برلن: مشرقی جرمنی کے اسپتالوں میں کام کے دوران 70 سے زائد بچوں کے مبینہ جنسی استحصال کے الزام میں ایک ماہرِ امراضِ اطفال کو پیر کے روز پوٹسڈام کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں اس نے اپنے خلاف عائد بیشتر الزامات تسلیم کر لیے۔
46 سالہ ڈاکٹر کو جرمنی کی ریاست برانڈنبرگ کے شہروں ناؤن اور راتھینو میں واقع طبی مراکز میں دسمبر 2013 سے نومبر 2025 کے دوران مبینہ طور پر کیے گئے جرائم سے متعلق 130 فوجداری الزامات کا سامنا ہے۔
مقدمے کی ابتدائی سماعت کے دوران استغاثہ نے الزامات پیش کیے، جس کے بعد ملزم نے تصدیق کی کہ وہ اپنے سابقہ اعترافی بیانات پر قائم ہے۔ اس نے بیشتر مبینہ جرائم کی ذمہ داری بھی قبول کی اور اپنے اقدامات پر ندامت کا اظہار کیا۔
استغاثہ کے مطابق ڈاکٹر نے اپنے پیشہ ورانہ عہدے کا مبینہ طور پر ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے طبی معائنے اور اسپتال میں علاج کے دوران بچوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا۔ متاثرہ بچوں میں زیادہ تعداد لڑکوں کی تھی۔ ملزم پر بعض واقعات کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے کا بھی الزام ہے۔
الزامات میں بچوں کی نگہداشت کے مراکز کے دوروں کے دوران پیش آنے والے مبینہ واقعات بھی شامل ہیں، جہاں ڈاکٹر کو طبی معائنے کی اجازت حاصل تھی۔
شکایت کے بعد تحقیقات کا آغاز
اس معاملے کی تحقیقات نومبر 2025 میں اس وقت شروع ہوئیں جب ایک خاتون نے اپنے بچے کے ساتھ مبینہ جنسی استحصال کی اطلاع حکام کو دی۔
شکایت کے بعد پولیس نے ڈاکٹر کو گرفتار کر کے اس کے الیکٹرانک آلات کی تلاشی لی۔ استغاثہ کے مطابق قبضے میں لیے گئے مواد کی جانچ پڑتال کے دوران مزید مبینہ جرائم اور متاثرہ بچوں کی نشاندہی ہوئی۔
ملزم گرفتاری کے بعد سے مقدمے کی سماعت سے قبل عدالتی حراست میں ہے۔
یہ مقدمہ تقریباً 12 سال کے دوران مبینہ طور پر کیے گئے جرائم سے متعلق ہے، جن میں ریاست برانڈنبرگ میں طبی سہولیات فراہم کرنے والے ادارے ہاویلینڈ کلینیکن کے زیرِ انتظام مراکز میں پیش آنے والے واقعات بھی شامل ہیں۔
اسپتالوں میں بچوں کے تحفظ کے اقدامات کا جائزہ
الزامات سامنے آنے کے بعد ہاویلینڈ کلینیکن نے بچوں کے تحفظ سے متعلق اپنے انتظامات کا جائزہ لیا اور بچوں کے طبی معائنے کے لیے مزید حفاظتی اقدامات متعارف کرائے۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق حساس نوعیت کے طبی معائنوں کے دوران عملے کے دو ارکان کی موجودگی سے متعلق شرائط کو مزید سخت کیا گیا ہے، جبکہ بچوں کے تحفظ کے لیے ایک آزاد افسر بھی مقرر کیا گیا ہے۔
ان اقدامات کا مقصد طبی عملے اور مریضوں کے درمیان رابطے اور معائنے کے عمل کی نگرانی بہتر بنانا ہے۔
اس مقدمے نے طبی اداروں میں بچوں کے مبینہ جنسی استحصال کی شکایات درج کرنے، ان کی تحقیقات اور ایسے واقعات کی روک تھام کے طریقہ کار پر بھی توجہ مبذول کرائی ہے، کیونکہ بچے علاج اور طبی دیکھ بھال کے لیے صحت کے شعبے سے وابستہ افراد پر انحصار کرتے ہیں۔
عدالتی فیصلہ دسمبر میں متوقع
پوٹسڈام کی عدالت نے مقدمے کی سماعت کے لیے 18 دن مقرر کیے ہیں، جبکہ فیصلہ دسمبر کے وسط میں متوقع ہے۔
متاثرہ افراد میں سے 15 افراد یا ان کے قانونی نمائندے مقدمے میں معاون مدعی کی حیثیت سے شریک ہیں۔ جرمن قانون کے تحت انہیں فوجداری کارروائی میں حصہ لینے کا حق حاصل ہے۔
اگرچہ ملزم نے بیشتر الزامات تسلیم کر لیے ہیں، تاہم عدالت فیصلہ سنانے سے قبل شواہد کا جائزہ لے گی اور اس کی فوجداری ذمہ داری کا تعین کرے گی۔
عدالتی فیصلے سے ملزم کے خلاف عائد الزامات میں اس کی قانونی ذمہ داری کا تعین ہوگا، جبکہ اسپتال انتظامیہ کی جانب سے بچوں کے تحفظ کے لیے متعارف کرائے گئے نئے اقدامات اس معاملے پر ادارہ جاتی ردعمل کا حصہ ہیں۔





