اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے پیر کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں پارٹی کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقات کی۔ جیل حکام کی جانب سے سہولت فراہم کیے جانے کے بعد ہونے والی یہ ملاقات 40 منٹ تک جاری رہی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں بیرسٹر سلمان صفدر نے بتایا کہ وہ سات ماہ بعد عمران خان اور 11 ماہ بعد بشریٰ بی بی سے ملے ہیں۔ ان کے مطابق اس ملاقات کے لیے متعدد بار درخواستیں دی گئی تھیں۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ ملاقات کا دورانیہ اتنا مختصر تھا کہ دونوں کے خلاف زیر سماعت تمام قانونی معاملات پر تفصیلی گفتگو نہیں ہو سکی۔ تاہم عمران خان اور بشریٰ بی بی نے انہیں اپنے مقدمات سے متعلق نئی ہدایات دیں اور اپنی صحت اور جیل میں رہائش کے حالات سے بھی آگاہ کیا۔
عمران خان اگست 2023 میں گرفتاری کے بعد سے مختلف مقدمات کے سلسلے میں قید ہیں، جبکہ بشریٰ بی بی کو جنوری 2025 میں گرفتار کیا گیا تھا۔
دونوں کو الگ الگ مقدمات میں سزائیں سنائی جا چکی ہیں، جن میں 190 ملین پاؤنڈ کا القادر ٹرسٹ کرپشن کیس اور توشہ خانہ ٹو کیس شامل ہیں۔
توشہ خانہ ٹو کیس کا تعلق سعودی ولی عہد کی جانب سے سرکاری دورے کے دوران تحفے میں دیے گئے بلغاری جیولری سیٹ کو اپنے پاس رکھنے کے الزامات سے ہے۔
عمران خان کو 9 مئی 2023 کے احتجاجی واقعات سے متعلق انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج مقدمات میں بھی عدالتی کارروائی کا سامنا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے عمران خان کو ہفتے میں دو مرتبہ اہل خانہ، وکلا اور دیگر متعلقہ افراد سے ملاقات کی اجازت دیے جانے کے باوجود حالیہ مہینوں میں ان تک رسائی محدود رہی ہے۔
ملاقاتوں پر عائد پابندیاں پی ٹی آئی اور حکام کے درمیان اختلافات کی ایک اہم وجہ رہی ہیں، جبکہ تحریک انصاف مسلسل اپنے بانی سے ملاقاتوں کی اجازت دینے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔
اکتوبر میں یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب پی ٹی آئی نے اس وقت کے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کیا۔
یہ مارچ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے دوران کیا گیا، جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت عملاً غیر فعال ہو گئی اور سہیل آفریدی وزیراعلیٰ کے اختیارات استعمال کرنے سے محروم ہو گئے۔
اسی سیاسی اور قانونی صورتحال کے دوران پیر کو بیرسٹر سلمان صفدر کی عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات ہوئی، جو کئی ماہ تک محدود رسائی کے بعد ممکن ہو سکی۔
اگرچہ ملاقات کے دوران بیرسٹر سلمان صفدر نے دونوں سے مقدمات کے بارے میں نئی ہدایات حاصل کیں اور ان کی صحت اور جیل میں حالات سے متعلق معلومات لیں، تاہم ان کے مطابق 40 منٹ کا وقت تمام قانونی معاملات پر تفصیلی گفتگو کے لیے ناکافی تھا۔





