نواب شاہ: قائدِ عوام یونیورسٹی آف انجینئرنگ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (کویسٹ) کے فرسٹ ایئر کے طالب علم کے پراسرار طور پر لاپتا ہونے کے دو دن بعد اس کی لاش ملنے پر شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ مقتول کی شناخت عاقب علی المانی کے نام سے ہوئی ہے جو ڈیٹا سائنسز پروگرام میں زیرِ تعلیم تھا۔ پڑوسی ضلع نوشہرو فیروز کا رہائشی عاقب المانی جمعے کے روز یونیورسٹی کیمپس سے واپسی کے دوران پراسرار طور پر لاپتا ہو گیا تھا۔
اتوار کے روز پولیس نے نواب شاہ سکرنڈ مین روڈ پر واقع کیلے کے ایک باغ سے طالب علم کی لاش برآمد کی۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مقتول کے چچا ذوالفقار المانی نے الزام عائد کیا کہ ان کے بھتیجے کو قتل کرنے سے پہلے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
لاش ملنے کی خبر پھیلتے ہی کویسٹ کیمپس میں تشویش اور غصے کی لہر دوڑ گئی اور سیکیورٹی کی ناقص صورتحال کے خلاف سیکڑوں طلبہ نے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ عاقب المانی کو یونیورسٹی ہاسٹل کی حدود سے اغوا کیا گیا، جس سے مقیم طلبہ کے تحفظ اور کیمپس کے سیکیورٹی انتظامات پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔
پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ قتل کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، تاہم ابھی تک قتل کی حتمی وجہ سامنے نہیں آ سکی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کا سراغ لگانے اور انہیں کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے فارنزک شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔





