایا تو شوہر نے اس کی بات پر یقین کرنے سے انکار کر دیا۔
خاتون نے الزام لگایا کہ شوہر نے بھی اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور گھر میں بند کر دیا۔
بعد ازاں خاتون کسی طرح پڑوسی کے گھر پہنچنے میں کامیاب ہوئی، جہاں سے اس نے اپنے اہل خانہ سے رابطہ کیا۔
اس کے بعد وہ اپنی بہن کے ہمراہ تھانہ چکلالہ پہنچی اور واقعے کی باقاعدہ شکایت درج کرائی۔
تین افراد زیر حراست، پولیس کی تحقیقات جاری
پولیس نے تصدیق کی ہے کہ خاتون کی شکایت پر اس کے شوہر، ساس اور سسر کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق مقدمے میں نامزد خاتون کے دیور کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
شکایت کنندہ کا طبی معائنہ کرایا گیا ہے، جبکہ پولیس نے اسے حفاظتی تحویل میں لے لیا ہے۔
تفتیشی حکام واقعے کے حالات اور خاتون کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
پولیس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد اور استحصال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
گھریلو تشدد سے متاثرہ خواتین کے تحفظ پر سوالات
اس واقعے نے ایک بار پھر گھریلو تشدد کی شکایت کرنے والی خواتین کو درپیش مشکلات اور ان کے تحفظ سے متعلق سوالات کو اجاگر کیا ہے۔
تاہم خاتون کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کی تحقیقات ابھی جاری ہیں اور ملزمان کو حراست میں لیے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ ان پر جرم ثابت ہو چکا ہے۔





