کوئٹہ: کچلاک میں بچوں کے استحصال کے خوفناک واقعے پر ملک گیر شدید غم و غصے کے بعد کوئٹہ پولیس نے فوری کارروائی کی ہے، جہاں ایک 60 سالہ شخص نے مبینہ طور پر 3 سالہ بچی سے شادی کے لیے 25 لاکھ روپے دیے اور بعد میں اس کی 7 سالہ رشتہ دار کا مطالبہ کر دیا۔ وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے ملوث تمام افراد کے خلاف فوری قانونی کارروائی کا حکم دیا ہے، جبکہ سرکاری حکام نے زور دے کر کہا ہے کہ کم سن بچوں کو معاشی جنس بنانے والوں کو تمام تر قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ لرزہ خیز تفصیلات آن لائن وائرل ہونے والی ویڈیو فوٹیج اور انٹرویوز کے بعد سامنے آئیں، جن میں بچی کی ماں نے اعتراف کیا کہ خاندان نے ملزم سے براہ راست حاصل کردہ 25 لاکھ روپے کے عوض شادی کا معاہدہ کیا تھا۔ مقامی رپورٹس کے مطابق، 3 سالہ بچی کی اصل عمر کا اندازہ ہونے پر 60 سالہ شخص نے اس سے شادی سے انکار کر دیا اور اس کی جگہ اسی خاندان کی 7 سالہ لڑکی سے شادی کا مطالبہ کر دیا۔ اس انکشاف پر سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر شدید عوامی غصہ بھڑک اٹھا، جس پر صوبائی حکام نے فوری مداخلت کی۔
بڑھتے ہوئے عوامی غصے کے پیش نظر وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے واقعے کا باضابطہ نوٹس لیتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس غیر قانونی سودے بازی میں ملوث تمام افراد کی گرفتاری کا حکم دیا۔ ڈپٹی کمشنر حبیب بنگلزئی نے تصدیق کی کہ عبدالباری نامی بچی کے باپ کو پولیس نے تحویل میں لے لیا ہے۔ اس زبردستی کے رشتے میں سہولت کاری، میانجی گری اور معاونت کرنے والے خاندانی افراد اور دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے اور تلاشی کی کارروائیاں جاری ہیں۔
حکومت کے باضابطہ موقف کا اظہار کرتے ہوئے ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند نے ایک سخت بیان جاری کیا جس میں عوام کو یقین دہانی کرائی گئی کہ جرم میں ملوث کسی بھی فرد کو سزا سے نہیں بچایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ واقعہ محض ایک انفرادی جرم نہیں بلکہ ملک کے کچھ حصوں میں رائج اس گہری سماجی برائی کا عکاس ہے جہاں معاشی تنگ دستی، ذاتی قرضوں یا خاندانی تنازعات کے حل کے لیے کم سن بچوں، بالخصوص بچیوں کو مالی شے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
کچلاک کا یہ لرزہ خیز واقعہ دیہی اور دور دراز علاقوں میں بچوں کے تحفظ کے قانونی ڈھانچے اور زمینی سطح پر ان پر عمل درآمد کے درمیان پائے جانے والے مستقل خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگرچہ تعزیرات پاکستان اور انسداد بچپن کی شادی کے قوانین کم سن بچوں کی فروخت اور زبردستی بچپن کی شادی پر پابندی عائد کرتے ہیں، تاہم دور افتادہ علاقوں میں شدید غربت اور پیدائش کے اندارج کا باقاعدہ نظام نہ ہونا بے بس بچوں کو اس قسم کے کاروباری استحصال کے خطرے سے دوچار رکھتا ہے۔





