کیف: یوکرین اور روس نے ہنگامی صورتحال سے خبردار کرنے والی موبائل ایپس پر سائبر حملوں کی اطلاع دی ہے، جن کے نتیجے میں شہریوں کو جوہری حملوں، تابکاری اور دیگر خطرات سے متعلق جعلی پیغامات موصول ہوئے۔
یہ واقعات اتوار اور پیر کے دوران پیش آئے، جب جنوبی یوکرین میں چھ روزہ مقامی جنگ بندی بھی اختتام کو پہنچ رہی تھی۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق یکم نومبر کی رات تقریباً 11 بجے ملک میں استعمال ہونے والی ایئر الرٹ ایپ پر جعلی انتباہات ظاہر ہونا شروع ہوئے، جن سے دارالحکومت کیف سمیت متعدد علاقے متاثر ہوئے۔
پیغامات میں تابکاری، کیمیائی حملوں اور رہائشی علاقوں میں لڑائی کے خطرات ظاہر کیے گئے۔ ایک جعلی انتباہ میں دعویٰ کیا گیا کہ روس نے اوریشنک میزائل داغ دیا ہے، جو جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یوکرینی حکام نے ایپ میں بیرونی مداخلت کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے شہریوں کو بتایا کہ تابکاری کا کوئی خطرہ موجود نہیں۔ وزارت برائے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن نے تحقیقات کے لیے متاثرہ ایپ عارضی طور پر بند کر دی، تاہم روایتی فضائی حملے کے سائرن اور دیگر انتباہی نظام فعال رہے۔
روس میں بھی جعلی انتباہات
یوکرین میں واقعے کے چند گھنٹے بعد روس کی وزارت برائے ہنگامی حالات نے اپنی موبائل ایپ پر بڑے سائبر حملے کی تصدیق کی۔
روسی حکام کے مطابق حملہ آوروں نے ایپ کے ذریعے مختلف علاقوں پر جوہری حملوں کے جعلی پیغامات جاری کیے۔ بعض انتباہات میں شہریوں کو خوراک ذخیرہ کرنے اور محفوظ مقامات پر پناہ لینے کی ہدایت بھی کی گئی۔
وزارت نے واضح کیا کہ متاثرہ ایپ معلومات فراہم کرنے کا اضافی ذریعہ تھی، جبکہ ملک کا مرکزی ہنگامی انتباہی نظام معمول کے مطابق کام کرتا رہا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یوکرین کی حامی تنظیم آتیش نے روس میں جاری ہونے والے ایک جعلی انتباہ کی تصویر شیئر کی، تاہم حملوں میں کسی تنظیم کے ملوث ہونے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
یوکرینی حکام نے روسی مداخلت کا شبہ ظاہر کیا ہے، لیکن دونوں واقعات کے ذمہ داروں یا ان کے درمیان ممکنہ تعلق کے شواہد سامنے نہیں آئے۔
خیرسون میں جنگ بندی کا خاتمہ
سائبر حملے ایسے وقت ہوئے جب جنوبی یوکرین کے علاقے خیرسون میں چھ روزہ مقامی جنگ بندی ختم ہو رہی تھی۔
بی بی سی اور رائٹرز کے مطابق اس عارضی انتظام کے تحت روس کے زیر قبضہ قصبے اولیشکی سے سیکڑوں شہریوں کا انخلا ممکن بنایا گیا۔ جنگ بندی کے انتظام میں امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ اور پوپ لیو چہاردہم نے معاونت کی تھی۔
یہ جنگ بندی مخصوص علاقے تک محدود تھی اور اس میں پورے یوکرین میں فوجی کارروائیاں روکنے کا کوئی معاہدہ شامل نہیں تھا۔
ماہرین کے لیے ان واقعات کا اہم پہلو شہریوں کے ہنگامی اطلاع دینے والے نظاموں کی سلامتی ہے۔ ایسے نظاموں میں مداخلت نہ صرف غلط معلومات پھیلا سکتی ہے بلکہ حقیقی خطرات کے دوران سرکاری انتباہات پر عوام کا اعتماد بھی متاثر کر سکتی ہے۔
دونوں ممالک میں متاثرہ ایپس کی بحالی اور سائبر حملوں کی تحقیقات جاری ہیں۔





