پشاور: پشاور کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے بدھ کے روز مئی 2023 میں احتجاجی مظاہروں کے دوران ریڈیو پاکستان کی عمارت پر حملے کے مقدمے میں خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چار دیگر رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔
جج ولی محمد خان نے پولیس کی جانب سے پانچ مزید ملزمان کے ناموں پر مشتمل ضمنی چالان جمع کرائے جانے کے بعد وارنٹ جاری کرنے کا حکم دیا۔ ان پانچوں افراد کو تاحال گرفتار نہیں کیا گیا۔
عدالت نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 204 کے تحت وارنٹ جاری کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت 4 نومبر تک ملتوی کر دی۔
ضمنی چالان میں سہیل آفریدی کے علاوہ سابق صوبائی وزرا تیمور سلیم جھگڑا اور کامران بنگش، پی ٹی آئی پشاور کے ضلعی صدر عرفان سلیم اور پارٹی کارکن عامر خان چمکنی کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
ان پانچوں افراد کے نام نہ تو ابتدائی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) میں شامل تھے اور نہ ہی پہلے جمع کرائے گئے چالان میں ان کا ذکر تھا۔
سہیل آفریدی اس سے قبل خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں، تاہم صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد وہ اپنے عہدے کے اختیارات استعمال کرنے سے قاصر ہو گئے تھے۔
فرانزک نتائج کی بنیاد پر مزید افراد کی نامزدگی
پانچ مزید افراد کو مقدمے میں نامزد کرنے کا فیصلہ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی (پی ایف ایس اے) اور نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی جانب سے ویڈیو فوٹیج اور تصاویر کے تجزیے کے بعد کیا گیا۔
تفتیشی افسر ڈی ایس پی خوشحال خان کی جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق، فرانزک نتائج موصول ہونے کے بعد ریڈیو پاکستان پشاور کے اسٹیشن ڈائریکٹر طفیل احمد نے اپنا ضمنی بیان ریکارڈ کرایا، جس میں پانچوں افراد کو مشتبہ ملزمان کے طور پر نامزد کیا گیا۔
پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ویڈیو فوٹیج میں نظر آنے والے افراد کے چہروں کے خدوخال نئے نامزد کیے گئے ملزمان سے مطابقت رکھتے ہیں۔
نادرا نے بھی متعلقہ افراد کے شناختی کارڈ نمبروں کی نشاندہی کی اور جانچ کے لیے فراہم کردہ تصاویر کو ممکنہ طور پر ان افراد سے مطابقت رکھنے والی قرار دیا۔
فرانزک جانچ کا حکم 12 دسمبر 2025 کو پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کی نمائندگی کرنے والے وکیل شبیر حسین گیگیانی کی درخواست پر دیا گیا تھا۔
تاہم فرانزک نتائج پر اختلافات برقرار ہیں۔
شبیر حسین گیگیانی کا مؤقف ہے کہ ویڈیو فوٹیج میں ریڈیو پاکستان کی عمارت پر حملے میں مبینہ طور پر ملوث افراد نظر آ رہے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کے نمائندوں نے ویڈیو کلپس کی صداقت پر سوالات اٹھائے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ مذکورہ ویڈیوز اسی واقعے سے متعلق ہیں جس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
اس طرح فرانزک نتائج پانچ مزید افراد کو مقدمے میں نامزد کرنے کے معاملے میں بنیادی تنازع بن گئے ہیں۔ تاہم وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ نامزد افراد کے خلاف جرم ثابت ہو چکا ہے۔
ریڈیو پاکستان پر حملے کا پس منظر
یہ مقدمہ 10 مئی 2023 کو پشاور میں ہونے والی بدامنی سے متعلق ہے، جو سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی گرفتاری کے بعد شروع ہوئی تھی۔
اسلام آباد میں عمران خان کی گرفتاری کے بعد پاکستان کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔
پشاور میں ان مظاہروں کے دوران ریڈیو پاکستان کی عمارت پر حملہ کیا گیا، جس کے بعد واقعے میں مبینہ طور پر ملوث افراد کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کی گئی۔
واقعے کے تین سال سے زائد عرصے بعد جمع کرائے گئے نئے ضمنی چالان کے ذریعے تحقیقات کا دائرہ پی ٹی آئی کے مزید پانچ افراد تک بڑھا دیا گیا ہے، جن کے نام ابتدائی مقدمے کی دستاویزات میں شامل نہیں تھے۔
ویڈیو شواہد سے متعلق اختلافات اس لیے اہمیت رکھتے ہیں کہ استغاثہ نے نئے ملزمان کی نامزدگی کے لیے فرانزک تجزیے اور ریڈیو پاکستان کے اسٹیشن ڈائریکٹر کے بعد میں ریکارڈ کرائے گئے بیان کو بنیاد بنایا ہے۔
بدھ کے روز سماعت کے دوران شبیر حسین گیگیانی پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کی جانب سے پیش ہوئے، جبکہ سرکاری وکیل منظور عالم خان نے ریاست کی نمائندگی کی۔ ملزمان کی جانب سے ایڈووکیٹ علی زمان عدالت میں پیش ہوئے۔
سہیل آفریدی سے متعلق علیحدہ عدالتی کارروائی
وارنٹ گرفتاری ایسے وقت میں جاری کیے گئے ہیں جب سہیل آفریدی کی مبینہ غیر قانونی حراست یا جبری گمشدگی سے متعلق ایک علیحدہ درخواست پشاور ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔
اس درخواست میں ان کی مبینہ غیر قانونی حراست یا جبری گمشدگی کو چیلنج کیا گیا ہے، جس سے ان کے مقام اور تحویل سے متعلق ایک الگ قانونی معاملہ سامنے آیا ہے۔
انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے اب تک پانچوں نئے نامزد ملزمان کے جرم یا بے گناہی کا فیصلہ نہیں کیا۔
عدالت کا حالیہ حکم صرف ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے سے متعلق ہے تاکہ عدالتی کارروائی میں ان کی پیشی یقینی بنائی جا سکے۔
مقدمے کی آئندہ سماعت 4 نومبر کو ہوگی، جس میں ملزمان کے خلاف مزید قانونی کارروائی پر غور کیے جانے کی توقع ہے۔





